بشریٰ بی بی کے جادو ٹونے اور جنتر منتر کا پردہ چاک؟

عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی المعروف پنکی پیرنی کے تمام تر کرپشن سکینڈلز اور جاود ٹونے کا پردہ چاک ہوتا دکھائی دیتا ہے اور ناقدین کی یہ بات سچ ہوتی نظر آتی ہے کہ عمرران کان کے دور اقتدار میں تمام تر ریاستی اور سیاسی فیصلے جادوٹونے اور جنتر منتر کی بنیاد پر ہوتے تھے۔بنی گالہ ہاؤس کے سابق انچارج اور کنٹرولر وزیراعظم ہاؤس انعام اللّٰہ شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ تمام اہم فیصلوں پر بشریٰ بی بی تصاویر دیکھ کر حساب لگایا کرتی تھیں اور پھر عمران خان کو تقرریوں پر رائے دیتی تھیں جبکہ انھی کی رائے کے مطابق تقرریاں ہوتی تھیں، کسی بھی تقرری سے قبل عمران خان مجھ سے تصاویر منگواتے تھے اور ان تصاویر کو دیکھ کر ہی بشریٰ بی بی نام فائنل کرتی تھیں، یہاں تک کہ الیکشن کیلئے ٹکٹس بھی اسی طرح دی جاتی تھیں۔ انعام اللہ شاہ کا مزید کہنا تھا کہ بنی گالا میں ہر روز سوا کلو گوشت جبکہ ہر پندرہ دن کے بعد کالا بکرا منگوایا جاتا تھاہلکا کالا رنگ بھی قابل قبول نہیں تھا جس پر عمران خان دفتر جانے سے قبل ہاتھ رکھتے تھے، منگل اور بدھ کے روز مرغی لائی جاتی تھی، گوشت کو چھت پر پھینک دیا جاتا تھا۔تاکہ چیل کوے کھالیں۔ اور کبھی کبھار ملازمین کو بھی دے دیا جاتا تھا جبکہ بکرے کی سری قبرستان میں پھینکنے کا کہا جاتا تھا۔تاکہ وہاں موجود کیڑے مکوڑے کھا لیں جبکہ کیڑے مکوڑے تو ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن ہمیں قبرستان کا حکم دیا جاتا تھا۔انعام اللہ شاہ نے مزید انکشاف کیا کہ  بنی گالا میں توشہ خانہ کے علاوہ بھی کئی تحائف آتے تھے بلکہ وہ تحائف منگوائے جاتے تھے۔ جن کا  ریکارڈ رکھنے سے بھی منع کیا جاتا تھا  جبکہ بشریٰ بی بی نے عثمان بزدار کو پنجاب کا وزیرِ اعلٰی بنوایا تاکہ تمام معاملات ان کی گرفت میں رہیں۔

جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں سلیم صاف سے گفتگو کرتے ہوئے انعام اللہ شاہ نے بتایا کہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی صرف امیر لوگوں سے ہی تعلقات رکھنا پسند کرتی ہیں، بشریٰ بی بی کے سب سے زیادہ قریب زلفی بخاری تھا، بشریٰ بی بی کی زیادہ بات چیت زلفی بخاری سے ہی ہوتی تھی اور وہ بات چیت بڑی مختلف قسم کی ہوتی تھی مگر پھر اس کے ساتھ نجانے کیا ہوا کہ اس کا نمبر تک بلاک کر دیا گیا۔بعد میں میرے ذریعے زلفی بخاری سے بات چیت ہوتی تھی، مجھے جتنے بھی آرڈرز ملتے تھے بشری بی بی کی طرف سے ملتے تھے جو میں آگے انھیں پہنچا دیتا تھا۔جس پر کچھ لوگوں نے گلہ بھی کیا کہ پارٹی چیئرمین براہ راست ہمیں سنا دیا کریں۔ تاہم یہ سلسلہ آخر تک ایسے ہی چلتا رہا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ بنی گالا میں توشہ خانہ کے علاوہ بھی کئی تحائف آتے تھے بلکہ وہ تحائف منگوائے جاتے تھے، رات کے وقت عمران خان کے گھر میں کچھ ایسے لوگ بھی آتے تھے کہ جن کے متعلق ہمیں یہ ہدایات تھیں کہ ان سے نام تک نہیں پوچھنا اور نہ ذکر کرنا ہے بلکہ ہمیں صرف گاڑی کا نمبر بتایا جاتا تھا۔

