کیا کرونا وائرس سازش کے تحت لیبارٹری میں بنایا گیا؟

کرونا وائرس کی وبا نے جتنی تیزی سے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے، اس سے زیادہ تیزی سے اس وائرس سے متعلق افواہیں اور سازشی مفروضوں نے اپنے پنجے پھیلائے ہیں۔ ان میں سے ایک سازشی مفروضہ یہ ہے کہ یہ وائرس قدرتی نہیں بلکہ امریکہ یا اسرائیل کی لیبارٹریوں میں تیار ہوا ہے اور اس کا مقصد چینی معیشت کو تباہ کرنا اور اس وبا کی ویکسین تیار کرکے اربوں ڈالر کمانا تھا۔
پہلے پہل چین نے بھی یہی کہا تھا کہ کرونا وائرس چمگاڈروں اور پینگولین سے پھیلا۔ تاہم اس وبا کے لیبارٹری میں تیار کیے جانے کے سازشی نظریے کو تقویت تب ملی جب چین کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے الزام لگایا کہ کرونا وائرس امریکی فوج نے بائیولوجیکل ہتھیارکے طور پر چین میں پھیلایا۔ چینی ترجمان نے الزام عائد کیا کہ یہ وائرس امریکی فوجی ووہان تب لے کر آئے تھے جب نومبر 2019 میں ووہان میں دنیا بھر کے فوجیوں کا ٹورنامنٹ ہو رہا تھا، جس میں امریکی فوجی بھی شریک تھے، اور شاید ان میں سے کسی کو کرونا کی بیماری تھی، جو ووہان میں پھیل گئی۔ ایک تو چینی ترجمان نے اپنے الزام کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے، اور دوسرے، اگر یہ بات درست ہوتی تو پھر کرونا وائرس کو پہلے امریکہ میں پھیلنا چاہیے تھا، نہ کہ چین میں۔
کرونا کے لیبارٹری میں تیار کیے جانے کے سازشی مفروضوں کو مزید تقویت تب ملی جب ایران نے سرکاری سطح پر اسے امریکی سازش قرار دیا ہے، البتہ انہوں نے اس دعوے کی حمایت میں کوئی ثبوت یا شواہد دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
اب حال ہی میں سابق پاکستانی سفیر عبداللہ حسین ہارون نے بھی ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں دنیا جہان سے مفروضے اکٹھے کر کے بےپر کی اڑائی ہیں اور اسے کسی نیو ورلڈ آرڈر کا حصہ قرار دیا ہے۔
آج ہم کرونا وائرس کے آغاز کے بارے میں موجود غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کرونا وائرس کوئی نئی مخلوق نہیں ہے۔ کرونا وائرس کی دو سو کے قریب قسمیں اور نسلیں مختلف جانوروں میں پائی جاتی ہیں، اور اس سے پہلے چھ طرح کے کرونا وائرس انسانوں کو بھی متاثر کر چکے ہیں، جن میں سے ایک سارس وائرس ہے جس نے 2003 میں دس ہزار کے قریب لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ اسی طرح مرس بھی کرونا وائرس کی ایک قسم ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں اونٹوں سے انسانوں میں منتقل ہوا اورسینکڑوں زندگیاں نگل گیا۔
کرونا کو کسی لیبارٹری میں تیار کیے جانے کے مفروضے کو پرکھنے کے لیے سائنس دانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے حالیہ کرونا وائرس کے جینیاتی مواد کا تحقیقی جائزہ لیا۔ اس تحقیق میں سکرپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، نیویارک کی یونیورسٹی آف کولمبیا، نیو آرلینز کی ٹولین یونیورسٹی، سکاٹ لینڈ کی ایڈنبرا یونیورسٹی اور آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے حصہ لیا۔ یہ تحقیق معتبر برطانوی سائنسی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہوئی اور آن لائن دستیاب ہے۔
سائنس دانوں نے اس تحقیق میں دو چیزوں پر خاص توجہ دی۔ ایک تو وہ کنڈا نما پروٹین ہے جس کی مدد سے یہ وائرس انسانی خلیوں تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ اس پروٹین کو آر بی ڈی کہا جاتا ہے۔تحقیق کے مطابق اس آر بی ڈی کی ساخت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قدرتی طور پر ارتقا پذیر ہوا ہے، مصنوعی طریقے سے نہیں بنایا گیا۔
