حکومت کو سب سے بڑا خطرہ خود عمران خان سے ہے

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ ہمیشہ کی طرح وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حکومت کیلئے اصل خطرہ خود عمران خان کے اپنے فیصلے ہیں جو ایک دن اس کا بیڑہ غرق کرنے کا باعث بنیں گے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی سے تحریک انصاف کے گیارہ ارکان اور قومی اسمبلی کے تین اراکین نے جہانگیر ترین کے خلاف حکومتی کارروائی کے آغاز کے بعد کھل کر انکی حمایت کا اعلان کر دیا ہے جس سے کپتان کی مرکز اور پنجاب میں حکومتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ حامد میر یاد دلاتے ہیں کہ 7 اپریل کو جہانگیر ترین کی پیشی کے موقع پر عدالت کے باہر ان کے ساتھ کھڑے ہو کر وفاقی حکومت پر تنقید کرنے والوں میں پنجاب کے وزیر نعمان لنگڑیال سمیت تین صوبائی مشیر بھی شامل تھے۔ اس۔موقع پر رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض نے دعویٰ کیا کہ آنے والے دنوں میں تحریک انصاف کے مزید ارکان قومی و صوبائی اسمبلی جہانگیر ترین کے ساتھ کھڑے ہونے والے ہیں۔ حامد میر کہتے ہیں کہ عمران خان اور ان کے وزراء پی ڈی ایم کے اندرونی بحران پر خوش نہ ہوں بلکہ تحریک انصاف کے اندرونی بحران کی فکر کریں کیونکہ یہ بحران شدید سے شدید تر ہو سکتا ہے۔انکا کہنا ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نہیں بلکہ بار بار کہا یے کہ عمران کو اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ عمران خان کو خطرہ ہے تو عمران خان سے ہے اور میں اپنی اس موقف پر اب بھی قائم ہوں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم سے ایک اہم پارٹی علیحدہ ہو چکی جبکہ دو بڑی جماعتوں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی اب ببھی جاری ہے، لیکن ابھی پی ڈی ایم ختم نہیں ہوئی۔ پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کو چھوڑ بھی دیا تو مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) اس اتحاد کو قائم رکھیں گی۔ پاکستان میں بننے والے سیاسی اتحادوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ بہت سے اتحادوں میں سے سیاسی جماعتیں نکلتی اور شامل ہوتی رہیں لیکن یہ اتحاد کئی سال تک قائم رہے۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے خلاف ایم آر ڈی یس تحریک بحالی جمہوریت کے نام سے 6 فروری 1981 کو ایک اتحاد قائم کرنے کا اعلان ہوا جس میں وہ پارٹیاں بھی شامل تھیں جنہوں نے 1977میں پاکستان قومی اتحاد کے پلیٹ فارم سے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک چلائی تھی۔
ایم آر ڈی میں مسلم کانفرنس کے سربراہ اور آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عبدالقیوم خان بڑے سرگرم تھے لیکن اس اتحاد کے قیام کے چند ہفتوں بعد 2مارچ 1981کو پی آئی اے کا طیارہ اغوا کرکے کابل پہنچا دیا گیا۔ میر مرتضیٰ بھٹو کی تنظیم ’’الذوالفقار‘‘ نے اس ہائی جیکنگ کی ذمہ داری قبول کی۔ اس وقت اجمل خٹک بھی کابل میں جلاوطن تھے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ پاکستان واپس آنے کے بعد اجمل خٹک نے مجھے ایک انٹرویو میں بتایا کہ میر مرتضیٰ بھٹو کو ہائی جیکنگ کا کوئی علم نہ تھا۔ انہیں اس وقت پتہ چلا جب پی آئی اے کا طیارہ کابل پہنچ گیا اور پھر اپنے کچھ ساتھیوں کے کہنے پر انہوں نے ذمہ داری قبول کرلی۔ ذمہ داری قبول کرنے کے بعد پاکستان میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی پکڑدھکڑ شروع ہو گئی۔ سردار عبدالقیوم خان نے ہائی جیکنگ کو جواز بنا کر ایم آر ڈی کو توڑنے کا اعلان کر دیا لیکن پیپلز پارٹی، ولی خان کی این ڈی پی، مولانا شاہ احمد نورانی کی جے یو پی، ملک محمد قاسم اور خواجہ خیر الدین کی مسلم لیگ، اصغر خان کی تحریک استقلال، مولانا فضل الرحمٰن کی جے یو آئی، میر غوث بخش بزنجو کی پی این پی، نوابزادہ نصراللہ خان کی پی ڈی پی، معراج محمد خان کی قومی محاذ آزادی، فتح یاب علی خان کی مزدور کسان پارٹی اور شیر باز مزاری کی پی ڈی پی نے ایم آر ڈی کو قائم رکھنے کا فیصلہ کیا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق نے ایم آر ڈی کو کمزور کرنے کیلئے سندھو دیش کے حامی جی ایم سید کی حمایت حاصل کی لیکن 1983میں ایم آر ڈی کی تحریک اپنے جوبن پر پہنچی اور 1988تک ایم آر ڈی قائم رہی۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں کچھ سیاسی اتحاد توڑنے اور کچھ اتحاد بنانے میں خفیہ اداروں کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ پی ڈی ایم کے قیام کو ابھی چھ ماہ ہوئے ہیں، اے این پی کی اس اتحاد سے علیحدگی اہم واقعہ ہے لیکن ابھی فوری طور پر پی ڈی ایم کے خاتمے کا امکان نظر نہیں آرہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Rating

Back to top button