حکومت کاوزیر خزانہ حفیظ شیخ کو عہدے سے ہٹانےکا فیصلہ

حکومت نے وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے حفیظ شیخ کو وزیر خزانہ کا عہدہ چھوڑنےکی ہدایت کردی ہے۔ذرائع کا کہنا ہےکہ حفیظ شیخ کی جگہ حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا قلمدان دیا جائےگا۔
ذرائع کے مطابق حفیظ شیخ آج اپنے دفتر بھی نہیں آئے جب کہ ان کو ہٹانےکا نوٹیفکیشن بھی جلد جاری کردیا جائےگا۔ذرائع نے بتایا ہےکہ معاشی پالیسیوں اور اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کے حوالے سے کابینہ میں تحفظات پائے جاتے ہیں۔
دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما سینیٹر شبلی فراز نے عبدالحفیظ شیخ کو وزیرخزانہ کے عہدے سے ہٹانے کی تصدیق کردی۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز کا کہنا تھا کہ عبدالحفیظ شیخ اب وزیرخزانہ نہیں رہے، و زیراعظم عمران خان نے نئی ٹیم لانے کا فیصلہ کیا ہے اور انہوں نے فنانس کی نئی ٹیم تشکیل دی ہے۔شبلی فرازکا کہنا تھا کہ ملکی حقائق کو مدنظر رکھ کرفیصلے کیے جاتے ہیں،حماد اظہر اب فنانس ٹیم کی سربراہی کریں گے، غریب لوگوں کو ریلیف دینا ہے، جب کوئی نیا بندا آتا ہے تو نئی سوچ کے ساتھ آتا ہے۔
دوسری جانب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزرداری نے حفیظ شیخ کو وزیرخزانہ کے عہدے سے ہٹانے کو پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ( پی ڈی ایم) کی کامیابی قرار دے دیا۔ٹوئٹر پر اپنے ردعمل میں بلاول بھٹوزرداری کا کہنا ہےکہ وزیرخزانہ کو عہدے سے ہٹانا پی ڈی ایم کی کامیابی ہے،حفیظ شیخ کو عہدے پر رہنےکے لیے سینیٹ الیکشن جیتنا ضروری تھا۔ بلاول بھٹوزرداری کا کہنا ہےکہ سینیٹ الیکشن میں حفیظ شیخ کی شکست نے ان کا عہدے پر رہنا ناممکن بنایا۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے اعتراف کرلیا کہ ناکام پالیسیوں سے افراط زر میں اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے یہ اقدام 3 مارچ کو سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد کی جنرل نشست پر پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں عبدالحفیظ شیخ کی شکست کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا ہے۔لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد قاسم خان نے سینیٹ انتخاب ہارنے کے باوجود وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو کابینہ کے غیر منتخب رکن کی حیثیت سے رکھنے پر سوال اٹھایا تھا۔چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ‘حقیقی جمہوری ممالک میں لوگ عوامی دفاتر سے (اگر وہ) منتخب نہیں ہوتے تو رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے دیتے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی بہتری کے لیے عمل ضروری ہے صرف الفاظ نہیں۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ ‘ایسا لگتا ہے کہ حفیظ شیخ اپنا بستہ تھامے رہیں گے اور کام ختم ہونے کے بعد ہی وہاں سے جائیں گے’۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو، جو پہلے وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ کے عہدے پر فائز تھے، گزشتہ سال دسمبر میں وزیر خزانہ مقرر کیا گیا تھا۔وزیراعظم نے آئین کی دفعہ 91 کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے عبدالحفیظ شیخ کو وفاقی وزیر بنانے کی منظوری دی تھی، آئین کے تحت وزیراعظم کو 6 ماہ کے لیے کسی بھی شخص کو وفاقی وزیر بنانے کا اختیار حاصل ہے۔حالانکہ عبدالحفیظ شیخ قومی اسمبلی کے رکن نہیں تاہم آئین کی دفعہ 91 کی شق 9 کے تحت کوئی فرد جو منتخب نہ ہو وہ 6 ماہ کے لیے وزیر کے منصب پر فائز ہوسکتا ہے اور دوبارہ وزیر بننے کے لیے اسے قومی اسمبلی یا سینیٹ کا رکن منتخب ہونا پڑے گا۔
عبدالحفیظ شیخ پارلیمان کا رکن نہ ہونے کی وجہ سے وزیر نہیں بن سکے تھے لیکن 7 دسمبر کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے نے حکومت کو انہیں مشیر سے وزیر بنانے پر مجبور کردیا۔اسلام ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق عبدالحفیظ شیخ کابینہ کمیٹیوں کے رکن نہیں رہ سکتے تھے، عدالت عالیہ نے کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کی تشکیل غیر قانونی قرار دی تھی اور قرار دیا تھا کہ مشیر خزانہ حفیظ شیخ کابینہ کمیٹی کے سربراہ نہیں بن سکتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Rating

Back to top button