براڈ شیٹ سکینڈل کپتان حکومت کے لیے دلدل بن گیا

براڈ شیٹ سکینڈل میں سینیئر حکومتی عہدیداروں پر لگنے والے کرپشن کے الزامات کو دھونے کے لیے ایک سرکاری تحقیقاتی کمیشن بنانے کے باوجود یہ معاملہ حکومت وقت کے لئے ایک دلدل بنتا جارہا ہے جس میں وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر ہر گزرتے دن کے ساتھ دھنستے چلے جارہے ہیں۔
اس حوالے سے تازہ انکشاف یہ ہوا یے کہ وزیراعظم عمران خان سے پاکستان آکر ملاقات کرنے والے برطانوی صحافی ڈیوڈ روز نے براڈ شیٹ کمپنی کے مالک کاوے موسوی سے حکومت پاکستان سے 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز دلوانے میں معاونت فراہم کرنے کے عوض بھاری کمیشن مانگا تھا۔ یہ انکشاف کاوے موسوی نے خود کیا ہے۔ یاد ریے کہ دی میل آن سنڈے سے وابستہ برطانوی صحافی ڈیوڈ روز کی شائع کردہ ایک خبر کے جواب میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے ایک برطانوی عدالت میں ان کے خلاف ہتک عزت کا دعوی دائر کر رکھا یے، اور عدالت نے اس کیس کی ابتدائی سماعت میں یہ ریمارکس دیے تھے کہ ایسا لگتا ہے جیسے یہ خبر شہباز شریف کی ساکھ خراب کرنے کے لئے دی گئی۔ عدالت نے برطانوی اخبار کے وکلا سے اس خبر کے ثبوت مانگ رکھے ہیں۔
دوسری طرف اب یہ معلوم ہوا یے کہ اکتوبر 2019 میں جب کاوے موسوی برطانوی عدالت کا مقرر کردہ 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا ہرجانہ حکومت پاکستان سے حاصل کرنے کے لیے بے تاب تھے تو انہوں نے ڈیوڈ روز سے رابطہ کیا اور انہیں مدد فراہم کرنے کا کہا۔ چنانچہ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈیوڈ روز نے کینسنگٹن کے رائل گارڈن ہوٹل میں وزیر اعظم کے مشیر احتساب شہزاد اکبر اور کاوے موسوی کی نہ صرف پہلی ملاقات کرائی بلکہ اس دوران خود بھی موجود رہے۔ جیو نیوز کو دیے ایک انٹرویو میں کاوے موسوی نے بتایا کہ ‘ڈیوڈ روز نے ان سے کہا کہ وہ شہزاد اکبر کو جانتے ہیں اسلیے میرے گھر پر ہماری بات چیت ہوئی اور بعد میں انہوں نے شہزاد اکبر کے ساتھ ملاقات کا اہتمام کیا’۔
کاوے موسوی کے مطابق ڈیوڈ روز نے ان سے پوچھا کہ اس معاملے میں ان کے فائدے کے لیے کیا ہے۔ وہ پاکستان کے ساتھ معاہدے کی صورت میں موساوی سے کمیشن لے کر اپنے گھر کا مارٹگیج ادا کرنا چاہتے تھے۔ موسوی نے کہا کہ’ہم نے طے کیا کہ میں ڈیوڈ کا 2 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ کا مارٹگیج ادا کردوں گا۔ یعنی ڈیوڈ روز کو حکومت پاکستان سے موسوی کی رقم دلوانے کے عوض دو لاکھ پچاس ہزار پاؤنڈز کی بطور کمیشن ادائیگی کا معاہدہ طے پایا تھا۔
دوسری جانب ڈیوڈ روز نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ کاوے موسوی نے ان سے شہزاد کے ساتھ ملاقات کروانے کا کہا تھا، اور چونکہ میں شہزاد اکبر کو طویل عرصے سے جانتا تھا اس لیے میں رضامند ہوگیا، لیکن انہوں نے کوے کو سفید قرار دینے کے مصداق یہ موقف اختیار کیا کہ جہاں تک میرا تعلق ہے میں صرف ایک دوست کی مدد کررہا تھا۔ لیکن کاوے موسوی کا اصرار یے کہ اگر ان کا حکومت سے تصفیہ ہوجاتا ہے تو اس کیس میں ڈیوڈ کو کمیشن ملنا طے ہوا تھ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ‘ابتدا میں مجھے لگا کہ موساوی مذاق کررہے ہیں لیکن جب انہوں نے دوبارہ اپنی پیشکش دہرائی تو میں نے انہیں بتایا کہ میں اسے قبول نہیں کرسکتا، ڈیوڈ نے دعوی کیا کہ میں نے ملاقات کروانے کے لیے نہ کبھی پیسے مانگے نہ لیے۔
