وزیراعظم صاحب نوٹس نہ لیں، استعفی دیں اور گھر جائیں

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سارے پاکستان کو نظر آرہا ہے کہ وزیراعظم کے پاس صرف 2 آپشنز ہیں، وزیراعظم غلطی کا اعتراف کریں اور سب کو ساتھ لیکر چلنے کا اعلان کریں یا استعفی دیں اور گھر جائیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم نے ادویات پر نوٹس لیا تو وہ مہنگی ہوگئیں، وزیراعظم نے آٹا، چینی پر نوٹس لیا تو وہ مہنگے ہوگئے۔بلاول کا کہنا تھا کہ بہتر ہے وزیراعظم اپنے آپ کو قرنطینہ میں رکھیں اور کسی بھی چیز پر نوٹس لینا بند کردیں۔انہوں نے کہا کہ بجٹ پاس ہونے سے پہلے ہی عوام پر پیٹرول بم گرا دیا گیا جب کہ کے الیکٹرک کراچی کے عوام کا خون چوس رہی ہے۔
چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ آج راجہ پرویز اشرف بری ہو گئے جب کہ جہانگیر ترین لندن میں مزے کر رہے ہیں لیکن ان کا وزیراعظم شوگر کمیشن کا رونا رو رہا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان سب کو اور ن لیگ کو بھی معافی مانگنی چاہئے، وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو شہید نہیں کہہ سکتے لیکن اسامہ بن لادن کو شہید کہتے ہیں۔
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ وزیراعظم معیشت تباہ کرنے کا اعتراف کریں اورمعافی مانگیں کہ انہوں نے ملک کا بیڑا غرق کردیا۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ سارے پاکستان کو نظرآرہا ہے کہ وزیراعظم کے لیے دوآپشنزہیں، وزیراعظم معافی مانگیں کہ انہوں نے ملک کا بیڑا غرق کردیا، وزیراعظم معیشت تباہ کرنے کا اعتراف کرے، یا تووزیراعظم سب کوساتھ لے کراورملک کی بہتری کے لیے کام کرے اوردوسرا آپشن یہ ہے کہ استعفی دے اورگھرجائے کسی قابل بندے کو آنے دے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بجٹ پاس ہونے سے قبل ہی عوام پر پیڑول بم گرایا گیا، یہ واپس اپنے حلقوں میں کیسے جائیں گے اورعوام کو کیا منہ دکھائیں گے۔طیارے حادثے سے متعلق بلاول بھٹو نے کہا کہ پائلٹ اورسول ایوی ایشن کی عالمی سطح پر کردارکشی کی گئی، پی آئی اے طیارے حادثہ پرحکومتی ردعمل شرمناک ہے، اپنی غلطیوں کو چھپانے کیلئے شہید پائلٹ پرذمہ داری ڈال دی، پائلٹ کوکورونا کے دوران زبردستی جہاز پرچڑھایا گیا، طیارہ حادثے کی آڑ میں سول ایوی ایشن اور پی آئی اے کی نجکاری کی کوشش کی جارہی ہے، جس وزیر کی اپنی ڈگری جعلی ہونے کا الزام ہے وہ پائلٹس کی ڈگریاں جعلی کیسے قرار دے سکتا ہے۔
بلاول نے کہا کہ لوگوں کو بے روزگار کرنا کس قسم کا ریلیف ہے، تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ نہ کرنا ظلم ہی ہوتا ہے، یہ نالائق اورنااہل ہیں کام نہیں کر سکتے، وزیراعظم سے درخواست ہے نوٹس لینا چھوڑدیں، آٹا، ادویات، پٹرول، چینی کا نوٹس لیا کیا نتیجہ نکلا، بہترہوگا وزیراعظم خود کو قرنطینہ کرلیں اور کوئی کام نہ کریں۔بجٹ سے متعلق بلاول نے کہا کہ یہ بجٹ نہ کرونا کے خلاف موثر ہے نہ زراعت کی حفاظت کرتا ہے، انہوں نے ٹیکس بڑھا کر عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالا ہے، جب ہم بری ہوں گے تو یہ جیل میں ہوں گے، مسلم لیگ (ن) اورموجودہ حکومت ہم سے معافی مانگے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیر اعظم نے اسامہ بن لادن کو شہید قراردے دیا، یہ وزیر اعظم محترمہ بے نظیر کو شہید نہیں کہتا اسامہ بن لادن کو شہید کہتا ہے۔
ایوان بلاول بھٹو کے اظہارخیال کے بعد بد نظمی کا شکارہوگیا جس کے بعد اپوزیشن بھی ایوان سے واک آؤٹ کر گئی۔

جواب دیں