بیرون ممالک سے ملزمان اور لوٹی دولت کی واپسی تقریباً ناممکن

برسرِ اقتدار پاکستان تحریک اںصاف نے حکومت میں آکر پاکستان کی لوٹی ہوئی رقم بیرون ملک سے واپس لانے کا بڑا وعدہ کیا تھا تاہم ہزار کوشش کے باوجود بیرون ملک سے ایک پائی بھی پاکستان کے قومی خزانے میں واپس نہ لائی جا سکی۔ ایک سال گزرنے کے بعد حکومت کو اندازہ ہوا ہے کہ جب تک اس حوالے سے خصوصی قانون سازی نہیں کی جاتی، بیرون ملک سے پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ اس مقصد کے حصول کے ایک خصوصی قانونی مسودہ تیار کیا گیا ہے تاہم قانونی ماہرین کے خیال میں یہ قانون منظور ہونے کے بعد بھی ملزمان کی حوالگی اور لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے کے لئے مزید اقدامات کرنا ہوں گے اور موجودہ حالات میں شاید بہت سے ممالک پاکستان کے ساتھ فوجداری مقدمات میں تعاون پر آمادہ نہ ہوں۔
حال ہی میں پاکستان کی ایک احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی لندن میں جائیداد بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم دیا۔ اسی طرح سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو گرفتار کرکے وطن واپس لانے کے احکامات بھی دیے۔ میاں نواز شریف کے بیٹوں کو بھی اشتہاری قرار دیا گیا کیونکہ ان کے خلاف کسی قسم کی تحقیقات نہیں کی جا سکیں کہ وہ برطانوی شہری ہیں اور پاکستانی قانون کا اطلاق ان پر نہیں ہو سکتا۔ ان معروف شخصیات کے علاوہ بھی کئی شہری پاکستان میں جرم کا ارتکاب کرتے ہیں اور بیرون ملک فرار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح کچھ افراد دوسرے ملکوں میں جرم کرکے واپس پاکستان آ جاتے ہیں لیکن ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی جس میں کئی قانونی کمزوریاں رکاوٹ بنتی ہیں۔ انہی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے پاکستان کی وزارت داخلہ نے قومی اسمبلی میں دوسرے ممالک سے فوجداری معاملات پر قانونی معاونت کا بل پیش کیا ہے۔ جس کے تحت پاکستان میں فوجداری جرائم کے مرتکب وہ افراد جو پاکستان سے باہر کسی دوسرے ملک میں مقیم ہیں ان سے تحقیقات کرنے، ان کے خلاف عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کروانے، سرچ وارنٹ حاصل کرنے اور دستیاب شواہد کو ملک واپس لانے کے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان کی جانب سے اپنے مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے اور لوٹی ہوئی دولت ملک میں واپس لانے کی غرض سے یہ کاوشیں قابل تحسین ہیں لیکن یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ بین الاقوامی قوانین کی رو سے یہ قطعاً پریکٹیکل نہیں کہ ایک ملک اپنی جانب سے قوانین بنا کر دوسرے ملک کو انہیں فالو کرنے کی پابند ٹھہرائے یعنی اگر حکومت پاکستان یا پاکستانی عدالتیں برطانیہ میں کسی پاکستانی کی جائیداد کو سربمہر کرنے کا حکم دے تو حکومت برطانیہ اس فیصلے پر عملدرآمد کی ہرگز پابند نہیں توقتیکہ دونوں ممالک میں اس حوالے سے کوئی باقاعدہ معاہدہ موجود ہو۔ ماہرین کے مطابق اس مجوزہ قانون کے تحت ممالک سے معاہدے تبھی کیے جا سکیں گے جب وہ ممالک بھی باہمی تعاون کے طلب گار ہوں گے۔ موجودہ حالات میں شاید ہی کسی ملک کو پاکستان میں کسی فوجداری مقدمے میں کسی فرد سے تحقیقات کی ضرورت ہوگی۔
سابق وفاقی وزیر قانون محمود بشیر ورک کے مطابق باہمی قانونی معاونت کے جو معاہدے ہوں گے وہ معاہدے بھی تب ہی ہو سکیں گے جب ان ملکوں میں بھی اسی طرف کا قانون موجود ہوگا۔ جس ملک میں باہمی قانونی معاونت کا قانون موجود نہیں ہوگا اس کے ساتھ تعاون کرنا مشکل ہے۔ اس قانون کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی قانون دوسرے ملکوں میں اپلائی نہیں ہو سکتا اور نہ ہی وہ ہمارے ماتحت ہیں کہ ہمارے قانون کی روشنی میں اپنے قوانین بدل دیں گے۔ اس قانون کے پاس ہونے کے بعد بھی کئی مراحل سے گزرنا پڑے گا۔
معروف ماہر قانون بابر ستار نے ملزمان کی حوالگی کے حوالے سے نئے قانون کو سراہا ہے ۔ انہوں نے سابق فوجی آمر پرویز مشرف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ماضی میں تو مشرف لوگوں کو اٹھا کر امریکہ کے حوالے کرتے دیتے تھے اور کتاب میں لکھ کر فخریہ انداز میں بتاتے تھے کہ ہاں میں نے لوگوں کو امریکہ کے حوالے کیا۔ اب اگر ملزمان کی حوالگی کے حوالے سے کوئی قانون آ رہا ہے تو یہ اچھی بات ہے کم از کم دائرہ کار تو وضع ہونا چاہیے۔ مجوزہ قانون کی محدودیت کے حوالے سے بابر ستار کا کہنا تھا کہ اس قانون کے تحت ہر ملک کے ساتھ الگ الگ معاہدے ہوں گے اور ان معاہدوں میں مقامی قوانین کو سامنے رکھا جائے گا اور اگر امریکہ میں جائیداد ضبطگی کا قانون نہیں ہوگا تو انہیں بھی یہاں پر جائیداد ضبط کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

جواب دیں