عورت مارچ کو پشتون تحفظ موومنٹ سے جوڑنے کی کوشش

پاکستان کے قدامت پسند حلقوں کی جانب سے خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے آٹھ مارچ کو ملک کے بڑے شہروں میں مجوزہ عورت مارچ کو روکنے کے لیے عدالت میں چیلنج کر کے اسے ریاست دشمن کارروائی ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ اس کے پیچھے پشتون تحفظ موومنٹ کا ہاتھ ہے۔
عورت مارچ کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسکا اہتمام ملک دشمن قوتوں کے ایما پر ہو رہا ہے جس کا مقصد انارکی پھیلانا اور فحاشی اور عریانی کو فروغ دینا ہے لہذا اس کے انعقاد پر پابندی لگائی جائے۔ دوسری جانب مسلم سول سوسائٹی نامی ایک غیر معروف تنظیم نے اس مارچ کے مقابلے میں احتجاجی مظاہرے کا اعلان کرکے صورتحال کو کشیدہ کردیا ہے۔ لاہور کے کئی علاقوں میں حالیہ دنوں میں عورت مارچ سےمتعلق آویزاں پوسٹرز بھی پھاڑ دیے گئے ہیں۔
آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر گذشتہ دو برسوں سے ملک کے کئی شہروں میں منعقد کی جانی والی ’عورت مارچ‘ کے منتظم اس سال بھی مارچ کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں، تاہم اس سال عورت مارچ کے خلاف ایک طرف لاہور ہائیکورٹ سے مارچ رکوانے کی درخواست کی گئی ہے تو دوسری طرف ’مسلم سول سوسائٹی‘ نامی ایک گروپ نے اس مارچ کے خلاف اپنے ایک مارچ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر مسلم سول سوسائٹی کی جانب سے ایسی تصاویر گردش کر رہی ہیں جن میں گذشہ سالوں میں عورت مارچ میں دیکھے جانے والے پوسٹروں پر درج نعروں پر کراس کا نشان لگایا گیا ہے، جس کا مقصد ان نعروں کو مسترد کرنا ہے۔ اس تنظیم کی روح و رواں طاہرہ شاہین ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ وہ عورت مارچ کے خلاف نہیں ہیں، یہ ہونی چاہیے، مگر عورت مارچ میں شامل خواتین صحیح کی بجائے غلط راستے پر چل پڑی ہیں۔ عورت مارچ میں عورتوں کی غیر مناسب تصاویر اور میرا جسم میری مرضی،اپنا کھانا خود گرم کرو۔۔۔ جیسے نعرے ایک خاتون کو پیش کرنے اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کا غلط راستہ ہے۔
یاد رہے کہ اس طرح کے پوسٹرز پچھلے برس ہونے والے عورت مارچ میں آویزاں کیے گئے تھے جس کے بعد سخت عوامی ردعمل آیا تھا۔ ادھر لاہور ہائی کورٹ نے بھی آئندہ ماہ ہونے والے عورت مارچ کو رکوانے کے لیے دائر درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کر لیا ہے یہ درخواست لاہور کے شہری منیر احمد کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ حکومت پنجاب کو ‘پنجاب ریڈ زون ایکٹ 2018 نافذ کرنے کی ہدایت دے جس کے ذریعے عورت مارچ جیسے مظاہروں پر قابو پایا جا سکے گا۔ درخواست گزار کے مطابق عدالت سے التجا کی گئی ہے کہ 8 مارچ کو عورتوں کے عالمی دن یا ‘عورت مارچ’ کے موقع پر سینکڑوں خواتین ایک مرتبہ پھر مارچ کریں گی۔ انہوں نے ایسے بینر اٹھا رکھے ہوں گے جن پر درج پیغامات سے ‘انتشار اور فحاشی’ عیاں ہوتی ہے۔
درخواست گزار کے مطابق ‘ایسی خواہشات کا کھلم کھلا اظہار کرتے ہوئے چند عورتیں، مرد اور ہم جنس پرست افراد ایسا ماحول قائم کرنا چاہتے ہیں جو ان پر روایتی اور اخلاقی پابندی نہ لگائے اور انہیں نام نہاد رجعت پسندانہ اقدار سے آزاد کرے۔ اپنے وکیل اظہر صدیق کے ذریعے دائر درخواست میں منیر احمد کا کہنا ہے کہ عورتوں کا عالمی دن منانے کا حقیقی مقصد خواتین کے نمایاں کارناموں کو سراہنا اور ان خواتین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا ہے جو دنیا میں مظالم، امتیاز، جہالت اور گھریلو تشدد کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں لیکن اس دن کا مقصد یہ نہیں کہ تمام تر حدیں عبور کی جائیں یا مردوں کو تنقید اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا جائے۔ درخواست گزار نے اپنی دلیل کے حق میں یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ ‘ایسی بہت سی ریاست مخالف قوتیں موجود ہیں جو عورت مارچ کی فنڈنگ کرتی ہیں جس کا واحد مقصد عوام میں انتشار پھیلانا ہے۔درخواست گزار کے مطابق بادی النظر میں پشتون تحفظ موومنٹ اور ان کے حامیوں کا خفیہ ایجنڈا ہے اور وہ عورت مارچ کے بڑے حصے دار ہیں۔درخواست گزار کا یہ بھی کہنا ہے کہ ‘عورت مارچ عورتوں کو برابری کے حقوق دلوانے کی جدوجہد سے ہٹ کر فحاشی اور انتشار پھیلانے کی ایک تقریب بن کر رہ گئی ہے۔
خیال رہے کہ آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر لاہور، کراچی، اسلام آباد اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں عورت مارچ کیا جائے گا، جس کے لیے تیاریاں جاری ہیں لیکن مارچ روکنے والے بھی سرگرم ہوچکے ہیں۔ لاہور کے علاقے حسین چوک میں عورت مارچ کے حوالے سے لگائے جانے والے پوسٹر دو گھنٹے کے اندر اندر نامعلوم افراد نے پھاڑ کر پھینک دیے، جس پر سوشل میڈیا پر کافی غم وغصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ عوارت مارچ منتظمین کا کہنا ہے کہ آپ ہمارے پوسٹر پھاڑ سکتے ہیں لیکن ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔ ہمارے عزم بلند ہیں اور ہم مزید پوسٹر لگائیں گے۔ عورت مارچ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ آٹھ مارچ کو بھرپور طریقے سے مارچ کرنے کے لیے پُر عزم ہیں۔ ان کے مارچ کو روکنے کی بظاہر کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ وہ ایک پرامن مارچ ہے اور ان کا آئینی حق ہے۔ عورت مارچ کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ اتوار کو لاہور میں عورت مارچ کے لیے ایک فنڈ ریزنگ کانسرٹ بھی کیا جائے گا، جس کا استعمال عورت مارچ کے لیے استعمال ہونے والی چیزوں پر کیا جائے گا۔

جواب دیں