وزیر اعظم کے علاوہ فوجی قیادت سے بھی استعفے مانگنے کی تجویز

بتایا گیا ہے کہ حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد کی قیادت اس تجویز پر غور کر رہی ہے کہ 13 دسمبر کو لاہور کے جلسے میں صرف وزیر اعظم عمران خان کے استعفے کی ڈیڈ لائن دینے کی بجائے آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کے استعفوں کی بھی ڈیڈ لائن دی جائے گی۔ باخبر ذرائع کے مطابق اپوزیشن اتحاد کی بڑی جماعتوں کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ عمران خان کو بذریعہ دھاندلی برسر اقتدار لانے میں آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کا بڑا ہاتھ تھا اور اب عمران کی حکومت کو بچانے میں بھی یہ دونوں بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ عمران کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے فوجی قیادت کے استعفے بھی مانگے جائیں۔ تجویز کے مطابق اگر تین بڑے مقرر کردہ ڈیڈلائن تک استعفے نہیں دیں گے تو پھر اپوزیشن اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کرے گی اور پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دے دے گی۔ اگر پھر بھی تین بڑوں نے دباو قبول نہ کیا تو پھر اپوزیشن پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لے کر آئے گی۔ اور اگر اسٹیبلشمنٹ نے حکومت کا ساتھ دے کر اس تحریک کو ناکام بنایا تو اپوزیشن جماعتوں کے اراکین خود اسمبلیوں سے استعفے دینے کی آخری آپشن استعمال کریں گے تاکہ حکومت مفلوج ہو جائے۔
بتایا گیا ہے کہ تین بڑوں کے استعفے کا مطالبہ کرنے کے بنیادی محرک پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ہیں اور اس معاملے میں ان کو نواز شریف کی مکمل تائید حاصل ہے جو اعلان آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کو 2018 کے الیکشن میں دھاندلی کا ذمہ دار قرار دے چکے ہیں۔ لیکن یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ 13 دسمبر کو تین بڑوں کے استعفے مانگنے کی تجویز پر ابھی اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتوں کا اتفاق نہیں ہے اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی یے۔ یہ تجویز بھی ہے کہ تین بڑوں کے استعفے مانگنے کی آپشن کو لانگ مارچ کے بعد اسلام آباد پہنچ کر استعمال کیا جائے۔اس تجویز کے حمایتیوں کا خیال ہے کہ چونکہ اس وقت عمران حکومت اسٹیبلشمنٹ کے سہارے کھڑی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ وہ سہارا ختم کیا جائے۔ کہا جا رہا ہے کہ تین بڑے اپوزیشن کے اس مطالبے کے بعد اگر استعفی نہ بھی دیں تو فوجی قیادت دفاعی پوزیشن میں ضرور آ جائے گی اور اپوزیشن کے لانگ مارچ اور وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے وقت دباو لیتے ہوئے کم از کم نیوٹرل ضرور ہو جائے گی۔ تاہم تین بڑوں کے استعفوں کی تجویز کے مخالف رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بالآخر عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے نکالنے کے لئے لیے بنیادی کردار اسٹیبلشمنٹ نے ادا کرنا ہے اور حکومت کے ایما پر بھی آخری بھی مذاکرات فوجی قیادت ہی کرتی ہے لہذا آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کو ناراض کرنا ایک غلطی ہوگی۔ تاہم نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کا یہ موقف ہے کہ ماضی قریب میں بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ وعدے کیے جو پورے نہ کیے گے لہذا ان کی یقین دہانیوں پر اب مذید اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حتمی فیصلہ کیا ہوتا ہے۔
دوسری طرف حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے مشترکہ اتحاد نے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے اپنی نشستوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد ہر جانب سے سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں کہ آیا اس فیصلے پر عمل ہو گا بھی یا نہیں؟ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان کے استعفوں سے نقصان صرف پیپلزپارٹی کو ہوگا جن کی سندھ حکومت فارغ ہو جائے گی۔ اور پھر نئے الیکشن کی صورت میں بھی مرکز میں پی پی پی کی حکومت بننے کی بجائے ن لیگ کی حکومت بننے کے ذیادہ امکانات ہیں۔
دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت یے کہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی طرح نواز شریف، مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز تو کسی اسمبلی کے رکن بھی نہیں ہے لہذا انہیں استعفوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا استعفے دینے سے حکومت کو وہ نقصان پہنچے گا بھی جس کا اپوزیشن کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان استعفوں سے حکومت کے لیے اتنا بڑا بحران پیدا ہو پائے گا کہ سسٹم پوری طرح مفلوج ہو جائے اور حکومت کے پاس نئے الیکشن کا راستہ اپنانے کی بجائے اور کوئی آپشن باقی نہ بچے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو کے ترجمان مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ انکے استعفوں سے تمام تر حکومتی سسٹم بیٹھ جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’ہمیں کہا جا رہا ہے کہ جمہوری عمل رک جائے گا۔ یہ کیسا جمہوری عمل ہے کہ صحافتی آزادی میں خلل پیدا کر دیا جائے، سپریم کورٹ کے جج کو مثال بنا کر باقی عدلیہ کے سامنے پیش کیا جائے۔ لہذا حکومت کو چاہیے کہ بحران سے بچنے کے لیے انتخابات پہلے کروا دے۔‘ جہاں تک پاکستان پیپلز پارٹی کی بات ہے تو پی ڈی ایم کے منگل کے روز ہونے والے اجلاس میں پہلے ان کا مؤقف یہی رہا کہ استعفیٰ آخری حربہ ہوگا۔ لیکن بعد میں جماعت کی طرف سے پی ڈی ایم کے مشترکہ فیصلے کی حمایت میں پی پی پی نے بھی استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا۔
اس حوالے سے پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ انتخابات سے تین سال پہلے ایسا انتہائی قدم اٹھانا اور اپنے سیاسی آپشن ختم کرنا ایسی جماعت کے لیے جو ایک صوبے میں حکومت میں ہے، بہت ہی مشکل ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ’پیپلز پارٹی کا معاملہ اس لیے بھی مختلف ہے کیونکہ مارچ 2021 میں جب سینیٹ کے الیکشن ہوں گے اور باقی تمام اپوزیشن جماعتیں سینیٹ میں اپنی نشستیں ہار جائیں گی تو اس دوران پیپلز پارٹی وہ جماعت ہو گی جس کی نشستوں کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، بلکہ ہو سکتا ہے کہ ایک آدھ سیٹ کا اضافہ ہو جائے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہو سکتا ہے کہ پی ٹی آئی اور ان کی نشستیں برابر ہوں۔ تو اگر پیپلز پارٹی صوبائی اسمبلیوں سے استعفیٰ دے دیتی ہے، تو اس کو دوسری جماعتوں سے زیادہ نقصان ہو گا۔‘ اگر ماضی کو دیکھا جائے تو اس دوران سیاسی جماعتوں نے اسمبلیوں سے استعفے دینے کی دھمکیاں تو دیں مگر اس پر عملدرآمد کے حوالے سے نتائج منقسم رہے۔ اور دیکھنے میں آیا کہ اس عمل کو زیادہ کامیابی نہیں ملی۔2007 میں پرویز مشرف نے صدر بننے کے لیے دوبارہ الیکشن کروائے تو اس موقع پر سیاسی جماعتوں نے آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی اے پی ڈی ایم کے تحت یکجا ہو کر استعفے دینے کا اعلان کیا۔ لیکن احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ ’اِن ہی مشترکہ جماعتوں میں سے ایک پاکستان پیپلز پارٹی پیچھے ہٹ گئی تھی‘۔ وہ کہتے ہیں کہ ’باقی جماعتوں نے تو استعفیٰ دے دیا لیکن اس کا فائدہ نہیں ہوا۔ پیپلز پارٹی کے پیچھے ہٹ جانے اور اسمبلی میں موجود ہونے کے بعد مشرف کے انتخابات کی ساکھ اور مضبوط ہو گئی، جو نہ ہو پاتی اگر تمام سیاسی جماعتیں ایک ساتھ استعفیٰ دے دیتیں۔‘
اس دوران متحدہ مجلسِ عمل کے اندر بھی پھوٹ پڑ گئی اور وہ بعد میں علیحدہ ہو گئی۔ ایم ایم اے سے منسلک جماعت جمعیت علما اسلام کی خیبر پختونخواہ میں حکومت تھی اور انھوں نے استعفے دینے سے انکار کر دیا تاکہ ان کی حکومت قائم رہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ایسی صورتحال کا فائدہ حکومت کو ہو جاتا ہے کیونکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ سب جماعتیں ایک ساتھ استعفے نہ دیں اور باز رہیں۔‘
پلڈیٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب 2014 کی مثال دیتے ہیں جب تحریکِ انصاف نے اسمبلی سے استعفے دیے لیکن وہ منظور نہیں ہوئے۔ ’بعد میں انھوں نے اپنے استعفے واپس لے لیے اور اس دوران تکنیکی بنیادوں کو وجہ قرار دے کر انھوں نے الاؤنس بھی وصول کر لیے۔ یہ استعفی دینے کی کوئی اچھی مثال نہیں ہے۔‘ استعفوں کی دھمکی سے حکومت کو نقصان پہنچتا ہے اور اس طرح بین الاقوامی حلقوں میں حکومت کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ’اس وقت تمام تر لڑائی اس بات پر ہے کہ حکومت اور فوج طاقت کا استعمال کر رہے ہیں۔ اپوزیشن ریاست اور حکومت کے درمیان اس گٹھ جوڑ کو توڑنا چاہتی ہے۔ اب ریاست یا تو غیر جانبدار ہو جائے یا پھر ان کے ساتھ ہو جائے۔‘ انھوں نے کہا کہ استعفے دینے سے پارلیمان اور حکومت کا کام رُک جاتا ہے۔ ’جب یہ استعفے دیں گے تو اس سے جمہوری عمل رُک جائے گا۔ جب پارلیمان میں آدھے حصے کی نمائندگی ہی نہیں ہو گی تو یہ ایک قومی بحران بن جائے گا۔ لیکن پوچھنے والا سوال بھی یہی ہے کہ کیا استعفے اتنا بڑا پہنچا سکیں گے؟‘ 9 دسمبر کے روز پی ڈی ایم کا اجلاس ختم ہونے سے کچھ گھنٹے پہلے وزیرِ اعظم عمران خان نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ اگر حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے استعفے دیے تو وہ فوراً خالی نشستوں پر انتخابات کروا دیں گے۔ لیکن سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ’یہ خاصا مشکل ہو گا۔ اگر استعفوں سے اپوزیشن اتنا بڑا بحران پیدا نہیں کر پاتی تو ایسی صورتحال میں وہ باہر نکل آئے گی۔ حکومت کے پاس انتخابات کی طرف جانے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں رہے گا۔ ضمنی انتخابات اس کا حل نہیں ہیں۔ ضمنی انتخابات اتنے بڑے پیمانے پر نہیں ہو سکتے۔ پھر صرف عام انتخابات ہی ہو سکیں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’لانگ مارچ سے پہلے حکومت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت کے امکان ہیں، تو اس کا انتظار کرنا چاہیے۔‘ جہاں تک پاکستان کی فوج کی بات ہے تو سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ’جب تک لانگ مارچ کا اعلان نہیں ہو جاتا وہ اس وقت تک تو پسِ منظر میں رہ سکتی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’فوج کا کردار دو طریقے سے عمل میں آ سکتا ہے۔ یا تو فوج کو مذاکرات کا حصہ بنایا جائے گا یا ان کو تیسرے فریق کی حیثیت سے مداخلت کرنی پڑے گی کہ مذاکرات کیے جائیں۔‘
1977 میں اپوزیشن جماعتوں پر مبنی پاکستان قومی اتحاد نے قومی اسمبلی کے انتخابات کے نتائج کو غیر منصفانہ اور جعلی ہونے کا الزام لگا کر رد کر دیا تھا۔ ان جماعتوں نے اس وقت کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے استعفیٰ طلب کیا اور جب انھوں نے نئے انتخابات کروانے کی حامی بھری تو وہ ان کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہوئے۔ مگر اس شورش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کا فائدہ اٹھا کر اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیا الحق نے بھٹو حکومت کو برطرف کر کے مارشل لا لگا دیا تھا۔ 2014 میں فوجی سربراہ راحیل شریف نے ملک میں جاری تحریکِ انصاف کے دھرنے ختم کرنے کے لیے بات چیت کرنے اور دونوں فریقین کے درمیان صلح کروانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکی۔ تاہم کچھ عرصہ بعد نواز شریف کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دے کر گھر بھیج دیا۔
تاہم سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اس مرتبہ صورتحال یکسر مختلف یوں ہے کہ فوجی اسٹیبلشمینٹ کو وزیراعظم کا ساتھی سمجھا جا رہا ہے لہذا وہ بھی اپوزیشن کے خلاف ایک فریق ہے اور ضامن بننے کی پوزیشن نہیں رکھتی۔گوجرانوالہ میں اکتوبر میں ہونے والے جلسے میں نواز شریف نے براہِ راست جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ فیض حمید کے نام لے کر ان پر الیکشن 2918 میں دھاندلی کے ذریعے عمران کو اقتدار میں لانے کے الزامات عائد کیے تھے۔ انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ فوج کے کہنے پر عدلیہ ان کے خلاف مقدمات چلا رہی ہے۔ اس کے بارے میں مصنف شجاع نواز نے کہا کہ ’فوج بھی ان تمام تر معاملات کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ کہیں مصر کی طرح کا ایک نیا سلسلہ شروع نہ کر دیا جائے جس کے تحت فوج کو اور بھی ذیادہ سپیس مل جائے گی اور جمہوریت کو مذید نقصان پہنچے گا۔‘
اسی دوران سیاسی جماعتوں اور حکومت کے درمیان بات چیت کا بھی عندیہ دیا جا رہا ہے جس کی تصدیق خود وزیرِ اعظم عمران خان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کی۔ انھوں نے کہا کہ کرپشن کے مقدمات سے ہٹ کر وہ دیگر معاملات پر سیاسی جماعتوں سے بات کر سکتے ہیں۔ تاہم اپوزیشن اتحاد کی قیادت کا کہنا ہے کہ اب حکومت کے ساتھ کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے کیونکہ اب عمران خان ان سے این آر او مانگ رہا ہے جو اس کو نہیں ملے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون پہلے پلک جھپکتا ہے۔ کیا عمران حکومت اس تحریک کے نتیجے میں فارغ یو جاتی ہے یا اس کے نتیجے میں اہوزیشن جماعتیں واقعی استعفی دے دیتی ہیں اور حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک کا بھرپور آغاز کر دیتی ہیں؟

جواب دیں