کیافیض آباد دھرنا کیس سے جنرل فیض کو واقعی کلین چٹ ملی ہے؟

فیض آباد دھرنا کمیشن نے دھرنے کے اصل ذمہ داران، ماسٹر مائنڈز اور منصوبہ سازوں کے نام شامل کئے بغیر ایک ہومیوپیتھک رپورٹ جمع کروا دی ہے جس میں انکوائری کمیشن نے نہایت چابکدستی، مہارت اور نفاست کے ساتھ ریاست کے اصل کرتا دھرتاؤں کو دھرنے کے مکھن میں سے بال کی طرح نکالتے ہوئے کسی فرض شناس اور مستعد ٹیم کی طرح تحریک لبیک کے دھرنے کا سارا نزلہ اس وقت کی پنجاب حکومت پر گرایا ہے جسے تب وزیر اعلیٰ شہباز شریف لیڈ کر رہے تھے۔

نیا دور کی ایک رپورٹ کے مطابق دھرنا کمیشن میں شامل تینوں صاحبان وسیع انتظامی تجربے کے مالک تھے۔ انہوں نے نہایت دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی رپورٹ تیار کی ہے جس میں ایک اور واقعے کی ذمہ داری سب سے آسان ہدف یعنی جمہوری حکومت پر ڈال دی گئی ہے۔ انہیں بھی اندازہ تھا کہ اگر ہم نے کہیں جنرل فیض اینڈ کمپنی وغیرہ کا نام شامل کر دیا تو پھر ہماری رپورٹ بھی دبا دی جائے گی۔ اس سے قبل حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ کے ساتھ یہی کچھ نہیں ہوا؟ اوجڑی کیمپ دھماکے کی رپورٹ کس نے دیکھی؟ کارگل جنگ سے متعلق حقائق سرکاری سطح پر کبھی سامنے لائے گئے؟ بے نظیر بھٹو دن دیہاڑے شہید کر دی گئیں، آج تک دو جمع دو چار والی تحقیقات کے بعد کوئی رپورٹ سامنے آ سکی؟ آرمی پبلک سکول پر حملہ ہوا، درجنوں معصوم بچے خون میں نہلا دیے گئے، سرکاری سطح پر کھوج لگوا کر کبھی اعلان کیا گیا کہ فلاں فلاں ملوث تھا؟ ماضی ایسا ہو تو پھر کون سا کمیشن ‘نو گو ایریا’ کی طرف جانے کی گستاخی کرے گا؟

