ارشد شریف قتل کیس سے جڑے چار اہم افراد کونسے ہیں؟

معروف پاکستانی اینکر اور صحافی ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے مزید انکشافات کا سلسلہ جاری ہے، ارشد شریف کے ساتھ موجود ڈرائیور پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے، کہ خود کو ارشد شریف کا بھائی ظاہر کرنے والا یہ مشتبہ شخص آخر ہے کون؟
معروف اینکر پرسن و ٹی وی میزبان سعید علی حیدر نے اپنے فیس بک پیج پر وی لاگ کے ذریعے ارشد شریف کے ساتھ موجود ڈرائیور پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ بقول پولیس کے ایک ایسی گاڑی جس میں بچے کو اغوا کر کے لے جایا جا رہا تھا، اس گاڑی کو روکنے کا اشارہ کیا گیا لیکن وہ نہیں رکی جس کے بعد اس پر فائرنگ کر دی گئی، لیکن ایسا کیسے ممکن ہے کہ اگر ایک گاڑی کی جانب سے کوئی مزاحمت نہیں ہوتی، کوئی فائرنگ نہیں ہوتی تو پولیس یکطرفہ کارروائی کیسے کر سکتی ہے؟
دوسری بات یہ کہ اگر پولیس کو گاڑی روکنا مطلوب ہو تو اس کو گاڑی کے ٹائروں پر فائر کرنے چاہئیں، تاکہ گاڑی زیادہ تیزی سے چل ہی نہ سکے، یا پھر دوسری صورت میں گاڑی کو روکنے کیلئے ڈرائیور کو گولی ماری جاتی ہے، حیرانی اس بات پر ہے کہ ساری کی ساری گولیاں اور رائونڈ ارشد شریف صاحب کی جانب ہی کیوں چلائے گئے، ڈرائیور پر ایک بھی فائر نہیں لگا۔سعید علی حیدر کے مطابق اس کہانی میں دو کردار بڑے اہمیت کے حامل ہیں اور مشکوک ہیں جن میں ایک خرم احمد اور دوسرا وقار احمد ہے، خرم احمد نامی شخص ارشد شریف صاحب کا ڈرائیور تھا جس کو کینیا کی پولیس نے ارشد شریف کا بھائی بتایا ہے جوکہ بالکل غلط ہے۔
وقار احمد نامی دوسرا شخص کینیا کی کاروباری شخصیت ہے جوکہ گھر بنا کر فروخت کرتا ہے اور اس کی کمپنی بھی ہے، وقار احمد ہی وہ شخص ہے جس کے پاس خرم احمد سب سے پہلے پہنچا، یعنی گاڑی پر فائرنگ کے بعد خرم نے گاڑی نہیں روکی اور سیدھا وقار احمد کے پاس گیا اور اس کو سب کچھ بتایا کہ ہماری گاڑی پر فائرنگ ہوئی ہے اور میرے ساتھ موجود شخص موقع پر مارا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وقار احمد کی اسلحہ کمپنی کا بھی انکشاف سامنے آیا ہے، وقار کی ایمو ڈمپ نامی کمپنی ہے اور اس کا ایک شوٹنگ رینج بھی ہے جہاں لوگوں کو فائرنگ کی تربیت دی جاتی ہے جبکہ اس کے ساتھ یہ کمپنی اسلحہ اور دیگر ساز و سامان کینیا کی فوج کو فروخت بھی کرتی ہے۔
سعید علی حیدر نے سوشل میڈیا صارف کے حوالے سے بتایا کہ وقار احمد نے اپنے یوٹیوب چینل پر اپنے شوٹنگ رینج کا بتایا ہے جبکہ فائرنگ کے واقعہ سے چند گھنٹے قبل ارشد شریف بھی اس شوٹنگ رینج پر موجود تھے اور ان کو تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔سعید علی حیدر نے بتایا کہ کینیا کے ساتھ پاکستان میں موجود دو اہم شخصیات ارشد شریف کے قتل کے متعلق بڑی اہم معلومات فراہم کر سکتی ہیں، ان میں ایک شخصیت شیری مزاری اور دوسری شخصیت عمران خان خود ہیں، عمران خان خود یہ کہہ چکے ہیں کہ مجھے پتہ چل گیا تھا کہ ارشد شریف کو قتل کر دیا جائے گا، اسی لیے میں ارشد شریف کو پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک جانے کا کہا تھا، تو عمران خان کو پوچھا جانا چاہئے کہ آپ کو کس نے بتایا؟ کیسے پتا چلا؟ اگر عمران خان بتائیں تو اس کیس کو حل کیا جا سکتا ہے۔
دوسری طرف شیریں مزاری صاحبہ کا 27 اگست 2022 کا انٹرویو دیکھ لیں جس میں وہ بتا رہی ہیں کہ ارشد شریف کی ہیڈ منی جاری کر دی گئی ہے، ارشد شریف کو قتل کروانے کے لیے دہشتگرد تنظیموں کو رقم دے دی گئی ہے، اور اب واقعہ ہونے کے بعد شیریں مزاری کو شامل تفتیش کر کے اس سلسلے میں اہم حقائق سامنے لائے جا سکتے ہیں۔
سعید علی حیدر کے مطابق ارشد شریف قتل کیس سے جڑے چار اہم افراد سے تفتیش ملزموں کو بے نقاب کر دے گی، اس میں پہلا فرد خرم احمد ہے جوکہ ارشد شریف کے ساتھ گاڑی میں موجود تھا اور اس کو خراش تک نہیں آئی، دوسرا فرد وقار احمد ہے جوکہ کینیا میں بزنس مین ہے، فائرنگ کے بعد گاڑی کو سب سے پہلے وقار حمد کے پاس لے جایا گیا، تیسرا فرد عمران خان اور چوتھی شخصیت شیریں مزاری اس کیس کو سُلجھانے میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
