برطانیہ نے کرونا ویکسین کے استعمال کی اجازت دیدی

برطانوی حکومت نے گزشتہ ماہ تیار ہونے والی دنیا کی پہلی کرونا ویکسین کے عام استعمال کی اجازت دے دی۔
برطانیہ وہ پہلا ملک بن گیا، جس نے کرونا کی تیار ہونے والی امریکا کی فائزر اور جرمنی کی بائیو این ٹیک کمپنیوں کے ویکسین کے استعمال کی اجازت دے دی۔ببرطانوی حکومت نے مذکورہ ویکسین کو جہاں ہنگامی بنیادوں پر استعمال کرنے کی اجازت دی، وہیں اسے عام استعمال کی اجازت بھی دے دی گئیں۔ دنیا کی پہلی کرونا ویکسین کو اجازت دینے والی برطانوی حکومت دنیا کی پہلی حکومت بن گئی اور جلد ہی برطانیہ دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا، جہاں ویکسین کو عام استعمال کیا جائے گا۔ فارماسیوٹیکل کمپنیوں فائزر اور بائیو این ٹیک نے گزشتہ ماہ 10 نومبر کو دعویٰ کیا تھا کہ ان کی تیار کردہ ویکسین بیماری سے تحفظ کے لیے 90 فیصد سے زیادہ مؤثر ہے جب کہ اسی ویکسین کے آخری مرحلے کے حتمی نتائج 19 نومبر کو جاری کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ ویکسین کرونا سے تحفظ کے لیے 59 فیصد سے زیادہ مؤثر ہے۔ اے پی نے اپنی رپورٹ میں برطانوی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے ریاست انگلینڈ کے ہسپتالوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ آئندہ ہفتے سے تیار ہونے والی دنیا کی پہلی کرونا ویکسین کو سب سے پہلے طبی رضاکاروں پر استعمال کیا جائے۔ کرونا ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں فائزر اوربائیو این ٹیک کے مطابق وہ رواں ہفتے کے اختتام تک برطانیہ کو ویکسین کی محدود تعداد فراہم کردیں گی جب کہ جلد ہی امریکا کی ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی بھی ان کی ویکسین سے متعلق فیصلہ سنائے گی۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ برطانیہ کے بعد یورپی یونین اور امریکا بھی تیار ہونے والی ویکسین کے استعمال کی اجازت دے دیں گے جس کے بعد ممکنہ طور پر مذکورہ ویکسین کے استعمال کی اجازت کچھ ایشیائی ممالک بھی دیں گے۔مذکورہ ویکسین کی تیاری سے قبل ہی امریکا اور پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کی حکومت نے ویکسین حاصل کرنے کے لیے کروڑوں ڈالر کی بجٹ مختص کی تھی اور تمام ممالک کی کوشش ہے کہ وہ سب سے پہلے ویکسن حاصل کرکے اپنے ملک میں کرونا پر قابو پائیں۔ جہاں دنیا کے کئی ممالک ویکسین خریدنے کے خواہاں ہیں، وہیں ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر ویکسین کی اتنی مقدار تیار کرنا ناممکن ہے۔