تجزیاتی رپورٹ کے مطابق کون نہیں جانتا کہ پچھلی دہائی میں ریاستی سطح پر پاکستان کے نظام میں جو اکھاڑ پچھاڑ ہوئی اس میں فوج کے کتنے ڈی جی آئی ایس آئی، کتنے ڈی جی سی اور کتنے آرمی چیف ملوث تھے، مگر نہیں پتہ چلتا تو ان جیسے کمیشنوں کو نہیں چلتا۔ کون نہیں جانتا کہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے اور ہنستے بستے ملک کو پچھلی دہائی کے آغاز میں کچھ ایڈونچر پسند فوجی افسران، بعض فرض شناس جج صاحبان اور گروہی مفاد کی حفاظت کرنے والے کچھ دیگر طاقتور لوگوں نے ‘تبدیلی مارکہ’ سیاسی جماعت کے حوالے کرنے کا پورا پورا منصوبہ بنایا۔ دھرنے کروائے گئے، ایمپائر کی انگلی کا انتظار ہوتا رہا، ڈان لیکس پہ ہنگامہ کھڑا کیا گیا، پانامہ لیکس کا تماشہ رچایا گیا اور پھر وہ مقصد حاصل کر لیا گیا جس کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ تاہم حیرت ہے کہ کمیشن ان باتوں سے کیوں غافل ہے کہ تحریک لبیک کو اسی ‘رجیم چینج آپریشن’ میں ایک مہرے کے طور پر کھڑا کیا گیا، اسے طاقت کے ٹیکے لگائے گئے اور منتخب حکومت کے خلاف دھرنے کروا کر راتوں رات اس کی عوامی مقبولیت بڑھائی گئی، کس لیے؟ ن لیگ کا ووٹ بینک توڑنے کے لیے۔ یہ سب کیوں ہو رہا تھا؟ ‘امت مسلمہ کے عظیم لیڈر’ کو لانے کے لیے۔ تو اس گرینڈ پلان میں تحریک لبیک کا بھی ایک اہم کردار تھا جو اس نے ادا کیا یا یوں کہیں کہ اس سے یہ کردار ادا کروایا گیا۔ اس کا ثبوت چاہیے تو 2018 والے انتخابات کے نتائج دیکھ لیں اور مجموعی ووٹ بینک کے حساب سے دیکھ لیں کہ دو ڈھائی سال قبل بننے والی مذہبی سیاسی جماعت کا حاصل کردہ ووٹوں کی درجہ بندی میں کون سا نمبر تھا، کن کن حلقوں سے اسے ووٹ پڑا اور جو ووٹ تحریک لبیک کو پڑا وہ اس سے پہلے کس جماعت کو پڑتا تھا؟ کون نہیں جانتا کہ جنرل فیض اینڈ کمپنی نے تحریک لبیک نامی گائے کو پال پوس کر اس لیے بڑا کیا تاکہ عین لڑائی میں جب ضرورت پڑے گی تو اس پالتو گائے کا دودھ ہینڈسم لیڈر کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو طاقت بخشے گا؟
مبصرین کے مطابق اگرچہ فیض آباد کمیشن کے قیام کا بنیادی مقصد ان ناکامیوں کا ذمہ داری سے تعین کرنا تھا جس کی وجہ سے تحریک لبیک کا 2017 کا دھرنا کنٹرول سے باہر ہو گیا لیکن کمیشن کی رپورٹ براہ راست کسی بھی فرد پر الزام لگانے سے قاصر ہے۔ تاہم، اس رپورٹ کا سب سے زیادہ حیران کن نتیجہ شہباز شریف کی زیرقیادت پنجاب حکومت کے خلاف ہے جس کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نہ صرف مظاہرین کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکنے میں ناکام رہی بلکہ اس وقت کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی پر بھی دباؤ ڈالا کہ وہ یہ سوچ کر مظاہرین کو فیض آباد میں دھرنا کرنے کی اجازت دیں کہ اس کے بعد مظاہرین منتشر ہوجائیں گے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کی حکومت غافل اور کمزور تھی، اگر وہ شروع میں ہی صحیح طریقے سے کام لے لیتے تو حالات ایسے نہ ہوتے، مظاہرین کو اسلام آباد جانے کی اجازت دینا ایک مناسب فیصلہ نہیں تھا،

خیال رہے کہ ٹرمز آف ریفرنس یعنی ٹی او آرز کے مطابق کمیشن سے کہا گیا تھا کہ دھرنے کے لیے تحریک لبیک پاکستان کو فراہم کردہ کسی بھی غیر قانونی مالی یا دیگر معاونت کے بارے میں انکوائری کرے، فیض آباد دھرنے کے دوران یا اس کے سلسلے میں فتویٰ یا فتویٰ جاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی سفارش کرے، اگر کسی شخص یا عوامی عہدہ دار نے قانون کی خلاف ورزی کی تو اسے جوابدہ ٹھہرائے اور کسی بھی شخص یا سرکاری افسران بشمول انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ کام کرنے والوں کی ذمہ داری کا تعین کرے۔تاہم، کمیشن کے ٹی او آرز کا جائزہ لینے اور کمیشن کے کام سے واقف ذرائع سے ہونے والی بات چیت سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی رپورٹ بہت سے ایسے سوالات پر خاموش ہے جن کا اسے جواب دینا چاہیے تھا۔ تاہم کمیشن نے جہاں سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو کلین چٹ دے دی ہے وہیں اس وقت کے وزیراعلٰی شہباز شریف کو دھرنے میں بدنظمی کا ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔

Related Articles

Back to top button