صوبہ بلوچستان سینیٹ الیکشن میں رشوت کے لئے بدنام کیوں؟

وزیراعظم پاکستان عمران خان کے اس حالیہ بیان کے بعد کہ بلوچستان میں سینیٹ کے ایک ووٹ کی قیمت 50 سے 80 کروڑ روپے لگائی جارہی ہے، یہ سوال زبان زد عام یے کہ آخر بلوچستان سینٹ الیکشن میں ووٹوں کی خرید و فروخت کے حوالے سے اتنا بد نام کیوں ہے۔
اسکا سادہ ترین جواب تو یہ یے کہ سینیٹ کا رکن بننے کے لیے بلوچستان اس وجہ سے آئیڈیل ہے کہ یہاں ووٹرز کی تعداد باقی صوبوں کے مقابلے میں سب سے کم ہے لہذا ووٹ خریدنے میں آسانی رہتی ہے.
تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ کے انتخابات کے لیے جوڑ توڑ کا سلسلہ اسوقت عروج پر ہے۔ اس دوران ووٹوں کی خرید وفروخت کے حوالے سے وزیراعظم کے بیان نے کئی سوالات کھڑے کردئیے ہیں۔
عمران خان نے گذشتہ دنوں کلرسیداں میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ بلوچستان میں سینیٹ کے ایک ووٹ کی قیمت 50 سے 80 کروڑ روپے لگائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا مجھے خود بھی کئی مرتبہ پیسوں کے عوض سینیٹ کی سیٹ بیچنے کی آفر ہوئی اور براہ راست اور بالواسطہ رابطے کیے گئے۔ مجھے کہا گیا کہ ہم رشوت کی رقم شوکت خانم کینسر ہسپتال کے فنڈ میں دے دیں گے اور آپ اسکے عوض ٹکٹ دے دیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اصل ایشو یہ ہے کہ کیا موجودہ سسٹم کے تحت سینیٹ کا الیکشن ہونا چاہیے یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ یاد رکھیں اگر سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹنگ نہ ہوئی تو اپوزیشن والے روئیں گے، کیونکہ سیکرٹ ووٹنگ کے تحت حکومت کو اپوزیشن سے زیادہ سیٹیں مل سکتی ہیں۔ یعنی وزیراعظم اس امکان کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کے حکومت اپوزیشن کے ووٹروں کو خریدنے کی کوشش کرے گی۔
یاد رہے کہ کپتان کی خواہش پر سینیٹ کے انتخابات خفیہ رائے شماری کی بجائے اوپن بیلٹ سے کروانے کے لیے ایک صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیا تھا۔ صدر عارف علوی کے دستخط سے جاری اس آرڈیننس کو انہی کی طرف سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر کردہ صدارتی ریفرنس پر اعلیٰ عدالت کی رائے سے مشروط کیا گیا ہے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اس صدارتی آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ سینیٹ الیکشن کا طریقہ کار بدلنے کے لیے آئینی ترمیم ضروری ھے اور یہ کام صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کسی صورت نہیں ہو سکتا۔
دوسری طرف تحریک انصاف کی جانب سے سینیٹ الیکشن کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے اور یہ اعتراض کیا جا رہا ہے کہ وزیراعظم نے کس میرٹ کے تحت بلوچستان سے جنرل نشست پر انتخاب لڑنے کے لیے تعمیراتی شعبے سے وابستہ ارب پتی بزنس ٹائیکون عبدالقادر کو ٹکٹ دے دیا ہے جنہوں نے صرف ایک روز پہلے پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت نے بلوچستان میں پارلیمانی لیڈرز اور پارٹی کے ایم پی ایز سے مشاورت کے بغیر اتنا اہم فیصلہ لینے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے کو رد کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ عبدالقادر نے پیسے دے کر سینٹ کا ٹکٹ خریدا ہے۔ عمران کے ناقدین یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ وزیراعظم نے عبدالقادر کو سینیٹ کا ٹکٹ 50 کروڑ میں بیچا ہے یا 80 کروڑ میں، جیسا کہ انہوں نے خود یہ ریٹ بتائے تھے۔
