پی ٹی آئی اپنے ہی لوگوں کے خلاف تحقیقات کیسے کرے گی؟

وزیر اعظم عمران خان نے 2018 کے سینیٹ انتخابات میں مبینہ طور پر ووٹوں کی خرید و فروخت سے متعلق منظر عام پر آنی والی ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کےلیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، تاہم اب سوال اٹھ رہے ہیں اس کے اراکین اپنے ہی پارٹی ارکان کی شفاف تحقیقات کیسے کر سکیں گے۔
جمعرات کو وزیر اعظم ہاوس سے ’سینیٹ انتخابات میں رشوت/ووٹ کی خریداری‘ کے موضوع کے ساتھ جاری ہونے والے سرکلر/بیان کے مطابق تین وفاقی وزرا پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی فوجداری اور انتخابات سے متعلق قوانین کی روشنی میں اقدامات تجویز کرے گی۔ تحقیقاتی کمیٹی میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری، وفاقی وزیر انسانی حقوق شیرین مزاری اور وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ مرزا شہزاد اکبر شامل ہوں گے، جو ایک مہینے میں رپورٹ تیار کریں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کمیٹی کی تشکیل سے متعلق سرکلر میں اس کے ٹرمز آف ریفرنس کا کہیں بھی ذکر موجود نہیں ہے، جو یہ واضح کرتے ہیں کہ کوئی بھی تحقیقاتی کمیٹی یا کمیشن کیسے کام کرے گا اور اس کی حدود کیا ہوں گی۔ وزیر اعظم عمران خان نے نجی ٹی وی چینل کو دیے گیے ایک انٹرویو میں کہا کہ کمیٹی تحقیقات کےلیے حکومتی اداروں کی مدد لے سکتی ہے، اور اس سلسلے میں انہوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور قومی احتساب بیورو (نیب) کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سفارشات آنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجا جائے یا مزید تحقیقات کےلیے ایف آئی اے یا نیب کے حوالے کیا جائے۔ تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی کنول شوزب نے کہا کہ وفاقی وزرا پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی کا کام بہت مختصر ہے لیکن ان کی سفارشات بہت موثر ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کو صرف مستقبل میں کارروائی کے سلسلے میں سفارشات مرتب کرنے کا کام سونپا گیا ہے، جن کی روشنی میں آگے بڑھا جائے گا۔ کمیٹی کے تشکیل ہوتے ہی اس پر تنقید بھی شروع ہوگئی ہے جس میں سب سے بڑا اعتراض ہے کہ تحریک انصاف حکومت کے وزرا کیسے اپنی ہی جماعت کے ایم پی ایز کے خلاف انضباتی کارروائی کےلیے تحقیقات کر سکتے ہیں؟ سپریم کورٹ آف پاکستان کے وکیل عارف چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت کو خود اپنے وزیروں کے ذریعے تحقیقات کروانے کے بجائے یہ معاملہ براہ راست ایف آئی اے یا نیب کے حوالے کر دینا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزرا کیسے اپنی ہی جماعت کی بھاری بھرکم شخصیات سے تحقیقات کر سکیں گے اور کیسے اپنے ہی لوگوں کے خلاف کارروائی کی سفارش دے پائیں گے؟ ان کے خیال میں حکومت کو اس معاملے کی تحقیقات کےلیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) بنانا چاہیے تھی جس میں مختلف محکموں سے ماہرین شامل ہوتے جو شفاف انداز میں معاملات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے۔ عارف چوہدری کا کہنا تھا کہ ویڈیو کا فارنزک کرکے سچائی جانی جا سکتی ہے، تاہم یہ کام صرف اس میدان کے ماہرین ہی کر سکتے ہیں۔ سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ ایک ہائی پروفائل کیس ہے اور اس کی تحقیقات کسی ریٹائرڈ جج کے ذریعے بھی کروائی جا سکتی تھی۔ دوسری طرف سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کنور دلشاد کے خیال میں ویڈیو کا تعلق چونکہ سینیٹ انتخابات میں مبینہ ہارس ٹریڈنگ اور ووٹوں کی خریدو فروخت سے ہے اس لیے اس معاملے کو براہ راست الیکشن کمیشن کو بھیجا جانا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا: ’حکومت کو چاہیے تھا کہ تمام شواہد اور ثبوت الیکشن کمیشن کو بھیجتی اور الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت کارروائی کی استدعا کرتی۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت الیکشن کمیشن کسی بھی سرکاری محکمے کی خدمات حاصل کر سکتا ہے اور اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہوتا۔ کنور دلشاد کا خیال تھا کہ حکومت کے قانونی مشیران اس نقطے کو شاید سمجھ نہیں پائے کہ کمیٹی اراکین جن کا تعلق تحریک انصاف سے ہے وہ اپنی ہی پارٹی کے لوگوں کے خلاف تحقیقات کیسے کر سکیں گے؟ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما ملک احمد نے ویڈیو اسکینڈل سے متعلق تحقیقات کےلیے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تجویز دی۔ الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد نے کہا کہ اگر کسی بھی تحقیق کے نتیجے میں ثابت ہو جاتا ہے کہ 2018 کے سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کی خریدو فروخت ہوئی ہے تو چئیرمین سینیٹ خریدے ہوئے ووٹوں کی مدد سے کامیاب ہونے والے سنینیٹرز کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن اس ریفرنس کی شنوائی کرے گا اور کرپشن ثابت ہونے کی صورت میں مذکورہ اراکین کو نا اہل قرار دے سکتا ہے۔ کنور دلشاد کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں انتخابات میں غلط یا غیر قانونی طریقوں سے ووٹ حاصل کرنے کے تمام طریقوں کو بیان کیا گیا ہے اور الیکشن کمیشن ان اراکین کے خلاف مقدمہ سیشن کورٹ کو بھیج سکتا ہے، جو وہاں بھی ثابت ہونے کی صورت میں غیر قانونی ووٹ حاصل کرنے والوں کو تین سے پانچ سال کی قید ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹوں کی خریداری کےلیے پیسے دینے والا اور جس کے گھر پر ادائی کی وصولی ہوئی ہو وہ بھی برابر کے شریک مجرم تصور ہوں گے اور ان کے خلاف بھی قانون کے تحت کارروائی عمل میں آ سکتی ہے۔ چند روز قبل ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں پاکستان تحریک پاکستان اور بعض دوسری جماعتوں کے کچھ اراکین خیبر پختونخوا اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ایک رہنما سے بھاری نقد رقوم وصول کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں، جو مبینہ طور پر 2018 کے سینیٹ انتخابات میں ووٹ دوسری پارٹی کے حق میں استعمال کیے جانے کی قیمت تھی۔ ویڈیو میں تحریک انصاف کے خیبر پختونخوا میں وزیر قانون سلطان محمد خان بھی دیکھے جا سکتے ہیں، جنہیں ویڈیو جاری ہونے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ ویڈیو میں تحریک انصاف کے ایم پی ایز سردار ادریس، مہراج ہمایوں اور دینا خان اور پیپلز پارٹی کے محمد علی باچا کو دیکھا جا سکتا ہے۔ تحریک انصاف نے 2018 میں سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کی خرید و فروخت میں مبینہ طور پر ملوث اپنے 20 اراکین پختون خوا اسمبلی کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔ ویڈیو میں نظر آنے والے اراکین اسمبلی نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور وفاقی وزیر پرویز خٹک کو بھی اسکینڈل میں ملوث کیا ہے تاہم تحریک انصاف کے دونوں رہنما الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔
