کیا پاکستان میں طالبان حملے افغانستان میں ہلاکتوں کا رد عمل ہیں؟


افغانستان میں چھپے ہوئے پاکستانی طالبان کمانڈروں کی افغان سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اوپر تلے ہلاکتوں کے بعد ردعمل کے طور پر طالبان کے ساتھیوں نے پاکستان میں دوبارہ حملے شروع کر دئیے ہیں۔
افغان امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ اورافغان طالبان کے مابین قطر امن معاہدے میں اہم ترین کردار ادا کرنے کے بعد واشنگٹن نے اسلام آباد کا برسوں پرانا مطالبہ مانتے ہوئے افغانستان میں چھپے ہوئے پاکستانی طالبان کمانڈروں کو چن چن کر مارنا شروع کر دیا ہے جس کے ردعمل میں پاکستان میں خصوصا اس کے قبائلی اضلاع میں طالبان کی خونی کارروائیوں میں تیزی آگئی ہے اور فوج پر حملوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔
یاد رہے کہ جون 2020 کے آخری ہفتے میں افغانستان کے علاقے کنڑ میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ایک اہم رکن اور شہریار محسود کے قریبی ساتھی قاری عثمان عرف منصور محسود کو قتل کردیا گیا۔ اس سے قبل 13 جون کوصوبہ ننگر ہار میں بھی ایک طالبان کمانڈر کی لاش ملی تھی۔ انہی دنوں تحریک طالبان پاکستان کے ایک کمانڈر عزیزاللہ عرف شامزئی بابا کو بھی قتل کیاگیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس سال فروری اور جون میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے تین اہم رہنماؤں کے قتل سے تنظیم کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان تینوں رہنماؤں کے قتل اب تک معمہ بنے ہوئے ہیں اور یہ واضح نہیں ہو سکا کہ افغانستان میں ان کے قتل کے پیچھے کون ہو سکتا ہے۔ اگرچہ شیخ خالد حقانی، شہر یار محسود اور قاری سیف یونس المعروف سیف اللہ پشاوری کی ہلاکت تاحال ایک معمہ ہے تاہم طالبان ان ہلاکتوں کی ذمہ داری امریکہ پر عائد کرتے ہیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ ان واقعات کے بارے میں افغان حکومت، پاکستان حکومت اور طالبان نے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے اور نہ ہی ان کے قتل کی ذمہ داری کسی نے قبول کی ہے۔ یہ واقعات افغانستان میں پیش آئے لیکن تشدد کے واقعات سرحد کی اس جانب یعنی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی پیش آئے ہیں اور گذشتہ کچھ عرصے سے ان واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں کاروں کا خیال ہے کہ گذشتہ ہفتے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں تشدد کے تین واقعات پیش آئے ہیں جن میں پاکستانی فوج کے کیپٹن سمیت دو فوجی اہلکار شہید ہوئے۔ اس معرکے میں چار شدت پسند جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
پاک افغان امور کے ماہرین کے نزدیک سرحد کی دونوں جانب بڑھتے ہوئے ان واقعات میں واضح تعلق موجود ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ اورافغان طالبان کے مابین قطرامن معاہدے میں اہم ترین کردار ادا کرنے کے بعد واشنگٹن نے اسلام آباد کا برسوں پرانا مطالبہ مانتے ہوئے افغانستان میں چھپے ہوئے پاکستانی طالبان کو چن چن کر مارنا شروع کر دیا ہے لیکن اس کے ردعمل میں پاکستان کے قبائلی اضلاع میں بھی قتل و غارت گری میں تیزی آگئی ہے اور فوج پر حملوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب 2014 میں شروع کیا گیا تھا اور یہ کوئی تین سے ساڑھے تین سال تک جاری رہا۔ ان علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی واپسی کے کچھ عرصہ بعد تک حالات معمول کے مطابق رہے لیکن گذشتہ سال تشدد کے واقعات میں اضافہ تشویشناک رہا ہے۔ 2019 میں صرف شمالی وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ کے 51 واقعات پیش آئے جبکہ اس دوران 80 دیسی ساختہ بموں کے دھماکے ہوئے تھے۔ اسی طرح سیکیورٹی فورسز اور دیگر افراد پر حملوں کی تعداد 20 تک بتائی جاتی ہے۔ اس سال اب تک 20 سے 25 تشدد کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
شدت پسندی پر تحقیق کرنے والے باچا خان ٹرسٹ کے سربراہ پروفیسر خادم حسین کے خیال میں افغانستان کے صوبہ کنڑ میں ٹی ٹی پی کے نام سے نیٹ ورک تقریباً ٹوٹ چکا ہے اور قیادت بھی زیادہ متحرک نہیں ہے ایسی صورتحال میں جو لوگ اب ہیں وہ افغان طالبان کے ناراض گروپ کے ساتھ مل کر نیٹ ورکنگ کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جائے۔اس کے لیے ان کا آزمایا ہوا طریقہ یہی ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے سے خوف پھیلائیں اور لوگوں کی دشمنیوں کو استعمال کرتے ہوئے دھماکے کیے جائیں اور اس طریقے سے اپنے لیے فنڈز اکھٹے کیے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں باجوڑ سے لے کر جنوبی وزیرستان میں تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ اس بارے میں عسکری امور کے ماہر اور تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ کے مطابق شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کا ایک دھڑا زیادہ متحرک نظر آتا ہے جبکہ باقی دھڑے آپس میں ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں اس لیے اس موقع پر حالات بہتر کیے جا سکتے ہیں۔انھوں نے افغانستان میں تشدد کے واقعات کے بارے میں کہا کہ افغانستان میں مختلف دھڑوں کی آپس کی دشمنیوں کی وجہ سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں اور ان میں کوئی ایجنسی یا دیگر اداروں کی کارروائی نظر نہیں آتی۔ محمود شاہ کا موقف ہے کہ افغانستان میں ہونے والے واقعات اور پاکستان میں ہونے والے واقعات کا براہ راست کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔
تحریک طالبان پاکستان حلقہ محسود کی جانب سے شائع کردہ ایک تازہ ترین کتابچے میں افغانستان کے صوبے پکتیکا میں تنظیم کے درجنوں رہنماؤں کی ہلاکتوں کا اعتراف کرتے ہوئے الزام لگایا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کے ایما پر امریکی سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ٹی ٹی پی کے رہنماؤں اور ہمددروں کو افغانستان میں ڈرون اور زمینی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مذکورہ کتابچے میں یہ اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ تنظیم نے افغانستان میں اپنی سرگرمیاں مکمل ترک کی ہوئی ہیں مگر وہاں سے سرحد پار پاکستان میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ ان حالات میں بھی محض پاکستانی فوج کو خوش کرنے کےلیے امریکی اور افغان سیکیورٹی ادارے تنظیم کے رہنماؤں کو اپنا ہدف بنا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے گذشتہ کئی برسوں سے امریکی حکومت پردباؤ ڈالا جارہا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ٹی ٹی پی کے ٹھکانے ختم کریں۔ چند ماہ قبل قطرمیں افغان طالبان اور امریکہ کے مابین تاریخی امن معاہدہ کروانے کے انعام کے طورپرٹی ٹی پی کے رہنماؤں پر حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی تاہم بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں انہی ہلاکتوں کے ردعمل میں تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے قبائلی اضلاع میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Rating

Back to top button