دوسری چیز سارس کو وی 2 کا ساختی ڈھانچہ ہے۔ یہ ڈھانچہ پہلے سے معلوم کسی وائرس سے نہیں ملتا، بلکہ چمگادڑوں اور چیونٹی خور جانور پینگولن میں پائے جانے والے کرونا وائرسوں سے بہت مشابہ ہے۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ اگر یہ وائرس لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہوتا تو اس کے جینیاتی مواد کے اندر کوئی پیٹرن نظر آتا۔ مگر اس کے جین اس قدر بےترتیبی سے بکھرے ہوئے ہیں جو قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں۔ تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر کرسٹین اینڈرسن نے کہا: ’وائرس کی یہ دو خصوصیات، اس کی آر بی ڈی کی ساخت اور اس کا منفرد مالیکیولر ڈھانچہ سارس کو وی 2 کے لیبارٹری میں تخلیق کی تردید کرتے ہیں۔‘
ڈاکٹر اینڈرسن کہتے ہیں کہ ہمیں راتوں رات ہی پتہ چل گیا تھا کہ یہ وائرس قدرتی ہے۔ ’جینیاتی ڈیٹا ناقابلِ تردید طور پر ظاہر کرتا ہے کہ اس وائرس کو کسی سابق وائرس کے ڈھانچے پر نہیں بنایا گیا۔‘دنیا کے دوسرے سائنس دان اس بات سے متفق ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کی بازل یونیورسٹی کی مالیکیولر ایپی ڈیمیالوجسٹ ڈاکٹر ایما ہوڈکرافٹ اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں، بلکہ وہ ایک یورپی ادارے سے منسلک ہیں جو اس وائرس کے جینیاتی مواد پر تحقیق کر رہا ہے۔ وہ بھی اپنی تحقیق کے نتائج بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’ہمیں ہرگز کسی قسم کے شواہد نہیں ملے کہ یہ وائرس مصنوعی طریقے سے بنایا گیا ہو۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس چمگادڑ سے براستہ پینگولن انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔ جیسے اس سے پہلے سارس کا وائرس مشک بلاؤ نامی جانور (civet) سے یا مرس کا وائرس اونٹوں سے انسانوں کو لگا تھا۔ عام طور پر جانوروں کے وائرس انسانوں کو بیمار نہیں کر سکتے، وہ اس لیے کہ مختلف جانداروں کے حیاتیاتی نظام مختلف ہوتے ہیں اور ان کے اندر بیماریاں پھیلانے والے جراثیم بھی الگ الگ ہوتے ہیں۔ جانور سے انسان میں منتقل ہونے کے لیے وائرس کو ایک ارتقائی چھلانگ لگانی پڑتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کے اندر جینیاتی مواد کے اندر اس طرح کی ارتقائی تبدیلیاں آنا ضروری ہوتی ہیں جو اسے جانوروں سے نکل کر انسانوں کو بیمار کرنے کا اہل بنا سکے۔لیکن بڑے پیمانے پر وبا پھیلانے کے لیے یہ پہلا قدم ناکافی ہے، کیوں کہ اگر بیماری صرف جانور سے انسان کو لگے تو جانوروں سے انسان کا ربط آسانی سے ختم یا کم کر کے بیماری کو روکا جا سکتا ہے۔
کو وڈ 19 جیسی عالمگیر وبا کا باعث بننے کے لیے وائرس کو ایک اور ارتقائی جست لگانا ضروری ہوتی ہے۔ اور وہ ہے انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہونے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ سارس وائرس نے یہ دونوں مراحل طے کیے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس دنیا کے لیے وبال بنا۔
کرونا وائرس کے انسان تک ترسیل کے دو ہی راستے ہیں۔پہلا یہ ہے کہ یہ چمگادڑوں میں قدرتی طور پر موجود تھا، پھر وہاں سے ارتقائی جست لگا کر ممکنہ طور پینگولن میں گیا پھر وہاں سے کسی ایسے انسان میں منتقل ہوا جس نے پینگولن کو چھوا تھا یا اس کے قریب رہا تھا یا اسکا کھایا تھا۔ یاد رہے کہ پینگولن چیونٹی خور جانور ہے جو پاکستان میں بھی پایا جاتا ہے، خاص طور پر چکوال کے علاقے میں۔
اس فردِ میں پہنچنے کے بعد اس وائرس میں ایک اور جینیاتی تبدیلی واقع ہوئی جس نے اسے انسان سے انسان تک پھیلنے کے قابل بنا دیا۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ یہ وائرس چمگادڑ کے اندر ہی دونوں مراحل سے گزرا اور پھر انسانوں تک پہنچا۔ یہ صورت زیادہ خطرناک ہے کیوں کہ اس کا مطلب ہے کہ یہ وائرس اب بھی جنگلی چمگادڑوں میں کہیں موجود ہے اور اگر اسے کسی نہ کسی طریقے سے انسانوں سے ختم بھی کر دیا جائے تب بھی یہ دوبارہ چمگادڑوں سے انسان میں منتقل ہو کر ایک اور وبا کو جنم دے سکتا ہے۔ مختصرا یہ کہ کرونا وائرس کسی لیبارٹری میں بنایا نہیں گیا بلکہ یہ قدرتی وائرس ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Rating

Back to top button