انعام اللّٰہ شاہ نے استحکامِ پاکستان پارٹی کے پیٹرن ان چیف جہانگیر ترین کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ جہانگیر ترین کو پارٹی سے فارغ کروانے میں بھی بشریٰ بی بی کا بہت بڑا کردار تھا کیونکہ بشریٰ بی بی کی جہانگیر ترین کے ساتھ بہت زیادہ رنجشیں تھیں۔بنی گالا ہاؤس کے سابق انچارج نے بتایا کہ جس صبح عمران خان نے وزارتِ عظمیٰ کا حلف لینا تھا، اس سے ایک رات قبل تک عون چوہدری حلف برداری کی تقریب کے کارڈز بانٹتے رہے مگر اسی رات نعیم الحق نے عون چوہدری کو فون کر کے کہا کہ آپ نے حلف برداری کی تقریب میں نہیں آنا کیونکہ بشریٰ بی بی نے اس بارے میں کوئی خواب دیکھا ہے اور انہیں عون چوہدری کا آنا پسند نہیں ہے۔

وزیراعظم ہاؤس کے سابق کنٹرولر کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بشریٰ بی بی کے آگے ایک بھی نہیں چلتی تھی، ہر وہ کام ہوتا تھا جو بشریٰ بی بی کہتی اور چاہتی تھیں، پنجاب حکومت کو بھی بشریٰ بی بی چلاتی تھیں، عثمان بزدار کو فرح گوگی اور جمیل گجر عمران خان سے ملوانے کیلئے لائے، عمران خان نے مجھے کہا کہ عثمان بزدار کو لے جاؤ، جہانگیر ترین سے ملاقات کراؤ اور بتاؤ کہ یہی پنجاب کا وزیرِ اعلٰی ہے۔انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی نے عثمان بزدار کو اس لیے وزیرِ اعلٰی بنوایا کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ اس طرح تمام معاملات ان کے ہاتھ میں ہی رہیں گے اور پھر ایسا ہی ہوا، بشریٰ بی بی پنجاب کی وزارتِ اعلٰی پر کسی بھی مضبوط آدمی کو نہیں لانا چاہتی تھیں۔

انعام اللّٰہ شاہ نے توشہ خانہ کی گھڑی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی نے مجھے 3 کروڑ روپے کیش دے کر کہا کہ یہ رقم عمران خان کے اکاؤنٹ میں جمع کروا دیں، مجھے کہا گیا کہ اگر عمران خان نے پوچھا تو کہنا کہ کچھ گھر کی چیزیں بیچی ہیں اور ان سے یہ پیسے ملے ہیں مگر بعد میں پتہ چلا کہ وہ رقم محمد بن سلمان کی جانب سے ملنے والی گھڑی کو فروخت کر کے ملی تھی۔

سابق انچارج بنی گالہ انعام اللّٰہ شاہ نےسابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے ساتھ ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کی تصدیق کر تے ہوئےبتایا کہ ان کی سامنے آنے والی آڈیو حقیقی ہے میری اور بشریٰ بی بی کی فون پر بات ہوئی تھی، میرے فون میں آڈیو اور توشہ خانہ سے آئی چیزوں کی تصاویر موجود ہیں، کچھ چیزیں آئیں جو لسٹ کے مطابق پوری نہیں تھیں، ریکارڈ کے لیے تصویریں بناتا تھا تاکہ ضرورت پڑے تو بتا سکوں کہ یہ چیزیں آئی تھیں۔،انعام اللّٰہ شاہ نے کہا کہ بشریٰ بی بی کو شاید شک ہوگیا کہ میں کسی اور کو تصاویر بھیجتا ہوں، انہوں نے اس واقعے کے دو تین دن بعد مجھے اور انور زیب کو بلایا، مجھ سے پوچھا گیا تو میں نے بتایا کہ ریکارڈ کے لیے تصاویر بنائیں۔ تاہم اس وضاحت کے باوجود مجھے نوکری سے برطرف کرتے ہوئے میرا داخلہ بنی گالہ میں بند کروا دیا گیا۔

خیال رہے کہ کچھ روز قبل چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کے سمدھی میاں عطا مانیکا نے بھی انکشاف کیا تھا کہ بشری بی بی کو بچپن سے جانتا ہوں۔ خاتون اول بنیں تو انھوں نے حلیہ بدل لیا۔عبادت گزار تو وہ تھی لیکن دم درود والا روپ دیکھ کر میں خود حیران ہوگیا۔ عطا مانیکا نے مزید کہا کہ چیئرمین تحریک انصاف سے بشری بی بی کو عون چودھری نے ملوایا۔ عون چودھری وغیرہ نے عمران خان کے ذہن میں یہ بات ڈالی کہ بشری بی بی بہت پہنچی ہوئی ہستی ہیں۔ جس پر عمران خان بشریٰ بی بی کے معتقد ہو گئے انہوں نے مزیدکہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کےاسٹیبشلمنٹ سے تعلقات خراب کرنے میں بشری بی بی اور ان کی سہیلی کی لوٹ مار کا بھی ہاتھ ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی معاملات تھے۔ فرح گوگی کا نام بھی تب سنا جب یہ پٹاخہ چل گیا۔ موصوفہ ویسے تو شیخوپورہ کی رہنے والی ہیں لیکن اوکاڑہ میں بھی رہی ہیں جہاں انہیں ‘گوگی’ کا لقب ملا ۔

Back to top button