اسد قیصر پارلیمانی تاریخ کے جانبدار ترین اسپیکر


پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی مکمل جانبداری سے اسمبلی ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے اور اسد قیصر کو پاکستانی پارلیمانی تاریخ کا کمزور اور جانبدار ترین اسپیکر قرار دیا جارہا ہے۔
حد تو یہ ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایوان میں ہلڑ بازی اور گالم گلوچ کرنے والے سات ارکان اسمبلی کے ایوان میں داخلے پر پابندی عائد کرتے ہوئے بھی مکمل طور پر جانبداری کا مظاہرہ کیا اور سب سے زیادہ ہنگامہ کرنے والے دو حکومتی وزرا مراد سعید اور علی امین گنڈاپور کے خلاف کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیا۔ اپویشن جماعتوں نے ہنگامہ آرائی کے مرکزی کرداروں کو معطل نہ کرنے پر سپیکر اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسد قیصر پہلے دن سے جانبدار ہیں اور حکومت کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بجٹ اجلاس میں سپیکر نے جس بھونڈے طریقے سے ایوان چلانے کی کوشش کی وہ سب کے سامنے ہے اور ثابت ہو چکا کہ اب وہ مزید سپیکر کی کرسی پر بیٹھنے کے اہل نہںں رہے۔ یاد رہے کہ اسد قیصر وزیراعظم عمران خان کے پرانے ساتھیوں میں سے ہیں اور قومی اسمبلی کا بزنس چلاتے ہوئے انکی بجائے حکومتی وزرا یہ فیصلہ کر رہے ہوتے ہیں کہ اب کس نے مائیک حاصل کرنا ہے۔
تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ایوان میں ہلڑ بازی کرنے پر سپیکر نے ارکان اسمبلی کو معطل کر کے ان کے اسمبلی میں داخلے پر پابندی عائد کی ہو۔ ماضی میں بھی ایسے واقعات ہوئے جب سپیکر نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ارکان کے ایوان میں داخلے پر پابندی عائد کی۔ قومی اسمبلی حکام کے مطابق 16 جون کو معطل ہونے والے سات حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے علاوہ ماضی میں نوابزادہ غضنفر گل، فیصل صالح حیات، جمشید دستی، چوہدری اسد الرحمان اور کئی دیگر لوگ بھی اس پابندی کا سامنا کر چکے ہیں۔ موجودہ دور حکومت میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کے سینیٹ میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی تھی جبکہ پنجاب اسمبلی سمیت دیگر صوبائی اسمبلیوں میں بھی ارکان کی رکنیت معطل کی جاتی رہی ہے۔
یاد رہے کہ 90 کی دہائی میں سپیکر قومی اسمبلی سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے اپنی ہی جماعت کے رکن نوابزادہ غضنفر علی گل کی رکنیت معطل کی گئی تھی جب انھوں نے ایوان کے تقدس کا خیال نہیں رکھا تھا۔ پیپلز پارٹی کے ہی دور حکومت میں ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی نے ایوان میں ایک ناخوشگوار واقعے کے بعد پیپلز پارٹی کے رکن جمشید دستی کی رکنیت پورے سیشن کے لیے معطل کر دی تھی جبکہ مسلم لیگ ق کے مخدوم فیصل صالح حیات کی رکنیت ایک دن کے لیے معطل کی گئی تھی۔ ڈپٹی سپیکر نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان دونوں ارکان نے اجلاس کے دوران سپیکر کے منصب کا احترام نہیں کیا اور نازیبا الفاظ استعمال کیے جس کی وجہ سے ان کی رکنیت معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اسی طرح مسلم لیگ ن کے دور میں سپیکر ایاز صادق نے بھی اپنی جماعت کے رکن چوہدری اسد الرحمان کی رکنیت معطل کرکے پورے اجلاس کے لیے ایوان مین ان کے داخلے پرپابندی عائد کر دی تھی۔ اسد نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری قومی اسمبلی کے ساتھ بدتمیزی کی تھی۔ن لیگ ہی کے دور میں لیگی رکن جاوید لطیف اور تحریک انصاف کے مراد سعید کا شدید جھگڑا ہوا۔ اس کے بعد ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی جس نے جاوید لطیف پر سات روز جب کہ مراد سعید پر دو روز کے لیے پابندی عائد کرنے کی سفارش کی تھی۔ تاہم سپیکر کی جانب سے پابندی عائد کرنے سے قبل ہی دیگر ارکان کی مداخلت سے دونوں میں صلح ہو گئی تھی۔
موجود دور حکومت میں بھی ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ کو پورے اجلاس کے لیے معطل کرتے ہوئے ایوان سے باہر نکال دیا تھا، تاہم اپوزیشن کے احتجاج اور راجا پرویز اشرف کی مداخلت پر ڈپٹی سپیکر نے رولز معطل کرتے ہوئے انہیں ایوان میں داخلے کی اجازت دے دی۔2018 میں سینیٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور سینیٹر عثمان کاکڑ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ اس کے اگلے ہی روز چیئرمین سینیٹ نے رولنگ دیتے ہوئے پورے اجلاس کے لیے وفاقی وزیر کے داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ 2018 میں ہی سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے بجٹ اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی کرنے، سپیکر اور حکومت کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے، توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر حامل اختیارات استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن کے چھ اراکین اسمبلی اشرف رسول، ملک محمد وحید، یسین عامر، مرزا جاوید، زیب النسا اور طارق مسیح گل کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کے بجٹ اجلاس کے اختتام تک اجلاس میں شرکت پر پابندی عائد کر دی تھی۔
یاد رہے کہ حال ہی میں سپیکر اسد قیصر کی جانب سے سات ارکان اسمبلی پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد جب لیگی رکن علی گوہر بلوچ اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے تو سارجٹ ایٹ آرمز نے انہیں اندر جانے سے روک دیا جس پر انہوں نے ہنگامہ آرائی کرنے والے وزرا مراد سعید اور علی امین گنڈا پور کو معطل نہ کرنے پر کڑی تنقید کی تھی۔ اس حوالے سے سابق ایڈیشنل سیکرٹری قومی اسمبلی طاہر حنفی کا کہنا ہے کہ ماضی میں دھکم پیل اور گالم گلوچ تو ہوتی رہی ہے لیکن کبھی بھی کوئی رکن کرسی یا بینچ کے اوپر چڑھ کر مخالفین پر کتابیں پھینکتا ہوا نہیں پایا گیا، جیسا کہ مراد سعید بے کیا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو سپیکر نے خھکی جانب داری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزرا اہنی وزارت بعد میں سنبھالتے ہیں اور رکن اسمبلی پہلے۔ہوتے ہیں اس لیے سپیکر کے اختیار میں ہے کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کرتے۔ انکا کہنا تھا کہ مراد سعید، علی امین گنڈا پور، شفقت محمود، شیریں مزاری اور دیگر کے نام بھی معطل ارکان کی فہرست میں شامل ہونے چاہیے تھے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اپنے اعلان کے مطابق اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لاتی ہیں یا نہیں؟

Back to top button