پاک انگلینڈ کرکٹ سیریز کن تنازعات کا شکار ہوتی رہی ہیں؟

پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیسٹ سیریز پاکستان میں کھیلی جائے یا انگلینڈ میں، کوئی نہ کوئی تنازع ضرور سر اٹھاتا ہے، ان میں سب سے بڑا تنازعہ پاکستانی ٹیم کے دورہ انگلینڈ میں پاکستانی بائولرز اور بلے باز پر میچ فکسنگ کے الزامات کا لگنا تھا۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دورۂ انگلینڈ کے موقع پر سامنے آنے والے سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے مرکزی کردار سابق کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ باولرز محمد آصف اور محمد عامر تھے۔ان تینوں کے بارے میں برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ نے بک میکر مظہر مجید کے انکشافات کی روشنی میں یہ خبر دی کہ لارڈز ٹیسٹ میں مخصوص اوورز میں یہ بولرز نوبال کرائیں گے جس کا انھوں نے معاوضہ وصول کیا ہے اور ہوا بھی وہی جو کہا گیا تھا۔
برطانوی پولیس نے لارڈز ٹیسٹ کے دوران ٹیم کے ہوٹل پر چھاپہ مارا۔ کھلاڑیوں کے کمروں کی تلاشی لی اور کرنسی بھی برآمد کی۔ بعد ازاں آئی سی سی نے تینوں کھلاڑیوں پر پانچ سال کی پابندی عائد کر دی، ساتھ ہی لندن کی عدالت نے تینوں کھلاڑیوں اور مظہر مجید کو سزائیں سنائیں اور انھیں جیل جانا پڑا۔
دونوں ٹیموں کے مابین ایک اور تنازعہ تب کھڑا ہوں جب پاکستانی کرکٹ ٹیم پر اوول ٹیسٹ کے دوران آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر نے بال ٹمپرنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے پنالٹی کے پانچ رنز دے دیے۔ کپتان انضمام الحق کا مؤقف تھا کہ ڈیرل ہیئر نے کسی انتباہ کے بغیر یہ قدم اٹھایا ہے چنانچہ پاکستانی ٹیم نے چائے کے وقفے کے بعد میچ جاری رکھنے سے انکار کر دیا اور جب اسے میچ کھیلنے کے لیے آمادہ کیا گیا تو امپائر ڈیرل ہیئر کھیل جاری رکھنے کے لیے تیار نہ تھے۔ انھوں نے میچ ختم کرتے ہوئے انگلینڈ کو فاتح قرار دے دیا۔ یہ تاریخ کا پہلا ٹیسٹ میچ تھا جس کا نتیجہ اس انداز سے سامنے آیا کہ کسی ٹیم کے کھیلنے سے انکار پر حریف ٹیم کو فاتح قرار دیا گیا ہو۔
ایسا ہی ایک تنازعہ امپائر شکور رانا اور انگلینڈ کے کپتان مائیک گیٹنگ کے درمیان فیصل آباد ٹیسٹ میں سامنے آیا۔ جھگڑا تب شروع ہوا جب شکور رانا نے گیٹنگ پر اعتراض کیا کہ وہ باولر کے گیند کرنے کے دوران اپنے فیلڈر کی پوزیشن تبدیل کرا رہے ہیں۔ دونوں کے درمیان میدان میں تکرار اس حد تک بڑھ گئی کہ امپائر شکور رانا نے گیٹنگ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر ڈالا، اس صورت۔حال کے نتیجے میں ایک پورا دن کھیل نہ ہو سکا اور مائیک گیٹنگ کو تحریری طور پر معافی مانگنی پڑی۔
1983 میں انگلینڈ کے فاسٹ باؤلر ای این بوتھم کو پاکستان کا دورہ ادھورا چھوڑ کر وطن واپس جانا پڑا تھا، لیکن انھوں نے جاتے ہی پاکستان بارے یہ متنازع بیان دے ڈالا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں آپ اپنی ساس کو ایک ماہ کے لیے بھیج سکتے ہیں، اس طنزیہ بیان پر بوتھم کو زبردست تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ 1974 میں پاکستانی ٹیم کے منیجر عمرقریشی نے لارڈز ٹیسٹ کے دوران الزام عائد کیا کہ پچ اس حالت میں نہیں تھی جسے وہ تیسرے دن چھوڑ کر گئے تھے۔اس زمانے میں پچ کو ڈھانپا نہیں جاتا تھا، اس وکٹ پر ڈیرک انڈرووڈ نے پاکستان کی آٹھ وکٹیں حاصل کر ڈالی تھیں تاہم پاکستانی ٹیم میچ ڈرا کرنے میں کامیاب ہوگئی۔
سال 2005 میں فیصل آباد ٹیسٹ کے دوران اقبال سٹیڈیم میں شاہد آفریدی یہ سمجھ کر کہ کوئی انھیں دیکھ نہیں رہا وکٹ پر رقص کرنے لگ گئے جس کا مقصد اسے خراب کرنا تھا، لیکن وہ کیمرے کی زد میں آ گئے جس کے بعد میچ ریفری روشن مہانامہ نے ان پر ایک ٹیسٹ اور دو ون ڈے کی پابندی عائد کر دی۔
