ازبکستان میں افغان فوجی جہاز گر کر تباہ

ازبکستان کی فضائی حدود پر غیرقانونی پرواز کرنے والا افغان فوجی جہاز گر کر تباہ ہوگیا جبکہ تاجکستان میں 100 سے زائد فوجیوں سے لداز جہاز لینڈ کر گیا۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ازبکستان کی وزارت کے ترجمان بخروم ذوالفقاروف نے مقامی میڈیا کی رپورٹس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ‘فوجی جہاز نے غیرقانونی طور پر ازبکستان کی سرحد پار کی تھی، جس کی تفتیش کی جارہی ہے’۔

انہوں نے بتایا کہ افغان فوجی جہاز اتوار کو افغانستان کی سرحد سے منسلک جنوبی صوبے سرخونداریو میں گر کر تباہ ہوا۔

روسی نیوز ایجنسیوں نے وزارت دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹس میں کہا گیا کہ جہاز کو ازبکستان کی فورسز کی جانب سے مار گرایا گیا ہے۔

ذوالفقاروف کا کہنا تھا کہ وزارت دفاع اس حوالےسے بیان تیار کر رہی ہے۔ حادثے میں جانی نقصان کے حوالے سے تاحال واضح نہیں ہوا لیکن اطلاعات کے مطابق دو افغان فوجی سلامت ہیں۔

سرخونداریو کے علاقائی دارالحکومت ترمیز میں ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کے ہسپتال میں2 افراد کو لایا گیا تھا جو افغان فوج کی وردی میں ملبوس تھے۔ انہوں نے کہا کہ پیراشوٹ کے ذریعے لینڈ کرنے والا ایک زخمی کو لایا گیا تھا جن کی ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں۔

ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں ایک روز قبل بھی تین فوجی لائے گئے تھے جبکہ مجموعی طور پر 84 فوجیوں نے طالبان کے قبضے کے بعد غیر قانونی طور پر سرحد پار کرکے ازبکستان میں داخل ہوچکے ہیں۔

ازبکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ افغان فوجیوں کو سرحد حراست میں لیا گیا تھا لیکن انسانی بنیادوں پر امداد بھی دی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ ازبکستان کے حکام دوسری جانب افغان حکام سے ان کی واپسی کے لیے بات کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ازبکستان کے پڑوسی ملک تاجکستان کا کہنا تھا کہ اس نے ملک کے جنوبی علاقے میں واقع بوختار ایئرپورٹ میں 100 سے زائد افغان فوجیوں کو لینڈ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

تاجکستان کی وزارت خارجہ کے شعبہ نشر و اطلاعات کی جانب سے روسی میڈیا کو بتایا گیا کہ ‘تاجکستان کو ایس او ایس سگنلز موصول ہوئے، جس کے بعد عالمی معاہدوں کے تحت فیصلہ کیا گیا کہ افغان فوجیوں کو ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کی اجازت دی جائے گی’۔

افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد سابق سوویت ریاستوں تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان میں مہاجرین کی آمد کے خدشات ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تینوں میں سے صرف تاجکستان واحد ملک ہے، جس نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے اور انہیں یقین دہانی کروائی گئی کہ خطے میں امن اور انفراسٹرکچر کے منصوبے جاری رکھے جائیں گے۔

Back to top button