21 اپریل کے ضمنی الیکشن سے پہلے ہو کا عالم کیوں ہے؟

ملک بھر میں عام انتخابات اور حکومت سازی کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد 21اپریل اتوار کے روز ضمنی الیکشن کا انعقاد ہونے جا رہا ہے تاہم متعلقہ حلقوں میں جہاں ایک طرف سیاسی جوش وخروش کا فقدان نظر آرہا ہے وہیں دوسری  جانب سیاسی جماعتوں نے بھی پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں عام انتخابات کے عمل کو مکمل ہوئے اڑھائی ماہ ہونے کو ہیں اور بلوچستان کابینہ کی تکمیل کے بعد ملک میں حکومتی سازی کا مرحلہ بھی مکمل ہو چکا ہے۔ 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں جو امیدوار ایک سے زائد نشستوں پر کامیاب ہوئے تھے اُن کی چھوڑی ہوئی سیٹوں پر پہلی بار ملک بھر میں ضمنی الیکشن ایک ہی دن یعنی اتوار 21 اپریل کو ہو رہے ہیں۔اتوار کو ہونے والے ان ضمنی انتخابات پر خاموشی کی چھاپ ویسی ہی دکھائی دے رہی ہے جیسی فروری میں ہونے والے عام اتنخابات سے پہلے تھی۔ اگرچہ عام انتخابات سے دو ہفتے قبل ن لیگ کی جانب سے جلسوں کے آغاز کے بعد کچھ ہلچل شروع ہو گئی تھی، تاہم ان ضمنی انتخابات میں تو حکمران جماعت بھی مکمل طور پر خاموش دکھائی دے رہی یے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق عام انتخابات کے بعد جس طرح دھاندلی کا شور مچا اس تناظر میں یہ ضمنی الیکشن سیاسی جماعتوں کا اپنے اپنے بیانئے کو درست ثابت کرنے کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ثابت ہو سکتا ہے۔تاہم نہ تو حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن اور نہ ہی اپوزیشن میں بیٹھی پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے گراؤنڈ یا سوشل میڈیا پر کسی قسم کی انتخابی مہم نظر آرہی ہے۔

خیال رہے کہ ملک بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی کل 23 نشستوں پر ضمنی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ ان میں سے قومی اسمبلی کی 6، پنجاب اسمبلی کی 12، خیبر پختونخوا اسمبلی کی دو، سندھ اسمبلی کی ایک اور بلوچستان اسمبلی کی دو نشستوں پر معرکہ ہو گا۔

دوسری جانب پنجاب میں مسلم لیگ ن کی ترجمان عظمی بخاری کا کہنا ہے کہ ’ہماری مرکزی قیادت ضمنی انتخابات میں اس لیے نظر نہیں آئی کیونکہ ہم حکومت میں ہیں اور الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق حکومتی عہدیدار انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتا۔‘ ’جہاں تک ڈور ٹُو ڈور انتخابی مہم کا تعلق ہے تو جہاں جہاں ہمارے امیدوار کھڑے ہیں انہوں نے اپنی مہم چلائی، ضمنی الیکشن میں عوام ترقی کو ووٹ دیں گے اور بتائیں گے کہ مسلم لیگ ن کا مینڈیٹ پہلے کی طرح ہی موجود ہے۔ ‘

وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری کا دعویٰ اپنی جگہ لیکن مسلم لیگ ن کی وہ قیادت جو حکومت میں نہیں ہے وہ بھی انتخابی مہم کے دوران کہیں نظر نہیں آئی۔ مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ اور خواجہ سعد رفیق سمیت کوئی بھی مرکزی رہنما نہ تو خود ضمنی انتخابات میں حصہ لے رہا ہے اور نہ ہی پارٹی کی ضمنی الیکشن کی مہم میں شریک ہوا

دوسری طرف پنجاب میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر نے ضمنی انتخابات میں پارٹی کی جانب سے مہم نہ چلائے جانے کا سارا ملبہ حکومت اور الیکشن کمیشن پر ڈال دیا۔ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارے اوپر اتنی پابندیاں ہیں جو اس وقت بھی کم نہیں ہو رہیں، ہمیں نہ تو الیکشن مہم چلانے کی اجازت دی گئی اور نہ ہمارے خلاف مقدمات میں کوئی کمی آئی ہے۔‘’ہمارے خلاف بات بات پر مقدمات بنانے کا عمل اب بھی جاری ہے۔ دھاندلی کے خلاف شروع کیے جانے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد سے یہ سلسلہ رُک نہیں پا رہا۔‘

دوسری جانب پاکستان میں انتخابی عمل پر نظر رکھنے والی تنظیم ’پلڈاٹ’ کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ ’ضمنی انتخابات میں اتنی خاموشی عام انتخابات کا تسلسل ہی ہے۔‘’حالیہ تاریخ میں یہ خاموش ترین الیکشنز تھے۔ ایک ہی وقت میں یہ بات غیر معمولی بھی ہے اور عام بھی۔ غیر معمولی اس لیے کہ پاکستان میں جمہوری عمل متاثر ہوا ہے اور تحریک انصاف کو سیاسی مہم چلانے نہیں دی گئی جو کہ خطرناک بات ہے۔‘ان کے مطابق ’یہ عمومی بات اس لیے ہے کہ عوام کو پتا ہے کہ ان ضمنی انتخابات کے نتائج سے نہ تو موجودہ حکومت کو کوئی فرق پڑے گا اور نہ ہی کسی دوسری جماعت کو۔‘انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’یہی وجہ ہے کہ ضمنی الیکشن میں گہما گہمی نہیں ہے۔ ویسے تو ضمنی انتخابات میں ویسے ہی کم سرگرمیاں ہوتی ہیں اور ان الیکشنز میں اور زیادہ کم اس لیے بھی ہیں کہ عام انتخابات کون سے بارونق ہوئے تھے؟‘

تاہم بعض دیگر مبصرین کے مطابق پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آج بھی ضمنی انتخابات کو ایک بڑا معرکہ سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ ضمنی الیکشنز میں اگرچہ خاموشی ضرور ہے، تاہم ان کے نتائج مختلف سیاسی جماعتوں کے بیانیے کی تائید یا تردید ضرور کریں گے۔

Related Articles

Back to top button