را کا سابق چیف ISI کے سابق چیف کے دفاع میں سامنے آگیا

بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ اور جنرل اسد درانی کے شریک مصنف اے ایس دلت نے پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اسد درانی کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم دونوں نے نیک نیتی سے پاک بھارت دشمنی ختم کروانے کے لئے ایک مشترکہ کتاب لکھی تھی لیکن اس کے بعد اسد درانی کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا یے وہ قابل افسوس ہے۔ یاد رہے کہ اس کتاب کی اشاعت کے بعد پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے جنرل اسد درانی پر بھارتی خفیہ ایجنسی کے ساتھ رابطہ رکھنے کا الزام عائد کر دیا ہے۔
بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالسز ونگ یعنی را کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دُلت کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات پر بہت افسوس ہے کہ انٹر سروسز انٹیلیجنس یا آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کے ساتھ اپنے ملک پاکستان میں اچھاسلوک نہیں ہوا اور ان پر۔الزامات لگائے جا ریے ہیں۔ ان کے بقول پہلی بار دو ملکوں کے انٹیلیجنس افسروں نے مل کر ایک کتاب لکھی۔ انکا کہنا تھا کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ بھارت میں اصلی جمہوریت ہونے کی وجہ سے انہیں اسد درانی جیسی کسی انتقامی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ امرجیت سنگھ دُلت کی بجائے اے ایس دُلت کے نام سے مشہور سابق ‘را’ چیف اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی نے ‘دا سپائی کرانیکلز: را آئی ایس آئی اینڈ دا الیوژن آف پیس’ نامی کتاب مل کر لکھی ہے۔پاکستانی وزارت دفاع کا ماننا ہے کہ متذکرہ کتاب میں قومی سلامتی کے منافی مواد موجود ہے اور اسکا متن آفیشل سیکرٹس ایکٹ 1923 کی بعض شقوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ وزارت دفاع نے رواں برس 23 جنوری 2021 کو اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے بارے میں دائر درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں جواب جمع کرا دیا تھا جس میں نہ صرف ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کی گئی بلکہ انہیں بھارتی ایجنٹ اور غدار تک قرار دے ڈالا ہے۔
وزارت دفاع کے جواب میں کہا گیا تھا کہ اسد درانی 2008 سے دشمن عناصر بالخصوص بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ سے رابطوں میں رہے، انہوں نے ایسی سرگرمیوں سے باز رہنے کا بیان حلفی بھی جمع کرایا لیکن تاحال اس پر عمل درآمد نہیں کیا، اس لیے اسد درانی کا نام ای سی ایل میں شامل کرنا بدنیتی پر مبنی نہیں ہے۔ اسد درانی 32 سال تک پاکستانی فوج کا حصہ رہے اور اہم اور حساس عہدوں پر تعینات رہے ہیں، اس لیے ان پر سفری پابندی ضروری امر ہے۔ اسد درانی کا نام ای اسی ایل سے نکالنے کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے 12 فروری کو فیصلہ متوقع تھا لیکن بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر جج نے اس کیس سے دستبرداری اختیار کرلی جس سے ان خدشات کو تقویت ملی کہ درانی کو سزا دلوانے کے لئے عدلیہ پر بھی شدید دبائو ہے۔’
ایک حالیہ انٹرویو میں جب اے ایس دُلت سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہوا کہ پاکستان میں اسد درانی کو کارروائی کا سامنا کرنا پڑا اور آپ کے خلاف ایسی کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ میری خوش قسمتی یہ ہے کہ بھارت میں جمہوریت ہے۔ میں نے کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ میں پہلا بھارتی نہیں ہوں جس نے کسی پاکستانی کے ساتھ مل کر کتاب لکھی ہو۔ پہلے بھی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مگر یہ بات ہے کہ پہلی بار انٹیلیجنس افسروں نے مل کر کتاب لکھی ہے’۔ دُلت نے کہا کہ میرا اور اسد درانی کا مل کر کتاب لکھنے کا مقصد یہ بتانا تھا کہ بھارت اور پاکستان کو مل کر آگے چلنے کی ضرورت ہے۔ ‘کتاب لکھنے کا آئیڈیا یہی تھا کہ بھارت اور پاکستان کو مل کر چلنا چاہیے۔ جنرل اسد درانی اور میری سوچ یہی تھی کہ کتاب منظر عام پر آنے کے بعد شاید کوئی ہماری سوچ کے ساتھ اتفاق کرے گا اور لوگ آگے چلنے کے لیے تیار ہوں گے۔ انہون نے کہا۔کہ ‘اسد درانی کا عزم ہے کہ بھارت کے ساتھ بات چیت ہونی چاہیے۔ میں بھی یہی سوچتا ہوں۔ وہ مجھ سے ہمیشہ کہتے ہیں کہ تم دائمی امید پرست ہو اور میں حقیقت پسند ہوں۔ ہم دونوں کی رائے ایک جیسی ہے۔ جو اُن کے ساتھ پاکستان میں ہوا اُس پر مجھے بہت افسوس ہوتا ہے۔
را کے سابق سربراہ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ اگر دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی مسئلہ کشمیر ہے تو بات چیت کی شروعات اسی مسئلے سے ہونی چاہیے۔بھارت اور پاکستان کی بات چیت کبھی رکنی نہیں چاہیے۔ ہمیں رشتوں کی مضبوطی کے لیے کام کرنا چاہیے اور ہمیشہ ایک دوسرے سے بات کرتے رہنا چاہیے۔ اگر بنیادی مسئلہ کشمیر ہے تو ہم کشمیر کو ہی ٹھیک کیوں نہ کریں۔ وہیں سے شروعات ہو۔دُلت کے بقول جب بات چیت شروع ہوگی تو کئی چیزیں حل ہو سکتی ہیں۔ دخل اندازی اور عسکریت پسندی سے کشمیر میں بربادی ہوئی ہے۔ پاکستان کو بھی سوچنا چاہیے کہ کب تک آپ نے کشمیر کو برباد کرنا ہے۔ اے ایس دُلت نے کہا کہ جب بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت ہوتی ہے تو کشمیری خوش ہو جاتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اب ان کو کوئی راحت ملے گی۔ اب جنگ کی کوئی بات نہیں کرتا ہے۔ دونوں ملکوں کے لوگ سمجھتے ہیں کہ جنگ تو پاگل پن ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اگر بات چیت کی شروعات کرنی ہے تو خان صاحب دہلی آئیں۔’
سابق ‘را’ چیف نے کشمیر کو سیاسی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اسے پانچ اگست 2019 کو چھینا گیا ریاستی درجہ واپس دینے کی بھی وکالت کی۔’انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے بھارت کو کوئی خاص فائدہ نہیں ملا کیونکہ دفعہ 370 میں کچھ خاص بچا نہیں تھا، یہ دفعہ کھوکھلی ہو چکی تھی۔ بی جے پی کا ایجنڈا تھا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنا ہے، انہوں نے اپنا ایجنڈا پورا کیا۔’اس کی منسوخی سے کشمیر میں مایوسی آئی ہے۔ کشمیری سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ ٹھیک نہیں ہوا ہے۔ وہ اس کو ایک قسم کی غداری مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں دفعہ 370 کی منسوخی سے کوئی خوش نہیں ہے۔ لوگوں میں ناراضگی ہے، زیادہ تر لوگ مایوس ہیں اور وہ سوچتے ہیں کہ ہمارے ساتھ اچھا نہیں ہوا ہے۔
اے ایس دُلت کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں اٹھانا ایک فضول مشق ہے اور اس کی بجائے وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعظم بھارت کو آپس میں بات کرنی چاہیے۔’ 1972 میں ہونے والے شملہ سمٹ میں ذوالفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی کے درمیان طے پایا تھا کہ کشمیر پر جب بھی بات چیت ہوگی تو وہ دوطرفہ ہوگی۔ یعنی بھارت اور پاکستان کے درمیان ہوگی۔ شملہ معاہدے کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ جانے سے کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ خان صاحب نے اقوام متحدہ میں معاملہ اٹھایا ہے لیکن پاکستان کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا ہے۔ دلت کے بقول’پاکستان جب اقوام متحدہ کی قراردوں کی بات کرتا ہے تو اس کو کشمیری بھی مذاق سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان سنجیدہ نہیں ہے۔ جو چیز نہیں ہو سکتی ہے اُن پر بات کرنے کا کیا فائدہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Rating

Back to top button