افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے پاکستان کو سالانہ 10 ارب سے زائد کا نقصان

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی پاکستانی بندرگاہوں سے بغیر چیکنگ سامان کی ترسیل اور پاکستان کے اندر سامان کی سمگلنگ سے قومی خزانے کو سالانہ 10 ارب سے زائد کا نقصان پہنچ رہا ہے، تحریک انصاف کے دور حکومت میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت پاکستانی بندرگاہوں پر آنے والے سامان پر مہریں لگانے کا کام روک دیا گیا تھا اور آج بھی یہ اقدام بحال نہیں ہو سکا ہے۔
بڑھتی اسمگلنگ پر قابو پانے کی ڈی جی ٹرانزٹ ٹریڈ کی تجویز پر بھی توجہ نہ دی گئی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت پاکستانی بندرگاہوں سے افغانستان کیلئے جانے والے سامان میں سے صرف 5 فیصد سامان کی سکیننگ ہونے کا انکشاف ہوا۔
کروڑوں روپے مالیت کا 95 فیصد سامان یومیہ بغیر اسکینگ اور تصدیق کے ملکی شاہراہوں سے گزر کر افغانستان کیلئے چمن اور طورخم بارڈر کی جانب لے جایا جاتا ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں بڑھتی ہوئی اسمگلنگ پر کسی حد تک قابو پانے کیلئے ڈائریکٹر جنرل ٹرانزٹ ٹریڈ کی جانب سے چیئرمین ایف بی آر اور حکومت کی دی گئی تجاویز پر بھی کئی ماہ گزرنے کے باجود تو جہ نہیں دی گئی۔
’’امت‘‘ کو دستیاب اطلاعات کے مطابق اس وقت ملک میں زر مبادلہ کی کمی اور ڈالرز کی بڑھتی قدر کی وجہ سے مقامی تاجروں کی جانب سے منگوائے گئے مصالحہ جات، چائے، کھانے پینے کی دیگر اشیا اور مختلف اجناس ، کپڑے، جوتے ، کھلونے، الیکٹرانک آئٹمز اور کیمیکل کے ہزاروں کنٹیز کلیرنس کے انتظار میں رکے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ملک بھر میں اس سامان کی اسمگلنگ عروج پر پہنچ گئی ہے۔ یہ سامان افغان ٹرانزٹ کے کنٹینرز میں چھپا کر لایا جاتا ہے جسے راستے میں کھول کر یا ا سے واپس لا کر مقامی مارکیٹوں میں سپلائی کیا جا رہا ہے۔
کسٹمز ذرائع کے مطابق ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت بندرگاہوں پر مصالحہ جات کے 200 کے قریب کنٹینز کلیئرنس کے منتظر ہیں۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسمگلر مافیانے بڑے تاجروں کے ساتھ مل کر مصالحہ جات کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ شروع کر دی ہے۔ کراچی سمیت ملک بھر کی مارکیٹوں میں بلاخوف ان کی سپلائی جاری ہے۔ جس سے اربوں روپے ٹیکس دینے والے درآمد کنندگان کوخطیر مالی نقصانات کا سامنا ہے۔ جبکہ منافع خور عناصر مصالحہ جات کی کمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے من مانے داموں اسے مارکیٹ میں فروخت کر رہے ہیں۔ جس کا سارا بوجھ عوام پر پڑ رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق قومی خزانے کو سالانہ 10 ارب سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے ، گزشتہ دنوں کسٹمز انٹیلی جنس کراچی کی ٹیم نے چھاپہ مار کر سائٹ ایر یا بارون آباد میں واقع ایک گودام سے 30 ہزارکلوگرام اسمگل شدہ بلیک ٹی برآمد کی جس کی مالیت تین کروڑ 60لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ مجموعی طور پر 7 کروڑ روپے مالیت کے اس سامان اور تاریخ تبدیل کرنے والی پنچنگ مشینیں بھی برآمد کی گئی ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ کراچی پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ کی بندرگاہوں پر افغانستان کیلئے دنیا بھر سے آنے والے سامان کے کنٹینرز کی بحفاظت افغانستان منتقلی اور راستے میں سامان کی چوری روکنے کیلئے ٹی پی ایل نامی ٹریکر کمپنی کو بھاری قیمت پر کئی برسوں سے ٹھیکہ دیا گیا ہے، ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ کئی واقعات میں کمپنی کے ٹریکرز کی مانیٹرنگ کرنے والے اسٹاف اور انتظامیہ کو بھاری رشوت کے عوض اسمگلر مافیا سہولت کاری حاصل کر لیتا ہے، اس لئے یہ معلومات بھی دبا دی جاتی ہیں۔
ذرائع کے بقول بلوچستان کے علاقوں کوئٹہ، چمن اور خصوصی طور پر نوشکی بیلٹ جو ان دنوں اسمگلنگ کے حوالے سے سر گرم ترین علاقہ ہے۔ یہاں سے سمگلنگ کا سامان بالائی سندھ اور زیریں سندھ کے علاقوں کراچی کے ڈمپنگ پوائنٹ تک پہنچایا جاتا ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخواہ سے پنجاب کے علاقوں میں اسمگل شدہ سامان کی ترسیل کا نیٹ ورک بھی علیحدہ ہے۔ افغانستان سے آنے والے سامان کو انگور اڈا سے آگے پنجاب اور بالائی سندھ کے علاقوں میں اور اسی طرح گلگت بلتستان سے ہزارہ ڈویژن کے علاقوں ایبٹ آباد، مانسہرہ اور ہری پور سے پنجاب کے علاقوں میں سامان سپلائی کرنے کا نیٹ ورک بھی علیحدہ ہے۔
یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا تھا جب محکمہ کسٹمر سنٹرل زون نے ڈیرہ غازی خان سے واہگہ جانے والے کنٹینر پر لگے بوگس ٹریکر اور کسٹم سیل پکڑ لئے تھے۔ کنٹینر چمن سے واہگہ بارڈر سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت لے جایا جا رہا تھا۔ واہگہ بارڈر پر کنٹیز کو بھارتی ٹرک پر منتقل کیا جانا تھا۔ اس کنٹینر میں بھارت کیلئے ڈرائی فروٹ کی کھیپ ظاہر کی گئی لیکن اس میں کروڑوں روپے مالیت کی سگریٹ، چھالیہ اور کیمیکل موجود تھا۔
ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ ٹریکر فراہم کرنے والی کمپنی کے دو ٹریکرز کنٹینر پر نصب تھے جبکہ یکساں نمبر والے دو ٹریکر واہگہ میں کمپنی دفتر میں موجود تھے، محکمہ کسٹم کے بعض اہلکاروں نے اسمگلرز کو ٹرانزٹ ٹریڈ کنٹینرز پر لگائے جانے والی مخصوص کسٹم سیل فراہم کیں۔ ٹریکرز اور سیل کی اسمگلرز کو فراہمی میں مبینہ طور پر کسٹم اہلکار اور نجی کمپنی کا اسٹاف شامل رہا، ان انکشافات کے حوالے سے اسمگلروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے رپورٹ ایف بی آر کو ارسال کر دی گئی تھی لیکن ابھی تک کوئی خاطر خواہ اقدامات سامنے نہیں آئے۔
