اعظم سلیمان کو چیف سیکرٹری کے عہدے سے کیوں ہٹایا گیا؟

تازہ اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت اعلیٰ حکومتی ذمہ داران کی خواہش پرغلط اور غیر قانونی تبادلوں سے انکار، چیف سیکرٹری پنجاب اعظم سلیمان کو عہدے سے ہٹانے کی وجہ بنا.
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ میرٹ پر کام کرنا ہی اعظم سلیمان کو عہدے سے ہٹانے کی بنیادی وجہ بنا. حکومتی ذمہ داران کی طرف سے چیف سیکرٹری پنجاب میجر ریٹائرڈ کو مختلف محکموں کے اہم افراد کے تبادلوں کی ایک فہرست فراہم کی گئی لیکن چیف سیکرٹری اعظم سلیمان نے تبادلوں کو میرٹ اور قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے تبادلوں سے انکار کر دیا. چیف سیکرٹری کی طرف سے غلط تبادلوں سے انکار پر انھیں عہدے سے ہٹادیا گیا. ذرائع کے مطابق اعظم سلیمان کو ہٹانے میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے اہم کردار ادا کیا اور خود اسلام آباد جاکر اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کی منظوری لی. یاد رہے کہ 23 اپریل کوانتہائی طاقتور تصور کیے جانے والے اعظم سلیمان کو چیف سیکرٹری پنجاب کے عہدے سے ہٹایا گیا جس کے بعد وفاقی حکومت نے جواد رفیق ملک کو صوبہ پنجاب کا نیا چیف سیکرٹری مقرر کرتے ہوئے باقاعدہ نوٹیفیکشن جاری کر دیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سابق چیف سیکرٹری پنجاب میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کا تبادلہ کرتے ہوئے ان کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان نے گزشتہ برس نومبر2019ء میں چیف سیکرٹری پنجاب کا عہدہ سنبھالا تھا۔ اعظم سلیمان ڈی ایم جی کے 14 ویں کامن سے تعلق رکھتے ہیں اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیج میٹ ہیں. وہ بطور ڈی سی او ڈی جی خان، ڈی سی او فیصل آباد، ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لاہور، سیکرٹری آبپاشی، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو اور بطور ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کی سروس کا ایک بڑا حصہ پنجاب میں گزرا ہے۔ وفاقی حکومت نے انہیں گزشتہ برس یوسف نسیم کھوکھر کی جگہ چیف سیکرٹری پنجاب تعینات کیا تھا۔ اعظم سلیمان مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں بھی چیف سیکرٹری پنجاب رہ چکے ہیں۔

جواب دیں