سلیم مانڈوی والا نیب چئیرمین کے لئے درد سر بن گئے


سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کے اس اعلان کے بعد کہ وہ سینیٹ کے پلیٹ فارم سے قومی احتساب بیورو کی کرپشن اور بد عنوانیوں کو بے نقاب کریں گے، نیب چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال ایک نئی پریشانی میں گر گئے ہیں۔ یاد رہے کہ سلیم مانڈوی والا نے یہ پریس کانفرنس کرنے سے پہلے جسٹس جاوید اقبال سے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے نیب کے چیئرمین کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ ان کے خلاف نیب کے الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں اور وہ اس ایشو پر سینٹ میں احتساب بیورو کے خلاف ایک تحریک استحقاق لانے والے ہیں۔ جواب میں ساکھ کے بحران کا شکار نیب چیئر مین نے مانڈوی والا کے ساتھ لین دین کرنے کی کوشش کی اور ان سے کہا کہ وہ اگر سینٹ میں تحریک استحقاق نہ لائیں تو ان کے معاملے پر ہمدردانہ غور کیا جا سکتا ہے۔ جواب میں مانڈوی والا نے کہا کہ ان کو ہمدردی نہیں چاہیے بلکہ انصاف چاہیے اور وہ نیب کے خلاف تحریک استحقاق لازمی داخل کریں گے۔
سلیم مانڈوی والا کی جانب سے نیب کے اس معاملے پر سودا بازی کرنے سے انکار کے اگلے ہی روز نیب نے ایک پریس ریلیز جاری کر دی جو سلیم مانڈوی والا کے خلاف الزامات پر مبنی تھی۔ اس پریس کے جواب میں سلیم مانڈوی والا نے ایک پریس کانفرنس کی اور یہ اعلان کیا کہ اب وہ نیب کے خلاف سینٹ کے پلیٹ فارم سے ایک باقاعدہ مہم چلائیں گے اور ثابت کریں گے کہ یہ ادارہ حکومت کے ایما پر اپوزیشن کی کردار کشی اور انتقام کا نشانہ بنانے کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔ سلیم مانڈوی والا نے یہ بھی کہا کہ اب جنگ ان کے اور نیب کے مابین نہیں ہے بلکہ سینٹ اور نیب کے مابین ہوگی۔
تاہم دوسری طرف حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین تو نہیں البتہ سینیٹ کی کوئی کمیٹی نیب کے احتساب کا معاملہ ضرور آگے بڑھا سکتی ہے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مانڈوی والا یہ اعلان بھی کر چکے ہیں کہ نیب کے خلاف ان تحقیقات کے دوران یہ دیکھا جائے گا کہ نیب افسران کی تعیناتی کس طرح سے ہوئی ہے، ان کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کی جائے گی کہ وہ جعلی ہیں یا اصلی اور تمام نیب حکام کے اثاثوں کی بھی چھان بین کی جائے گی۔ سلیم مانڈوی والا نے اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کو نیب کے خلاف قانون سازی اور نیب کے قانون میں ترمیم متعارف کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ان کے مطابق نیب صرف سیاستدانوں کا تعاقب کرتا ہے۔ اس سے قبل نیب کے رویے پر متعدد سیاستدانوں نے بھی ایسی شکایات کی ہیں۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے مطابق نیب نے کئی بے گناہ لوگوں کی زندگی اجیرن بنائی ہے اور ایسے افراد کی بھی ایک طویل فہرست ہے جن سے بلیک میلنگ کے ذریعے ڈیل کر کے پیسہ لیا گیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ نیب کی حراست میں کچھ افراد کی موت بھی واقع ہوئی ہے اور ایسے بھی لوگ ہیں جنھوں نے نیب کے ہتک آمیز رویے سے تنگ آ کر خود کشی کر لی۔ انھوں نے ایسے افراد کی فہرست بھی جاری کی ہے۔ تاہم نیب نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور اپنی وضاحت میں کہا کہ دنیا بھر میں ڈیل یا پلی بارگین کے ذریعے ملزمان سے پیسے وصول کیے جاتے ہیں۔ لیخن مانڈوی والا کے اعلان کے بعد یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ کیا سینیٹ، نیب سمیت کسی بھی ادارے کی آزادانہ تحقیقات کا حکم دے سکتی ہے یا نہیں؟
