حکومت نے اٹارنی جنرل انور منصور خان سے استعفیٰ لے لیا

پاکستان کے اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان کی جانب سے سپریم کورٹ کے ججوں کے بارے میں متنازع بیان سامنے آنے کے بعد حکومت نے ان سے استعفیٰ لے لیا ہے۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس روکنے کے بارے میں سپریم کورٹ میں زیر سماعت درخواستوں پرعدالتی کارروائی کے دوران اعلیٰ عدلیہ کے بارے میں انور منصور خان نے جو الفاظ کہے تھے، اس پر وزیراعظم نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ اُنھوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل کو مستعفی ہونے کے لیے کہا گیا تھا اور مستعفی نہ ہونے کی صورت میں اُنھیں برطرف کرنے کے بارے میں بھی بتا دیا گیا تھا۔
انور منصور خان نے اپنا استعفیٰ 20 فروری کے روزصدر مملکت کو بھجوایا جس میں پاکستان بار کونسل کی طرف سے 19 فروی کی ایک پریس ریلیز کا ذکر بھی کیا گیا ہے جس میں اٹارنی جنرل سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ دراصل اہم مقدمات میں وفاق کی صحیح انداز میں نمائندگی نہ کرنا، ان کی مستعفی ہونے کی وجہ بنا ہے۔
پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمی امجد شاہ کے مطابق پاکستان بار کونسل نے اس وقت کے اٹارنی جنرل انور منصور سے بارہا مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا جب گذشتہ برس سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کیے گئے تھے۔ اعلیٰ عدلیہ کے ان دونوں ججز کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی روکنے سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواستوں کی سماعت کے دوران انور منصور خان نے ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے دس رکنی بیچ پر الزامات عائد کیے تھے جس پر اس بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے اس ضمن میں 24 فروری کو شواہد عدالت میں پیش کرنے یا تحریری معافی مانگنے کے بارے میں حکم دیا ہے۔
وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کے مطابق اٹارنی جنرل کی طرف سے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے بارے میں 18 فروری کو دیے گئے بیان پر حکومت کو تشویش تھی اور حکومت نے ان کے اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے اس متنازع بیان کے بعد حکومت کی جانب سے انور منصور کو مستعفی ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔
گذشتہ روز جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کے بارے میں سپریم کورٹ میں سماعت کے بعد جب میڈیا کے نمائندوں نے وزیر قانون سے پوچھا کہ کیا اٹارنی جنرل نے ججوں کے بارے میں بیان ان کی مرضی سے دیا ہے تو فروغ نسیم نے ظاہر کیا تھا کہ وہ اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔ اُنھوں نے بتایا کہ وزارت قانون کی طرف سے ایک متفرق درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے جس میں اٹارنی جنرل کی جانب سے دس رکنی بینچ میں موجود ججوں پر لگائے گئے الزامات سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل نے ان درخواستوں میں بنائے گئے فریق یعنی صدر، وزیر اعظم اور وزیر قانون کی اجازت کے بغیر ججز کے بارے میں ایسے الفاظ کہے تھے۔ اس متفرق درخواست میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ حکومت اعلیٰ عدلیہ اور ججز کا احترام کرتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق سابق اٹارنی جنرل کی طرف سے استعفیٰ دینے کے باوجود اُنھیں 24 فروری کو عدالت میں پیش ہو کر اپنا موقف دینا ہوگا۔ اٹارنی جنرل کے مستعفی ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی روکنے سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کی سماعت ملتوی ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے چند روز کے بعد ہی انور منصور خان کو ملک کا چیف لا آفیسر یعنی اٹارنی جنرل تعینات کیا تھا۔ انور منصور خان سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے میں ملزم کے وکیل رہے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ ہو یا خیر پختونخوا میں فوج کے زیر انتظام چلنے والے حراستی مراکز سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق کی طرف سے دائر کردہ اپیل کی پیروی بھی انور منصور نے ہی کی تھی۔
