فیکٹ فوکس کا اثاثوں کی خبر پر جنرل باجوہ کو چیلنج

جنرل قمر جاوید باجوہ کے خاندانی اثاثوں میں پچھلے 6 برس کے دوران ہوشربا اضافے کی تفصیلات بے نقاب کرنے والی معروف تحقیقاتی ویب سائٹ فیکٹ فوکس نے جنرل باجوہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوجی ترجمان کے ذریعے کیے گئے اس من گھڑت دعوے کو ثابت کریں کہ انکی اہلیہ، انکی بہو، اور ان کے خاندان کے کسی اور فرد کے اثاثوں اور جائیداد بارے بریک کی گئی کہانی کے حقائق غلط ہیں۔ یہ خبر بریک کرنے والے سینئر صحافی احمد نورانی نے کہا ہے کہ وہ اپنی کہانی کے ہر نقطے پر ڈٹ کر کھڑے ہیں اور جنرل قمر باجوہ کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ اس سٹوری میں کسی ایک بھی غلط بیانی کی نشاندہی کریں کیونکہ انہوں نے ناقابل تردید دستاویزی ثبوت پیش کیے ہیں۔

 

فیکٹ فوکس کی رپورٹ شائع ہونے کے بعد فوجی ترجمان نے ایک پریس ریلیز میں کہا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور ان کے خاندان کے اثاثوں بارے سوشل میڈیا پر کیے جانے والے دعوے سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ گمراہ کن اعداد و شمار مبالغہ آرائی اور مفروضوں پر مبنی ہیں اور ایک مخصوص گروہ نے بڑی چالاکی اور بے ایمانی سے جنرل باجوہ کی بہو کے والد یعنی صابر مٹھو اور ان کے خاندان کے اثاثے جنرل باجوہ اور ان کے خاندان سے جوڑ دیے۔ ایسا کرتے ہوئے یہ غلط تاثر پیدا کیا گیا کہ یہ اثاثے جنرل باجوہ کے خاندان نے اپنے چھ سالہ دور اقتدار میں بنائے۔ یہ سراسر جھوٹ ہے اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ فوجی ترجمان نے کہا کہ جنرل باجوہ، ان کی اہلیہ اور اہل خانہ کے تمام اثاثے فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں ظاہر ہیں اور ان کے اہل خانہ باقاعدگی سے ٹیکس گوشوارے جمع کرواتے ہیں۔

تاہم فیکٹ فوکس نے اس مبہم تردیدی پریس ریلیز کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جنرل باجوہ کے آرمی چیف بننے سے پہلے ان کی اہلیہ عائشہ امجد کی کوئی آمدنی نہیں تھی۔ فیکٹ فوکس میں جنرل باجوہ کے خاندان کے اثاثوں کی خبر بریک کرنے والے احمد نورانی کے مطابق مسز قمر باجوہ کی طرف سے ایف بی آر کو لکھے گئے ایک خط سے واضح ہوتا ہے کہ مالی سال 2016 سے پہلے ان کی کوئی آمدنی نہیں تھی۔ انہوں نے یہ خط تب لکھا تھا جب انہوں نے اچانک 6.96 ملین روپے کی آمدن کا اعلان کیا اور ان سے اس آمدن کے ذرائع بارے ایف بی آر حکام کی جانب سے سوال کیا گیا۔

 

احمد نورانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی میڈیا ہاؤس کو جنرل باجوہ کے اثاثوں بارے فیکٹ فوکس کی بریک کردہ کہانی نشر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ آئی ایس پی آر کے پراکسی کے طور پر کام کرنے والے میڈیا ہاؤسز نے فیکٹ فوکس سے بات کیے بغیر آئی ایس پی آر کا بیان جاری کر دیا۔ نواز لیگ کی حکومت نے 20 نومبر کو خبر بریک ہونے کے فوری بعد پاکستان میں فیکٹ فوکس کی ویب سائٹ کو بلاک کر دیا تھا۔ عوامی دباؤ کی وجہ سے اگلے دن ویب سائٹ کو بحال کر دیا گیا تھا۔ نورانی نے کہا کہ یہ ایک کھلا راز ہے کہ صابر حمید مٹھو نے چھ سال تک جنرل قمر باجوہ کے نام پر پنجاب میں سرکاری محکموں اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر حکومت کی۔ فیکٹ فوکس نے اپنے دعوئوں کو ثابت کرنے کے لئے دستاویزی ثبوت دیئے۔

 

احمد نورانی نے امید ظاہر کی کہ جنرل قمر باجوہ اور ان کے دونوں بیٹوں سعد باجوہ اور علی باجوہ کے مکمل ٹیکسں ریکارڈ اور جائیداد اور اثاثوں کی تفصیل جاری کی جائے گی جسے چھپانے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ انکاکہنا ہے کہ اگر قانون سازوں کی دولت کے گوشوارے جاری کیے جا سکتے ہیں تو آرمی چیف اور ان کے اہل خانہ کی دولت کے گوشوارے جاری کرنے میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہو سکتا۔ پچھلے سال، فیکٹ فوکس نے ایک کہانی رپورٹ کی جس میں جنرل قمر جاوید باجوہ کے فرسٹ کزنز کے ملک ریاض اور براڈ شیٹ سکینڈل کے مرکزی کرداروں کے ساتھ کاروباری منصوبوں کی تفصیلات بیان کی گئیں۔ اس کہانی میں بتایا گیا کہ کس طرح جنرل باجوہ کے کزن کرنل (ر) نعیم گھمن گوادر ایئر کے نام سے اپنی ایئر لائن شروع کرنے کے لیے تیار تھے جب کہ وہ انتہائی کمزور مالی پس منظر کے حامل ہیں۔ نعیم گھمن جنرل باجوہ کے بیچ میٹ اور کلاس فیلو تھے اور اب ان کے فرنٹ مین کہلاتے ہیں۔ نعیم گھمن کا بہنوئی صابر حمید مٹھوُ جنرل باجوہ کا سمدھی ہے۔

 

یاد رہے کہ جنرل قمر باجوہ کے والد ‏کرنل اقبال باجوہ کے چار بچے ہیں۔ قمر باجوہ کے علاوہ ان کے بچوں میں طارق باجوہ، ‏خاورہ باجوہ اور طاہرہ باجوہ شامل ہیں۔ ‏لیکن ان میں سے صرف ایک اولاد پاکستانی نیشنل ہے جس کا نام قمر جاوید باجوہ ہے۔

Back to top button