مانڈوی والا کی جانب سے نیب والوں کے احتساب کے اعلان پر پارلیمانی امور کے ماہرین کی رائے اس معاملے پر منقسم ہے۔ اس موضوع پر بات کرتے ہوئے سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد نے بتایا کہ بظاہر تو سلیم مانڈوی والا کا دعوی درست نہیں لگتا۔ وسیم سجاد کی رائے میں سینیٹ کسی محکمے کے خلاف آزادانہ تحقیقات کا حکم نہیں دے سکتا ہے کیوں کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے پاس ایوان کی کارروائی آگے بڑھانے جیسے اختیارات تو ضرور ہوتے ہیں جیسے وہ کسی رکن کی رکنیت معطل کر دے، رولنگ دے دے یا رولز کی وضاحت کر دے۔تاہم سینیٹ کی کمیٹیاں بااختیار ہوتی ہیں اور وہ کسی معاملے پر تفتیش کر سکتی ہیں۔
سینیٹ کے سابق ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری کی رائے میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ، کو بڑے اختیارات حاصل ہوتے ہیں اور ان ایوانوں میں بہت سارے معاملات زیر بحث آتے ہیں۔ ان کی رائے میں نیب کے خلاف تفتیش ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیب تو بڑی سیاسی جماعتوں کی وجہ سے قائم ہے وگرنہ ہم تو نیب کے حق میں نہیں رہے اور ہم مختلف مواقع پر یہ کہتے رہے کہ نیب جو کر رہا ہے وہ درست نہیں ہے۔اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نیب کے مقدمات میں جتنے بھی فیصلے سامنے آئے ہیں ان پر انگلیاں اٹھتی ہیں۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے نیب کے خلاف غیر انسانی سلوک اور بلیک میلنگ کے ذریعے والنٹری ریٹرن اور پلی بارگین کے ذریعے پیسے حاصل کرنے جیسے الزامات کو جانچنے کے لیے نیب کی کارکردگی اور اس احتساب کے ادارے کے بارے میں دیگر شواہد کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ چند دن قبل سپریم کورٹ نے ملزمان کی کسی بھی ریفرنس میں 90 دن تک نیب کی حراست میں رہنے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ نیب کی طرف سے کسی ایک ہی ملزم پر کئی ریفرنسز بنائے جاتے ہیں اور پھر ہر ریفرنس میں نیب ایسے ملزم کی حراست حاصل کرتا ہے، جس پر عدالت کو تشویش ہے۔عدالت کے تین رکنی بینچ نے مسلسل 90 دن کی حراست کے بعد پھر حراست کو ظالمانہ اور ناانصافی پر مبنی عمل قرار دیا۔اس سے قبل ایک مقدمے کی سماعت کے دوران پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نیب کے والنٹری ریٹرن پر پابندی بھی عائد کر چکی ہے اور نیب سے کہا ہے کہ وہ اپنی تفتیش کو بہتر کر کے بدعنوانی کے خلاف پیش رفت یقینی بنائے۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کے مقدمے میں سپریم کورٹ نے نیب کی تحقیقات پر متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے یہ بھی قرار دیا ہے کہ نیب تعاقب کر کے مقدمات قائم کرتا ہے۔اس وقت اس جماعت سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نیب کی حراست میں ہیں۔ ان کے بیٹے حمزہ شہباز بھی نیب کے مقدمات میں سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ وہ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پرسنل سیکریٹری فواد حسن فواد کو بھی نیب نے حراست میں لیا اور پھر انھیں رہائی مل گئی۔یہی معاملہ پاکستان پیپلز پارٹی کا بھی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری سمیت نیب نے اس جماعت کے متعدد رہنماؤں جن میں دو سابق وزرائے اعظم، یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف، کے خلاف مقدمات قائم کر رکھے ہیں اور پیپلز پارٹی اسے انتقامی کارروائی سے تعبیر کرتی ہے۔
یاد رہے کہ نیب سے متعلق تحریک انصاف کی حکومت نے بھی ایک آرڈیننس جاری کیا تھا جس میں نیب کے اختیارات کو محدود کیا تھا۔ مگر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے یہ آرڈیننس اپنی مدت پوری کر کے ختم ہو گیا۔ دوسری طرف اپوزیشن مسلسل یہ الزام لگا رہی ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال مسلسل حکومت کا اپوزیشن مخالف ایجنڈا آگے بڑھانے کے لئے استعمال ہو رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ حکومت کے پاس موجود ان کی قابل اعتراض ویڈیوز ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Rating

Back to top button