تبلیغی جماعت کا رائیونڈ مرکز کرونا پھیلاؤ کا مرکز کیسے بنا؟

رائیونڈ کے تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے والے بیشتر افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق اور ان میں سے کچھ لوگوں کی ہلاکت کے بعد اب حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ تبلیغی جماعت کا مرکز دراصل ملک میں کرونا وائرس پھیلانے کا مرکز بن گیا ہے جس کے بعد اسے سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس وقت بھی تبلیغی جماعت کے رائیونڈ مرکز میں 2200 کے قریب مقامی اور غیر ملکی افراد موجود ہیں۔
کراچی اور ایبٹ آباد میں رائیونڈ تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے والے لوگوں کی ہلاکت اور ملک کے مختلف شہروں میں تبلیغی جماعت کے اراکین میں کرونا کی تصدیق کے بعد حکومت نے رائیونڈ تبلیغی مرکز کو سیل اوررائیونڈ سٹی کو مکمل لاک ڈاؤن کرتے ہوئے تبلیغی جماعت کی ٹولیوں کو ان کے مراکز تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رائیونڈ سٹی کو مکمل لاک ڈاؤن کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہرمیں موجود تمام جنرل سٹورز اور دکانیں بند کروا دی ہیں جبکہ لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے سے روک دیا گیا ہے۔
اسلام آباد،حیدر آباد، سکھر، لاہور،لیہ، بنوں، کوئٹہ اور پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں تبلیغی جماعت کے کارکنان یا تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے والے افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد تبلیغی جماعت کی ٹولیوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی گئی ہے اور انھیں ان کے مراکز تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سندھ اور پنجاب میں سیکڑوں کارکنان کو قرنطینہ منتقل کیا گیا ہے جبکہ تبلیغی مراکز کے باہر پہرہ دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد کے نواحی علاقے بارہ کہو میں مسجد میں ٹھہرے تبلیغی جماعت کے اراکین میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد پورے علاقے کو سیل کر دیا گیا تھا، بعد ازاں لیہ میں تبلیغی جماعت کے اراکین میں مشتبہ کرونا کیسز سامنے آنے کے بعد 200 سے زائد افراد کو مرکز میں قرنطینہ کر دیا گیا تھا۔
حیدرآباد میں واقع نور مسجد میں ایک غیر ملکی تبلیغی رکن میں کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد مسجد کو قرنطینہ قرار دیتے ہوئے تمام افراد کو وہاں سے باہر نکلنے سے روک دیا گیا تھا۔ تاہم اب مرکز میں موجود 94 سے زائد افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔ حیدرآباد میں تبلیغی جماعت سے وابستہ 94 سےزائد افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد تبلیغی جماعت کے کارکنان کو ان کے مراکز تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے آئی جی سندھ کی طرف سے تمام ضلعی پولیس افسران کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ایبٹ آباد کے رہائشی تبلیغی جماعت سے وابستہ آرمی کے ریٹائرڈ میجر محمد الیاس جان کی بازی ہار چکے ہیں 78 سالہ میجر ریٹائرڈ الیاس بیرون ملک سے آئی ہوئی تبلیغی جماعت کے ساتھ گذشتہ 15 دنوں سے مختلف مساجد کے دورے کر رہے تھے اور اسی دوران وہ کرونا وائرس کا شکار ہوئے۔ اس سے پہلے انہوں نے لاہور میں 11 سے 15 مارچ تک ہونے والے سالانہ تبلیغی اجتماع میں بھی شرکت کی تھی۔ جبکہ محکمہ صحت سندھ کے مطابق رائے ونڈ اجتماع میں وائرس کا شکار ہونے والے دو افراد کی 30مارچ کو کراچی میں موت ہوگئی تھی انھوں نے بھی رائیونڈ میں منعقدہ تبلیغی اجتماع میں شرکت کی تھی جہاں سے وہ کرونا وائرس کا شکار ہو کر کراچی لوٹے تھے۔
جس وقت پاکستان میں کرونا وائرس نے اولین دستک دی عین انہی دنوں لاہور میں تبلیغی جماعت کا اجتماع منعقد ہو رہا تھا۔ حکومت نے اجتماع کے منتظمین کو اسکے انعقاد سے روک دیا تھا۔ تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ منتظمین نے مولانا طارق جمیل کے ذریعہ وزیر اعظم عمران خان سے اجتماع کے انعقاد کی اجازت لی جس کے بعد لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے مجبورا خاموشی اختیار کر لی۔ منتظمین کی بلاوجہ کی ضد کی وجہ سے تبلیغی جماعت کے 11 سے 15 مارچ تک رائیونڈ میں منعقدہ بین الاقوامی تبلیغی اجتماع میں آٹھ لاکھ مقامی اور غیر ملکی افراد نے شرکت کی تھی لیکن اجتماع میں شریک افراد کی سکریننگ نہیں ہوئی جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر اجتماع میں شریک سینکڑوں افراد بھی کرونا سے متاثر ہوئے تو وہ اب تک لاکھوں افراد میں کرونا کے پھیلاؤ کا سبب بن چکے ہوں گے۔
رائیونڈ کے سالانہ اجتماع میں شریک تبلیغی جماعت کے کارکنوں میں کرونا پائے جانے کے بعد رائیونڈ سٹی کو مکمل لاک ڈاؤن کر کے رائیونڈ شہر کے داخلی وخارجی راستوں پرپاک فوج اور رینجر کے جوان تعینات کردئیے گئے ہیں جبکہ شہر میں پولیس اور رینجرز کا شہر بھر میں گشت جاری ہے اور کسی بھی شخص کو اپنے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ تبلیغی مرکز کو قرنطینہ قرار دے دیا گیا ہے ذرائع کے مطابق تبلیغی مرکزمیں تاحال600 غیر ملکیوں سمیت 2200 سے زائد افراد موجود ہیں۔ یاد رہے کہ 30مارچ کے روز رائیونڈ تبلیغی مرکز میں 23 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد انہیں قرنطینہ منتقل کردیا گیا تھا۔ بعدازاں رائیونڈ سے متعدد مشتبہ افراد کوبھی رینجرز کی نگرانی میں کالاشاہ کاکو قرنطینہ سنٹر منتقل کردیا گیا تھا، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، گورنمنٹ کالج یورنیورسٹی کالاشاہ کاکو کیمپس اور جوڈیشنل کیمپلیکس میں کروانا وائرس کے مریضوں کیلئے قرنطینہ سنٹر اور آئسویشن سنٹر قائم کیاگیا ہے جہاں حکومت پنجاب کی جانب سے تمام بنیادی ضروریات فراہم کی گئیں ہیں۔ قرنطینہ سنٹر میں لائے جانیوالے افراد کو 14روز تک رکھا جائیگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Rating

Back to top button