اپنے استعفے میں انور منصور خان نے کہا ہے کہ وہ کراچی بار ایسوسی ایشن، سندھ بار ایسوسی یشن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے تاحیات ممبر ہیں اور اس کے علاوہ اُنھوں نے سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل کے طور پر بھی خدمات سرانجام دی ہیں اس لیے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ انور منصور خان نے اپنے استعفے میں صدر مملکت سے درخواست کی ہے کہ ان کا استعفیٰ فوری منظور کیا جائے۔
انور منصور کا مزید کہنا ہے وہ پاکستان بار کونسل کے مطالبے پر مستعفی ہو رہے ہیں، جب اپنی برادری استعفیٰ مانگے تو دینا پڑتا ہے. پاکستان بار نے جسٹس فائز عیسیٰ کے بارے میں ریمارکس پر انور منصور سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔
واضح رہے کہ 19 فروری کے روز پاکستان بار کونسل کے نائب صدرعابد ساقی نے ایک بیان میں قاضی فائز عیسیٰ کیس میں نامناسب بیان اور طرز عمل اختیار کرنے پر اٹارنی جنرل سے غیر مشروط تحریری معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔ قبل ازیں پی بی سی کے بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان بار کونسل عدلیہ کی آزادی اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو نقصان پہنچانے کے کسی بھی حکومتی زیراثر عمل کو برداشت نہیں کرے گی۔ پی بی سی نے کہا تھا کہ اٹارنی جنرل کا عدالت عظمیٰ میں غیرمعمولی رویہ پریشان کن ہے لہٰذا ان کے اور وزیر قانون کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی جائے گی۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو چیلنج کے لیے دائر کی گئی درخواستوں پر سپریم کورٹ میں معاملہ زیر التوا ہے۔ اس کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ و دیگر کے وکیل اپنے دلائل دے چکے ہیں اور اب حکومتی موقف کے لیے اٹارنی جنرل کو دلائل دینے تھے، جس پر انہوں نے 18 فروری کو اپنے دلائل کا آغاز کیا تھا۔
18 فروری کو اپنے دلائل کے پہلے روز ہی صورتحال اس وقت ناخوشگوار ہوگئی تھی جب اٹارنی جنرل نے شعلہ بیانی سے دلائل کا آغاز کیا تھا۔ اٹارنی جنرل نے فل کورٹ کے سامنے ایک بیان دیا تھا، جس پر ججز نے انہیں استثنیٰ دیتے ہوئے بیان سے دستبردار ہونے کا کہا تھا، ساتھ ہی مذکورہ بیان کو ’بلاجواز‘ اور’ انتہائی سنگین‘ قرار دیا تھا۔ اسی روز کی سماعت میں اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ انہیں احساس ہے کہ انہوں نے کچھ ایسا کہا تھا جو عدالتی بینچ کے لیے خوشگوار نہیں تھا، جس کے جواب میں بینچ کے رکن جسٹس مقبول باقر نے ردعمل دیا تھا کہ ’یہ بلاجواز’ تھا۔ساتھ ہی عدالت کے ایک اور رکن جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے تھے کہ انور منصور کو اپنے بیان سے دستبردار ہونا چاہیے۔ تاہم اٹارنی جنرل نے بیان واپس لینے سے انکار کردیا تھا
بعد ازاں 19 فروری کو جسٹس عیسیٰ کے معاملے پر عدالت عظمیٰ میں دوبارہ سماعت ہوئی تھی۔ اس سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ کل آپ نے اتنی بڑی بات کردی ہے، یہ دلائل کا طریقہ کار نہیں، تحریری طور پر اپنا دلائل دیں۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ تحریری دلائل نہیں دے سکتا، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ اٹارنی جنرل نے بینچ کے حوالے سے گزشتہ روز کچھ بیان دیا، اٹارنی جنرل اپنے بیان کے حوالے سے مواد عدالت میں پیش کریں، اگر اٹارنی جنرل کو مواد میسر نہیں آتا تو تحریری معافی مانگیں۔


جواب دیں