طالبہ کو ہراساں کرنے والا پروفیسر نوکری سے برخاست

ڈیرہ اسماعیل خان کی گومل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر صلاح الدین کو طالبات کو فیل کرنے کی دھمکی دے کر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ثابت ہونے پر نوکری سے فارغ کردیا گیا۔
بے شرم پروفیسر صلاح الدین کی 35 سال کی سروس تھی اور وہ ڈین آف آرٹس تھا۔ یونیورسٹی کی انضباطی کمیٹی نے انکوائری کے بعد تصدیق کی ہے کہ ہوس کا مارا پروفیسر اپنی سروس کے دوران خواتین طالبات کو کم نمبر دے کر فیل کرنے کی دھمکی دیتا اور انہیں ہراساں کرتا، اس کے خلاف کئی بار شکایات کی گئیں لیکن وہ اثرو رسوخ استعمال کرکے بچ جاتا رہا، پروفیسر صلاح الدین پر جنسی ہراسگی کے الزامات پہلے بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں جس سے وہ انکاری رہا۔ تاہم اب ملزم کو پکڑنے کے لیے ایک اسٹنگ آپریشن کیا گیا جس میں ایک طالبہ کو پروفیسر کے پاس بھیجا گیا جہاں اس نے اپنا اصلی روپ دکھادیا، اسکی ساری ہوس بھری باتیں ویڈیو پر ریکارڈ ہوگئیں جس کے بعد ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔
گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سرور کا کہنا ہے کہ انہیں اس مکروہ شخص کے بارے شکایات پہلے بھی موصول ہوئی تھیں لیکن وہ ثابت نہیں ہوسکی تھیں۔ ان کے مطابق پروفیسر کا یہ موقف تھا کہ وہ پرچوں کی سخت مارکنگ کرتے ہیں لہذا خواتین طالبات ان پر الزام لگا کر انہیں دباؤ میں لانا چاہتی ہیں۔ تاہم جب پروفیسر پر ہراسگی کا الزام ثابت ہوگیا تو پروفیسر سے استعفی لے لیا گیا۔
اس سلسلے میں جب استاد کے روپ میں بھیڑیا نما پروفیسر سے پوچھا گیا کہ طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں اس کے خلاف اور کیا کارروائی ہونی چاہیے تو اس نے کہا کہ ملازمت سے برخاستگی سے بڑی سزا اور کوئی نہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں پروفیسرز صلاح الدین نے کہا کہ اس کے خلاف کسی طالبہ نے پولیس میں کوئی شکایت یا درخواست درج نہیں کروائی اس لئے ان کے خلاف مزید کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوسکتی۔
تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ پروفیسر صلاح الدین سٹی کیمپس کے کوآرڈینیٹر کے طور پر بھی کام کر رہے تھے۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد شکیب اللہ کو سٹی کوآرڈینیٹر کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ یونیورسٹی ذرائع نے بتایا کہ شکیب اللہ پر بھی 2010 میں طالبات کو جنسی طور ہر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔ اس بارے میں وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر محمد سرور نے کہا کہ دیکھا جائے تو کسی نہ کسی پر کوئی نہ کوئی الزامات ہے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ پرانی باتیں بھلا کر آگے چلا جائے۔
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع گومل یونیورسٹی کے عملے پر عرصے سے مالی اور انتظامی بے قاعدگیوں اور جنسی ہراسگی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں اور اس بارے میں انکوائریاں بھی کی گئی ہیں لیکن ان کے نتیجے میں دی گئی تجاویز پر کچھ خاص عمل درآمد نہیں کیا گیا تھا۔ یاد رہے چند ماہ پہلے یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں کے وائس چانسلر کی بھی ایک لڑکی کے ساتھ قابل اعتراض ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Rating

Back to top button