خود ساختہ تنہائی کے دوران ملالہ یوسفزئی نے بال کاٹ لیے

امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی دنیا کی کم عمر ترین پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی بھی کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ان دنوں لندن میں خود ساختہ تنہائی یعنی سیلف آئیسولیشن میں ہیں۔
سیلف آئسیولیشن میں خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کے دوران ملالہ نے اپنے بال کاٹ لیے اور بالوں کے نئے اسٹائل کے ساتھ اپنی تصویر انسٹاگرام پر پوسٹ کردیں۔ ملالہ نے اپنی پوسٹ میں معروف امریکی اداکار اور ہالی وڈ کے ہیئر ڈریسر جوناتھن وین نیس کو بھی ٹیگ کیا ہے۔ اپنی پوسٹ میں ملالہ نے لکھا کہ ‘جوناتھن نے کہا تھا کہ آئسولیشن کے دوران اپنا حلیہ تبدیل کرنے کا تجربہ مت کریں لیکن میں نے اپنے سامنے کے بال خود کاٹ لیے ہیں ‘۔

ملالہ نے جوناتھن کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ میں نے اپنے بال کیسے کاٹے ہیں؟ جس پر جوناتھن نے ملالہ کے ہیئر اسٹائل کو سراہتے ہوئے لکھا ہے کہ ‘تم نے تو کمال کردیا ہے’۔ ملالہ کے نئے ہیئر اسٹائل کو جوناتھن کے علاوہ دیگر لوگوں نے بھی پسند کیا ہے اور سوشل میڈیا پر اس کو سراہا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ برطانیہ آج کل کرونا وائرس کے شدید حملے کی زد میں ہے جہاں ہزاروں ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور ملالہ کی طرح لاکھوں لوگ سیلف آئسولیشن میں چلے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ ملالہ یوسف زئی خود پر ہونے والے طالبان کے حملے کے بعد علاج کی غرض سے برطانیہ منتقل ہوگئی تھیں اور تب سے وہ اپنے خاندان کے ساتھ وہیں رہائش پذیر ہیں۔ اب ملالہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔ رجعت پسند حلقوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر ملالہ یوسفزئی اکثر تنقید کی زد میں رہتی ہیں تاہم پڑھے لکھے اور باشعور لوگ انہیں پاکستان کا فخر سمجھتے ہیں۔
یورپی ممالک کے عوام نے ان دنوں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے خود ساختہ تنہائی اختیار کی ہوئی ہے۔گذشتہ ہفتے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں ملالہ یوسفزئی نے لکھا تھا کہ’ وہ باہر جانے اور دوستوں سے ملنے کو بہت شدت سے مس کررہی ہیں’ ۔ ملالہ کا کہنا تھا ’مجھے معلوم ہے کہ بہت سے طلبہ اسکول جانا چاہتے ہیں لیکن ایدے حالات میں ہم گھر پر رہ کر بھی پڑھ سکتے ہیں اور بہت سی دیگر مثبت سرگرمیاں بھی کرسکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Rating

Back to top button