خانہ کعبہ کی بندش پر شاہ سلمان کے خلاف بغاوت ناکام

سعودی حکومت نے بغاوت کی کوشش کرنے کے الزام میں سابق ولی عہد اورسعودی فرمانروا شاہ سلمان کے بھائی اور بھتیجےسمیت شاہی خاندان کے تین سینئر افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ بغاوت کی تازہ ترین کوشش کورونا وائرس کے پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر خانہ کعبہ کو طواف کے لیے بند کرنے کے ایشو پر کی گئی جسے کامیابی سے ناکام بنا دیا گیا۔
حراست میں لیے گئے تین افراد میں دو شخصیات انتہائی اہم اور بااثر ہیں جن میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے چھوٹے بھائی شہزادہ احمد بن عبدالعزیز اور سابق ولی عہد بھتیجے شہزادہ محمد بن نائف بھی شامل ہیں۔ حراست میں لیے جانے والے محمد بن نائف سعودی عرب کے وزیر داخلہ بھی رہ چکے ہیں جنہیں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے 2017 میں برطرف کرکے گھر میں نظربند کیا تھا۔
یاد رہے کہ ان شخصیات کو ایک ہوٹل میں قید کر کے ان سے اربوں ڈالر رقم وصول کی گئی تھی جو انہوں نے مبینہ طور پر کرپشن کرکے کمائی تھی۔ تینوں شخصیات کو جمعہ کی صبح حراست میں لیا گیا۔
خیال رہے کہ سنہ 2017 میں محمد بن سلمان کے احکامات پر سعودی شاہی خاندان کے درجنوں اراکین، وزراء اور کاروباری شخصیات کو گرفتار کرکے ’رٹز-کارلٹن ہوٹل‘ تک محدود کر دیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق جمعے کے روز شاہی اراکین کو ان کے گھروں سے سعودی گارڈز نے حراست میں لیا جنہوں نے چہرے پر ماسک اور سیاہ رنگ کا لباس پہن رکھا تھا۔
یاد رہے کہ محمد بن سلمان کو سنہ 2016 میں اس وقت عالمی پذیرائی ملی جب انہوں نے قدامت پسند ملک سعودی عرب میں متعدد لبرل اقتصادی اور سماجی اصلاحات کرنے کا عزم کیا اور اپنے ملک میں عورتوں کو آزادی دینے کا فیصلہ کیا جس کے بعد انہیں ڈرائیونگ کرنے کی اجازت بھی مل گئی۔
تاہم شاہ سلمان اپنے آزاد خیالی ایجنڈے کی وجہ سے اب تک متعدد تنازعات کی زد میں آ چکے ہیں جن میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کا ترکی کے شہر استنبول میں موجود سعودی سفارت خانے میں قتل بھی شامل ہے۔
سعودی شاہ سلمان کے خلاف بغاوت کی کوشش کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی ان کا تختہ الٹنے کی دو کوششیں ناکام بنائی جا چکی ہیں۔ ایسی ہی ایک کوشش میں شہزادہ سلمان کے قتل ہونے کی افواہیں بھی اڑی تھیں جس کے بعد وہ کچھ ماہ منظر عام پر نہیں آئے اور یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ باغیوں کے حملے میں شدید زخمی ہوئے ہیں۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان گرفتاریوں سے ریاست کے حقیقی حکمرانوں کی طاقت مزید مستحکم ہونے کا عندیہ ملتا ہے۔ فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں بتایا گیا ان حراستوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی مخالفت کے آخری راستوں کو مسدود کردیا ہے۔ امریکی اخبار نے بتایا کہ سعودی شاہی عدالت نے ماضی میں تخت کے ممکنہ دعویدار رہنے والے 2 افراد پر ’شاہ اور ولی عہد کو ہٹانے کے لیے بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے‘ کا الزام عائد کیا ہے اور انہیں تا عمر قید اور سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ نیویارک ٹائمز نے بھی حراست میں لینے کی رپورٹ دی جس میں بتایا گیا کہ شہزادہ محمد بن نائف کے چھوٹے بھائی کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
مذکورہ معاملے پر سعودی حکام نے فوری طور پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکارکیا ہے۔ حالیہ حراستیں ولی عہد محمد بن سلمان کے کریک ڈاؤن کی تازہ کڑی ہیں جنہوں نے نمایاں مذہبی رہنماؤں اور ایکٹیویسٹس کے ساتھ ساتھ شہزادوں اور کاروباری افراد کو حراست میں لے کر اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔ شہزادہ احمد بن عبدالعزیز کی عمر 70 کے عشرے میں ہے جو سعودی صحافی جمال خاشقجی کے اسکینڈل کے بعد لندن سے واپس سعودی عرب آگئے تھے جسے ان کی جانب سے بادشاہت کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔ اکتوبر 2018 میں لندن میں اپنی واپسی سے قبل وہ سعودی شاہی خاندان کے خلاف یمن کے تنازع پر ایک مظاہرے حوالے سے دیے گئے ایک بیان پر تنازع کا شکار ہوگئے تھے۔ سوشل میڈیا پر اس بیان کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’اس سے خاندان کا کیا لینا دینا، وہ افراد ذمہ دار ہیں، بادشاہ اور ولی عہد‘۔
دوسری جانب شہزادہ محمد بن نائف سابق ولی عہد اور سابق وزیر داخلہ ہیں جنہیں موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان نے عرب دنیا کی سب سے طاقتور بادشاہت کا جانشین بننے کے لیے نکال باہر کیا تھا۔ اس حوالے سے اس وقت مغربی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ برطرف شہزادے کو گھر میں نظر بند کردیا گیا ہے تاہم اس دعوے کو سعودی حکام نے سختی سے مسترد کردیا تھا۔
