اس صدی میں روئے زمین سے تمام بیماریاں ختم ہو جائیں گی؟

کیا ایسا بھی ممکن ہے کہ نوع انسانی ہمیشہ کیلئے ہر طرح کی بیماریوں سے پاک ہو جائے اور روئے زمین پر بسنے والوں کو کسی خطرناک بیماری کا کوئی خوف نہ رہے ، جی ہاں ایسا ہونا اب ممکن ہے اور سائنسدانوں کی ایک ٹیم اس کو ممکن بنانے کیلئے کوشاں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آئندہ صدی میں انسان بیماریوں سے مکمل طور پر بے فکر ہو جائے گا ، بین الاقوامی تحقیق سے جڑی تنظیم چن زکربرگ کے مطابق اس صدی کے آخر تک روئے زمین سے تمام بیماریاں سو فیصد ختم ہو جائیں گی۔
آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ گوگل کارپوریٹ کے ہیڈ کوارٹر میں ایسی ٹیکنالوجی پر کام شروع کر دیا گیا ہے جس کی مدد سے انسان کو کسی بھی متوقع بیماری کے متعلق پیشگی معلوم ہو جائے گا ، انسان کو قبل از وقت معلوم ہو جائے گا کہ آئندہ دنوں میں اسے کونسا مرض لاحق ہونے والا ہے۔ یوں وہ اس مرض سے بچائو کیلئے احتیاطی تدابیر اخیتار کر کے اور دوا لے کر اس مرض کا شکار ہونے سے ہونے سے قبل ہی اس سے چھٹکارہ حاصل کر لے گا ، ڈاکٹرز کو بآسانی معلوم ہو سکے گا کہ مریض مستقبل میں دل کے دورے ، ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر کے مرض کا شکار ہو سکتا ہے یا نہیں۔
ناکارہ اعضا کو تبدیل کرنے کے حوالے سے بھی سائنس نے کافی مہارت حاصل کر لی ہے ، دنیا کے معروف سائنسدانوں جاپان کے شنیایا ماناکا اور برطانیہ کے جان گرڈن کے طریقہ علاج کی مدد سے نابالغ خلیوں سٹیم سیلز پر کی جانے والی تحقیق کے مطابق اب جسم کے ایسے اعضا کو پھر سے کارآمد اور جاندار بافتوں میں تبدیل کیا جا سکے گا جو ختم یا بیکار ہو چکے ہونگے ، اسی طرح دل اور دماغ کے ناکارہ پٹھوں کو دوبارہ سے فعال بنایا جا سکے گا۔
میدان طب میں ان ناقابل یقین کامیابیوں کو عہد ساز پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جس سے لاکھوں معذور افراد میں جینے کی نئی امید پیدا ہوگئی ہے۔ نیویارک ٹائمز سے منسلک معروف امریکی سائنس رائٹر اور بلاگر کارل زمر کا ماننا ہے کہ زمین مختلف اقسام کے وائرس سے بھری ہوئی ہے ، اس کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص آسمان پر نظر آنے والے تمام ستاروں کو گن کر ایک ملین سے ضرب دے تو بھی شاید ہی ان وائرسز کی تعداد معلوم ہو سکے ، انسان کو لاحق بہت سی بیماریاں انہی وائرسز کی کارستانی ہیں۔ لہذا اب سائنسدان اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ کیوں نہ دنیا میں پھیلے وائرسز کیخلاف یونیورسل ویکسین تیار کی جائے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ حیاتیاتی سائنسدانوں نے اس سلسلے میں ابتدائی کامیابی بھی حاصل کرلی ہے۔
سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے مستقبل میں بنی نوع انسان کے لیے شعبہ طب میں انقلاب آفرین تبدیلیاں پیدا ہوں گی لیکن ان کا اطلاق دنیا کے مختلف خطوں میں مختلف انداز میں ہوگا ، خوشحال طرز زندگی والے معاشروں کی طرح ترقی پذیر ممالک بھی اپنے طرز رہن سہن اور صحت و صفائی کے شعبے میں چند بنیادی تبدیلیاں لا کر اس انقلاب سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
سائنسدانوں کے مطابق دنیا میں اس وقت دو بڑی ایسی بیماریاں ہیں جن کا علاج دریافت نہیں کیا جاسکا تھا لیکن اب سائنس اتنی ترقی کر گئی ہے کہ کینسر اور ایڈز کا علاج بھی دریافت ہونے کو ہے۔
تاہم فوری طور پر اس وقت دنیا کو جس بڑے موذی وائرس کا سامنا ہے وہ کرونا وائرس ہےجس نے پوری دنیا میں خوف پھیلا دیا ہے اور ہزاروں افراد اپنی جان سے چلے گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Rating

Back to top button