دوسری طرف ایک انٹرویو میں کاوے موساوی نے کہا کہ ڈیوڈ روز نے ان کہ شہزاد اکبر کے ساتھ ملاقات کا اہتمام کیا اور 19 اکتوبر 2019 کو ہونے والی ملاقات میں خود بھی شریک ہوا۔ اس موقع پر مستقبل میں مل کر کام کرنے کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔ کاوے موساوی اور ڈیوڈ روز آکسفورڈ میں ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں اور ایک دوسرے سے ان کی دیرینہ واقفیت ہے۔ موساوی کے مطابق ڈیوڈ روز نے انہیں کہا کہ اگر حکومت پاکستان نے انہیں ادائیگی کردی تو وہ انکے گھر کہ ڈھائی لاکھ پائونڈ رہن کی رقم کا معاملہ حل کرنے کا وعدہ کریں۔ اس پر ہم دونوں باہم راضی ہو گئے تھے۔ پھر ڈیوڈ روز نے شہزاد اکبر سے ان کی ملاقات کروا دی جس میں وہ خود بھی موجود تھے۔ اسکے کچھ دنوں بعد کاوے موساوی اور شہزاد اکبر کے درمیان لندن میں ایک اور ملاقات ہوئی لیکن ڈیوڈ روز اس موقع پر موجود نہ تھے ۔کاوے نے اس ملاقات میں شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے شہزاد اکبر سے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر انکا وقت ضائع کر کے ان کی توہین کی۔ شہزاد اکبر اور کاوے موساوی میں آخری بار برقی پیغام کا تبادلہ 26 اکتوبر 2019 کو ہوا۔ کاوے موساوی کا دعویٰ ہے کہ برقی پیغامات بھیجنے میں اشتعال انگیز رویہ اختیار کر لیا۔ لیکن موساوی کے مطابق ڈیوڈ روز اسکے بعد بھی ان سے مسلسل رابطے میں اور دانہ ڈالنےکی کوشش کرتے رہے۔
اس ضمن میں جب شہزاد اکبر سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا اکتوبر 2019 سے قبل کاوے موسوی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا، ڈیوڈ نے مجھے ان سے ملوایا اور یہ خفیہ ملاقات نہیں تھی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں کسی بھی کمیشن کے معاملے کا کوئی علم نہیں۔ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ڈیوڈ روز ان کے ذاتی دوست ہیں اور وہ انہیں 6 برسوں سے جانتے ہیں۔
خیال رہے کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے تقریبا 20 سال قبل سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کی غیر ملکی جائیدادوں کی تحقیقات کے لیے براڈشیٹ سے معاہدہ کیا تھا۔ دسمبر 2018 میں برطانوی عدالت نے واحد ثالث کے طور پر حکومت پاکستان کو براڈ شیٹ کو 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔ جولائی 2019 میں حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی جو ناکام رہی، ثالثی عدالت کے مطابق پاکستان اور قومی احتساب بیورو نے غلط طور پر براڈ شیٹ کے ساتھ اثاثہ برآمدی کا معاہدہ ختم کیا اور کمپنی کو نقصان کا ہرجانہ ادا کیے جانے کا حکم دیا۔ جس کے بعد براڈ شیٹ مذکورہ رقم کی ادائیگی کے لیے 6 ماہ تک نیب عہدیداروں کے علاوہ اٹارنی جنرل کے ساتھ بات چیت کرتی رہی۔ اکتوبر 2019 میں کاوے موسوی نے 2 کروڑ 20 لاکھ ادائیگی کا مطالبہ کرنے کے لیے شہزاد اکبر سے ملاقات کی جنہوں نے قومی خزانے کا نقصان کم کرنے کے لیے رعایت طلب کی۔ معاملہ عدالت سے باہر حل ہونے میں ناکامی کے بعد کاوے موسی نے ادائیگی پر عملدرآمد کے لیے عدالت سے رجوع کیا جس پر انکی کمپنی دسمبر 2019 میں تھرڈ پارٹی ڈیٹ آرڈر حاصل کرنے میں کامیاب رہی جس نے حکومت پاکستان کو 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر بمع سود براڈ شیٹ کو ادا کرنے پر مجبور کیا۔

جواب دیں