ہزار سے زائد غیرملکی تبلیغی پاکستانی قرنطینہ مراکز میں قید

صوبہ خیبرپختونخوا میں تبلیغی جماعت کے 535 غیر ملکی شہریوں کو کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر مختلف شہروں کے قرنطینہ مراکز میں منتقل کردیا گیا ہے جبکہ ان میں سے ایک درجن کے قریب افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد انھیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ تمام افراد لاہور کے رائیونڈ تبلیغی اجتماع میں موجود تھے جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی تھی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں قرنطینہ مراکز میں منتقل کیے جانے والے تمام غیر ملکی دراصل لاہور کے سالانہ رائیونڈ اجتماع میں شرکت کے بعد یہاں پہنچے تھے۔ کرونا وباء پھیلنے کے بعد لاک ڈاون شروع ہونے سے چند روز قبل یہ لوگ خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں تبلیغی کی ٹولیوں کی شکل میں پہنچ چکے تھے۔ تاہم وائرس پھیلنے کے باعث یہ لوگ مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔ اب حکومت نے کرونا کی وباء کے باعث ان تمام غیر ملکی تبلیغی اراکین کو تلاش کر کے قرنطینہ مراکز بھجوادیا ہے تاہم اب بھی ایک بڑی اکثریت اپنی مساجد اور تبلیغی مراکز میں موجود قرنطینہ میں مقیم ہیں۔
ذرائع کے مطابق صوبے میں موجود غیرملکیوں کا تعلق چین،فرانس، جنوبی افریقہ ٗ، بیلجیم، اردن ٗقطر ٗافغانستان ٗکرغستان ٗیمن ٗنائجیریا ٗتھائی لینڈ ٗمراکش ٗانذونیشاء ٗفلپائن ٗسعودی عرب ٗسری لنکا ٗشام ٗبرازیل ٗملائشیاء ٗصومالیہ اورکینیاء سے بتایا جاتا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ 535 کے قریب غیرملکی مختلف تبلیغی اراکین اسوقت صوبے کے مختلف قرنطینہ مراکز میں موجود ہیں جہاں ان کے ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں اور درجن بھر کے قریب افراد پہلے ہی کرونا پوزیٹیو نکلے ہیں۔ جن کے ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت موصول ہورہی ہے انھیں ہسپتالوں میں داخل کرکے ان کا علاج شروع کردیا گیا ہے۔تاہم حکومت پاکستان کے لیے اس وقت زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ تمام لوگ رائیونڈ کے تبلیغی اجتماع سے صوبہ خیبر پختونخوا پہنچے۔ لہذا اب بڑا سوال یہ ہے کہ رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماع سے کتنے لوگ کرونا کا وائرس لے کر اہنے گھروں کو گئے۔
لاہور کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے مطابق رائیونڈ کے تبلیغی اجتماع میں آٹھ لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے تھے جن میں بیرونِ ملک سے آئے ہزاروں لوگ بھی شامل تھے۔ وہ دو راتیں اور تین دن وہاں رکے تھے۔ اس کے بعد ان کی ’حلقہ بندیاں‘ ہوئیں اور وہ بسوں پر سوار ملک کے مختلف شہروں کی طرف کوچ کر گئے۔ اس وقت تک چین، ایران، یورپ، امریکہ سمیت دنیا بھر میں یہ ثابت ہو چکا تھا کہ کرونا وائرس اجتماعات کے ذریعے بے انتہا تیزی سے پھیلتا ہے۔ تو کیا تبلیغی جماعت کے اجتماع کے دوران بھی ہو سکتا ہے ایسا ہوا ہو؟
اب صورتحال یہ ہے کہ حکومتِ پنجاب نے رائیونڈ میں تبلیغی مرکز کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ وہاں موجود سینکڑوں افراد میں سے صرف 200 افراد کو تاحال ٹیسٹ کیا گیا ہے اور 56 میں کرونا وائرس پایا گیا ہے۔ اس وقت بھی تبلیغی مرکز میں دو ہزار سے زائد افراد موجود ہیں جن میں سے 600 کے قریب غیرملکی ہیں۔ ان تمام لوگوں کو اسی مرکز میں قرنطینہ کر دیا گیا یے جبکہ چند درجن افراد کو کالا شاہ کاکو کے قرنطینہ مرکز بھیج دیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Rating

Back to top button