اعتزاز احسن نے میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کی اصل وجہ بتا دی

جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ایک خاتون کےساتھ اپنی نازیبا ویڈیو کا معاملہ اٹھانےکی وجہ سے غصہ ہو کر میر شکیل کو گرفتار کروایا اور یہ سراسر ایک انتقامی کارروائی ہے جس کا احتساب سے کوئی تعلق نہیں۔
2 اپریل کو لاہور ہائیکورٹ میں میر شکیل الرحمان کی رہائی کی درخواست پر جسٹس سردار احمد نعیم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔ میر شکیل الرحمان کے وکیل اعتزاز احسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میر شکیل کو نیب نے ان کے خلاف شکایت کی تصدیق کی سطح پر گرفتار کیا گیا جو کہ نیب کے اپنے قانون کے مطابق بھی غیر قانونی ہے جبکہ شکایت کے حوالے سے میر شکیل الرحمان کو کوئی سوالنامہ بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میر شکیل الرحمان کے خلاف 34 سال پرانا کیس کھولا گیا، اس معاملے پر 20 سال نیب نے بھی کچھ نہیں کیا، ویسے بھی یہ نیب کا کیس نہیں بنتا کیونکہ اس میں قومی خزانے کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا چونکہ میر شکیل الرحمان نے زمین ایک پرائیویٹ پارٹی سے خریدی تھی۔ اعتزاز احسن نے مزید کہا کہ زمین کی خرید کا یہ سارا معاملہ دستاویزی ہے اور متعلقہ دستاویزات ایل ڈی اے کے ریکارڈ پرموجود ہیں، انہوں نے کہا کہ میر شکیل کو پلاٹ کی خرید میں رعایت ضرور ملی لیکن یہ کوئی غیر آئینی اور غیر قانونی امر نہیں ہے، کیونکہ یہ میر شکیل کی پرائیویٹ سول ٹرانزیکشن تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ میر شکیل الرحمان کوچیئرمین نیب نے غصہ میں گرفتار کروایا، اصل معاملہ ایک نازیبا ویڈیو کو نشر کرنے کا ہے۔
یاد رہے کہ مئی2019 میں جاوید اقبال کی جانب سے ایک خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی مبینہ ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس کی نیب نے سختی سے تردید کر دی تھی۔ نجی ٹی وی چینل نیوز ون نے یہ ویڈیو نشر کی تھی جس میں چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اپنے دفتر میں ایک خاتون کے ساتھ نازیبا گفتگو کرتے پائے گئے اور گفتگو کے اختتام پر انہوں نے اٹھ کراس خاتون کو گلے لگایا اور پھر چوما بھی۔ اس کے بعد انکی ایک آڈیو بھی سامنے آئی جس میں چیئرمین نیب ایک خاتون کے ساتھ سیکسی گفتگو فرما رہے تھے۔ اس ٹیلیفونک گفتگو میں جسٹس جاوید اقبال خاتون کو بتا رہے تھے کہ انہوں نے ملاقات کے لیے ایک گیسٹ ہاؤس کا بندوبست کیا ہے جہاں گرم پانی اور تولیہ کی سہولت بھی حاصل ہے۔
چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال یہ گفتگو طیبہ گل نامی خاتون سے کر رہے تھے جسکا شوہر نیب کی تحویل میں تھا۔ اگرچہ یہ نازیبا ویڈیو اور آڈیو وائرل ہونے کے بعد چیئرمین نیب کی جانب سے ایک باقاعدہ انکوائری کروانے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم آج تک نہ تو نیب نے اس حوالے سے کوئی تفتیش کی اور نہ ہی وفاقی تحقیقاتی ادارے نے یہ پتہ چلانے کی کوشش کی کہ آیا یہ ویڈیو اصلی تھی یا جعلی اور کس نے اس ویڈیو کو وائرل کروایا۔
تاہم 2 اپریل کو میر شکیل الرحمان کی درخواست ضمانت کی سماعت میں یہ استدعا بھی کی گئی کہ ان کی نیب میں گرفتاری اور حراست کو غیر قانونی قرار دے کرمقدمہ سے ڈسچارج کیا جائے، اعتزاز احسن نے کہا کہ میر شکیل الرحمان زیادہ عمر کے ہیں اس لئے ضمانت پر رہا کیا جائے۔ اعتزاز احسن کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے کیس کی سماعت 7 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر نیب پراسیکیوٹر کو دلائل دینے کی ہدایت کی۔ نیب کی طرف سے اسپیشل پراسکیوٹر سید فیصل رضا بخاری نے عدالت میں جواب جمع کروا دیا۔ خیال رہے کہ نیب نے 34 سال پرانے پراپرٹی کیس میں جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کو 12 مارچ کو لاہور سے گرفتار کیا تھا جسے ان کی اہلیہ شاہینہ شکیل نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی چیلنج کیا تھا.
