زمین قبضہ کیس میں جنرل فیض کی ٹھکائی یقینی کیوں ہے؟

پاک فوج نے خود احتسابی کے عمل کے تحت سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے خلاف زمینوں پر قبضے، لوٹ کھسوٹ اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ مبصرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا سابق ڈی جی آئی ایس آئی کیخلاف شواہد سامنے آنے کے بعد ان کیخلاف کوئی کارروائی ہو گی یا فیض آباد دھرنا کمیشن کی طرف ان کو ان الزامات سے بھی باعزت بری کر دیا جائے گا؟ حالانکہ الزام کنندہ کنور معیز کے پاس جنرل فیض حمید کیخلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں اور وہ ہر طرح سے سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے پر عزم ہے۔ دوسری جانب جنرل فیض حمید کے قریبی حلقوں کے مطابق سابق ڈی جی آئی ایس آئی نے ایک خاتون کی جانب سے اُن کی زمین پر قبضے کے معاملے پر متاثرہ خاتون کی مدد کی تھی ان کی خیرخواہی ہی اب ان کے گلے پڑتی نظر آتی ہے ۔ تاہم جنرل فیض الزامات کا سامنا کریں گے اوے حقائق سامنے لائیں گے۔ دوسری جانب جنرل فیض حمید کے بھائی نجف حمید نے بھی ان الزامات کی تردید کی تھی۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار ابصار عالم سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید پر کرپشن اور مالی بدعنوانی کے الزامات عائد کرنے والے اسلام آباد کی ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کنور معیز کے گھر کے قریب ہی رہائش پذیر ہیں اور اس واقعے کے عینی شاہد بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں کنور معیز کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر بہت سے ثبوت موجود ہیں جن کی موجودگی میں کارروائی ہونا عین ممکن ہے۔ دیکھتے ہیں کہ اب فوج کی تحقیقاتی کمیٹی اس بارے میں کیا نتائج اخذ کرتی ہے۔ابصار عالم کے مطابق وہ اُمید کرتے ہیں کہ اس معاملے میں انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے اور سابق فوجی افسر کا بھی احتساب ہو سکے گا۔ابصار عالم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں آج تک ایسی کوئی مثال نہیں جس میں سنجیدہ احتساب ہوا ہو اور بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کی مثال قائم ہوئی ہو۔ابصار عالم نے کہا کہ اگر آگے بڑھنا ہے تو پھر ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرنا ہو گا، ان پر معافی مانگنی ہو گی جس کے بعد ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں وگرنہ دائروں کا یہ سفر ایسے ہی جاری رہے گا۔

دوسری جانب ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کنور معیز کے گھر اور دفتر پر ریڈ کا معاملہ کور کرنے والے صحافی اسرار راجپوت کے مطابق اس کیس میں جنرل فیض حمید اور دیگر اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی ہو سکتی ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ 12 مئی 2017 کو یہ واقعہ پیش آیا تاہم ایک ہفتے بعد 19 مئی کو کنور معیز اور ان کے ساتھیوں کے گرفتاری عسکری 13 کے علاقے سے ڈالی گئی۔اُن کے بقول ان افراد کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ملزمان کے پاس دہشت گردوں کے زیرِ استعمال رہنے والا اسلحہ تھا۔تاہم انسدادِ دہشت گردی عدالت نے غلط تاریخ کی ایف آئی آر درج ہونے کی بنا پر کنور معیز اور اُن کے ساتھیوں کو رہا کر دیا گیا۔اسرار راجپوت کے بقول یہ سب 1200 ارب روپے مالیت کی ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی پر قبضے اور زمین کا تنازع ہے۔اُن کے بقول اس زمین کی دعوے دار زاہدہ جاوید نامی خاتون کے کہنے پر یہ سب ہوا جس میں اسلام آباد کے مقامی لینڈ مافیا بھی شریک ہوئے اور جنرل فیض حمید بھی اس کا حصہ بن گئے۔

خیال رہے کہ سابق ڈائریکٹر جنرل آئی سی آئی فیض حمید پر عائد کیے گئے الزامات پر انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے جس کی سربراہی میجر جنرل رینک کا افسر کر رہا ہے۔جنرل فیض حمید پر الزام ہے کہ اُنہوں نے اسلام آباد کی ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی پر قبضے کے لیے اپنا اثر ورسوخ استعمال کیا۔ ذرائع کے مطابق پاک فوج نے خود احتسابی عمل کے تحت سابق فوجی افسر کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کنور معیز نے نومبر 2023 میں سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ مئی 2017 میں جنرل فیض حمید کی ایما پر ٹاپ سٹی کے دفتر اور اُن کی رہائش گاہ پر آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے ریڈ کیا۔کنور معیز نے الزام لگایا تھا کہ ریڈ کے دوران آئی ایس آئی اہلکار اُن کے گھر سے قیمتی اشیا جس میں گولڈ، ڈائمنڈ اور پیسے شامل تھے اپنے ساتھ لے گئے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس معاملے کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کو وزارتِ دفاع سے رُجوع کی ہدایت کی تھی۔ حکام کی طرف سے کرپشن الزامات پر اب غیر جانبدار انکوائری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

خیال رہے کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ میں دائر کنور معیز کی پٹیشن میں کہا گیا تھا کہ جنرل فیض حمید کے بھائی سردار نجف نے اس مسئلے کو بعد میں حل کرنے کے لیے ان سے رابطہ بھی کیا جبکہ جنرل فیض حمید نے بھی ان سے ملاقات کی۔اُن کے بقول ملاقات میں جنرل فیض نے یہ یقین دہانی کرائی کہ ریڈ کے دوران قبضے میں لی گئی کچھ چیزیں واپس کر دی جائیں گی، تاہم 400 تولے سونا اور کیش واپس نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ اس وقت بعض محفلوں میں  بھی زیربحث آیا اور بعض اخبارات میں اس حوالے سے جو خبریں بھی شائع ہوئیں جن میں کہا گیا کہ اس ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کنور معیز ایم کیو ایم کے ساتھ منسلک ہیں اور رینجرز کا چھاپہ منی لانڈرنگ سے متعلق تھا۔ لیکن یہ کیس دب گیا اور زیادہ سامنے نہ آ سکا۔اس سے قبل اس معاملے میں زاہدہ جاوید نامی خاتون کا معاملہ بھی سامنے آیا جن کے مطابق یہ سوسائٹی ان کے بھائی کی تھی جو برطانیہ میں وفات پا چکے ہیں۔ اس معاملے سے متعلق سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر کنور معیز پر دباؤ ڈالنے اور ان چیمبر سماعت کرنے کا بھی الزام تھا۔

نومبر 2023 میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ معاملہ کھلی عدالت میں سنا اور جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے ان چیمبر سماعت کو غیر قانونی قرار دیا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار کے پاس ریٹائرڈ آرمی آفیسر کے خلاف وزارتِ دفاع میں جانے کا آپشن موجود ہے۔رواں سال جنوری میں کنور معیز نے وزارت دفاع سے رجوع کیا جس پر کارروائی کرتے ہوئے میجر جنرل کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

Related Articles

Back to top button