یاد رہے کہ بلوچستان اسمبلی میں جماعتوں کی پوزیشن اس طرح ہے کہ باپ کہلانے والی بلوچستان عوامی پارٹی کے 24 ممبران ہیں۔ دوسرے نمبر پر متحدہ مجلس عمل کے 11 اراکین ہیں، بی این پی مینگل کے دس ممبرز ہیں، تحریک انصاف کے سات اراکین ہیں، اے این پی کے چار ہیں، بی این پی عوامی کے تین ممبرز ہیں اور مسلم لیگ ن، پشتونخواملی عوامی پارٹی اور جے ڈبلیو پی کا ایک ایک ممبر سینیٹ کا رکن ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہےکہ بلوچستان سینیٹ کے انتخابات میں ووٹوں کی خریدو فروخت کے حوالے سے ہمیشہ بدنام رہا ہے، کیوں کہ یہاں ہر انتخابات میں ایسی ہی صورتحال نظر آتی ہے۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ یہ سلسلہ 1998 یا 1990 سے شروع ہوا۔ اس وقت ایک ایم پی اے کی قیمت 50 لاکھ روپے تک تھی۔ ذوالفقار کے بقول: ‘سینیٹ کے انتخابات کے دوران ووٹ بیچنے کو پہلے معیوب سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ ٹرینڈ عام ہوگیا ہے، تاہم انکا کہنا تھا کہ بلوچستان میں اب بھی قوم پرست جماعتوں کے ارکان اور جے یوآئی کے لوگ اپنے ہی لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں، اور وہ باقیوں کی طرح بکتے نہیں ہیں۔’
شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ بلوچستان کی نشستوں پر سینیٹ کے الیکشن میں باہر سے آنے والے سرمایہ کاروں کا عمل دخل لمبے عرصے سے جاری ہے۔ 1990 میں زرات خان، صدرالدین ہاشوانی اور اکرم ولی محمد کو یہاں سے منتخب کرایا گیا۔ اکرم ولی محمد جب سینیٹر بننے کےلیے آئے تو انہوں نے کوئٹہ کے سرینا ہوٹل میں آکر کیمپ لگایا اورر اس وقت کے وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کے پولیٹکل سیکرٹری نے آکر یہاں معاملات طے کیے اور وہ سینیٹر بھی منتخب ہوگئے۔ شہزادہ ذولفقار کے مطابق: ‘ہم نے انتخاب کے بعد سینیٹر ولی محمد سے ملاقات کی تو انہوں نے کہا وہ بلوچستان کی ترقی کے لیے اقدامات کریں گے، لیکن اپنے تین سالہ دور میں انہوں نے نہ کبھی صوبے کا دورہ کیا اور نہ ہی سینیٹ کے اجلاس میں کوئی بات کی۔ انہوں نے صرف مال بنایا۔
سینیٹ کے انتخابات کے دوران کبھی کبھار تو بہت دلچسپ صورت حال بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ پچھلے سینیٹ الیکشن کے دوران حسین اسلام بھی یہاں آئے تھے، انہوں نے ٹیکنوکریٹس کی نشست کے لیے کاغذات جمع کرائے لیکن انکے کاغذات پہلے یہاں سے اور بعد میں سپریم کورٹ سے بھی مسترد ہوگئے۔ انہوں نے بتایا: ‘حسین اسلام نے چونکہ ٹکٹ خریدنے کے لیے پہلے پیسے دے دیے تھے اور ایم پی ایز نے انہیں پیسے واپس کرنے سے انکار کردیا تھا، لہذا اس کا حل یہ نکالا گیا کہ انہیں عبدالقدوس بزنجو نے اپنا مشیر بنالیا اور پھر صوبے میں فشریز کا محکمہ دے دیا۔ چونکہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں سندھ کے غیر قانونی ٹرالرز آتے ہیں، جو غیر قانونی شکار کرتےہیں، لہذا حسین اسلام کو یہ محکمہ دیا گیا تاکہ وہ اپنے ڈوبے ہوئے پیسے نکال سکیں۔’
شہزادہ ذوالفقار سمجھتے ہیں کہ یہ المیہ ہےکہ بلوچستان کو ہمیشہ استعمال کیا جاتا رہا ہے اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ باہر کے لوگ یہاں آتے ہیں، ووٹ خریدتے ہیں اور سینیٹر بن جاتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘چونکہ عبدالقدوس کے دور میں جو لوگ بکے وہی، اب بلوچستان عوامی پارٹی کا حصہ ہیں، لہذا میں بالکل بھی نہیں سمجھتا کہ یہ لوگ دوبارہ نہیں بکیں گے۔’ شہزادہ ذوالفقار کا ماننا ہے کہ تحریک انصاف کا اوپن بیلٹ کا م البہ اس لحاظ سے بہتر ہے کہ اس سے ووٹ دینے والا کا پتہ چل جائے گا۔ ویسے تو پتہ سب کو ہوتا ہے، لیکن اس سے پارٹی اپنے رکن کے خلاف آسانی سے کارروائی کرسکے گی، لہذا اپوزیشن کو بھی اس فیصلے کی حمایت کرنی چاہیے۔

جواب دیں