کیا گرم موسم کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روک پائے گا؟

جہاں ایک طرف چین سے پھیلنے والا کرونا وائرس دنیا بھر میں خوف کی علامت بن چکا ہے اور جدید میڈیکل سائنس اپنی تمام تر کامیابیوں کے باوجود اس مہلک وائرس پر قابو پانے میں ناکام ہے ، وہیں یہ رائے بھی سامنے آرہی ہے کہ گرم موسم کا آغاز اس وبا کو بے اثر کر دے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عوام سے خطاب میں کہا ہے کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں کیونکہ جب موسم تھوڑا گرم ہوگا تو کرونا وائرس کرشماتی طور پر غائب ہوجائے گا، اور یہ سچ ہے۔ لیکن سچ تو یہ بھی ہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے پہلے مریض کا کیس سامنے آگیا ہے۔
وبائی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر موجود ہیں جو دیگر وائرسز کو گرم موسم میں پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیتے ہیں مگر ایسا کورونا وائرس کے ساتھ ہوگا یا نہیں، ابھی کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے سے وائرس کے پھیلاﺅ کی رفتار سست ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ وہ ہمیشہ کے لیے غائب ہوگیا۔ مگر ایسی مثالیں ضرور موجودہیں جو اس خیال کو تقویت دیتی ہیں کہ کرونا وائرس کا پھیلاﺅ موسم گرم میں تھم جائے۔
امریکی محکمہ صحت سینٹرزفار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کی ڈاکٹر نینسی میسیونیر نے انتباہ کیا ہے کہ گرم موسم میں کرونا کیسز کی تعداد میں کمی آسکے گی، تاہم کچھ حتمی کہنا ابھی قبل از وقت ہے، کیونکہ ابھی تو ہم اس وائرس کے پہلے سال سے بھی نہیں گزرے ہیں۔ دیگر طبی ماہرین نے بھی اتفاق کیا کہ یہ قبل از وقت ہوگا اگر یہ کہا جائے گرم موسم وائرس کے پھیلاﺅ پر اثرانداز ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے متعدد عناصر ہوسکتے ہیں جو تعین کریں گے کہ کب اور کیسے یہ وبا تھم سکتی ہے، درحقیقت انفیکشن کنٹرول کے اقدامات، موسم، وائرس کے پھیلاﺅ کی شرح اور انسانی مدافعت مستقبل میں اس حوالے سے کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ہانگ کانگ کے ماہر نکولس کا کہنا تھا کہ یہ کورونا وائرس ابھی نیا ہے اور لوگوں میں اس کے حوالے سے قدرتی مدافعت موجود نہیں تو اس بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ماضی میں کورونا وائرسز کی دیگر 2 جان لیوا اقسام یعنی سارس اور مرس سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کرونا وائرس یا کووڈ 19 گرم موسم میں کس حد تک اثرات مرتب کرسکتا ہے۔تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر گرمیوں میں یہ وائرس کم متحرک ہوا تو اگلے سرد موسم میں یہ پلٹ بھی سکتا ہے۔
کیلیفورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر چارلس چیو کے مطابق اگر مختلف ممالک میں اس کے پھیلاﺅ میں تیزی رہی تو اس وائرس کا خاتمہ بہت مشکل ہوجائے گا، ایسا بھی خطرہ ہے کہ یہ بعد میں سیزنل وائرس کی شکل اختیار کرلے۔انہوں نے 2009 میں سوائن فلو کی وبا کی جانب اشارہ کیا جو اس سال اپریل میں پھیلنا شروع ہوا اور انسانی آبادی میں مطابقت اختیار کرلی اور اب اکثر سرد مہینوں میں واپس لوٹتا ہے۔ طبی ماہرین اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں حکام کو گرم موسم کے خیال پر مطمئن نہیں ہوجانا چاہیے، درحقیقت اس کی تشخیص اور علاج کے عمل کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور ایسی پالیسیوں کا اطلاق کرنا چاہے جو اس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں کمی لاسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Rating

Back to top button