کیا بھارت سے دشمنی پاکستان کو دنیا میں تنہا کر دے گی؟

سینیئر صحافی اور کالم نگار سہیل وڑائچ نے کہا ھے کہ ہمارے دوست اور دشمن متفق ہیں کہ پاکستان کی اصل بیماری بھارت سے کشمکش ہے، ہمارے سارے دوست ہمیں ایک ہی بات سمجھا رہے ہیں مگر ہماری بیماری ایسی ہے کہ ہمیں سب غلط لگتے ہیں اور ہم خود کو صحیح سمجھتے ہیں۔ اگر یہ بیماری برقرار رہی تو پاکستان کے دوست بھی اسے چھوڑ جائیں گے اور ہم یک وتنہا رہ جائیں گے۔

اپنے ایک کالم میں سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ سب سے پہلے امریکیوں نے کہنا شروع کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی ختم ہونی چاہئے پھر چینی بھی یہی کہنے لگے اب کی بار وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی کرائون پرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں بھارت سے تعلقات کی بحالی پر زور کا نقطہ شامل ہے گویا اب دائرہ مکمل ہو گیا ہے۔وزیر اعظم بھٹو نے شملہ معاہدہ کیا تو ہم نے اسے بھارتی ایجنٹ کہہ کر پھانسی پر لٹکا دیا، نواز شریف نے مودی کو پاکستان بلایا واجپائی سے معاہدہ کیا تو اسے بھارت کا یار قرار دیکر دیس نکالا دے دیا۔ جنرل مشرف بھارت سے چناب فارمولا کے تحت سمجھوتہ کرنے والے تھے کہ انکے قریبی جرنیلوں نے ہی انہیں نہتا کر کے فارغ کروا دیا۔ ہماری بیماری ہی ایسی ہے کہ ہمیں ہر کوئی غدار، سازشی اور دشمن نظر آتا ہے مگر ہمیں یہ مان لینا چاہئے کہ یہ بیماری ہے اور اگر یہ بیماری برقرار رہی تو ہمیں ہمارے دوست بھی ہمیں چھوڑ جائیں گے اور ہم یک وتنہا رہ جائیں گے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق ہم تو خیر بیمار ہیں دوسری طرف بھارتی وزیراعظم بھی مذہبی جنون کی انتہا پر ہے اور پاکستان سے بات کرنے کو بھی تیار نہیں، ایسے میں ضروری ہے کہ نواز شریف، آصف زرداری اور ملک کی مقتدرہ، پاکستان کی سب جماعتوں بشمول تحریک انصاف سے مشورہ کر کے پارلیمینٹ کا ایک وفد تشکیل دے۔ چین، امریکہ اور سعودی عرب کو اعتماد میں لے کہ ہم بات چیت کیلئے تیار ہیں اب بھارت پر زور دیا جائے کہ وہ ہم سے بامعنیٰ بات چیت کرے۔ نواز شریف اس وقت بھی پاکستان کے واحد سیاست دان ہیں جن کی وزیر اعظم مودی عزت کرتا ہے ہمیں نواز شریف کو گھر بٹھا کر ضائع نہیں کرنا چاہئے بلکہ ملک کے سب سے بڑے مسائل کے حل کیلئے انہیں آگے لگانا چاہئے۔ تاہم یہ بیماری بھی تب ہی ٹھیک ہو گی جب سیاسی بیماری ٹھیک ہو گی اور اس کیلئے ضروری ہے کہ محاذ آرائی کے بجائے مصالحت کی طرف بڑھاجائے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ عثمانی خلافت کے آخری دنوں میں ترکی کو سب دوست دشمن یورپ کا ’’مرد بیمار‘‘ کہتے تھے مگر ترکوں کو خود اپنی بیماری کا نہ احساس تھا اور نہ وہ اس کا علاج کرنے پر تیار تھے، جرمنی کا بھی یہی حال رہا۔ ترکی اور جرمنی کا قبلہ تو جنگوں میں شکستوں نے بدلا۔ ہمیں اپنی بیماری کا احساس ایسی کسی شکست سے پہلے ہی ہو جانا چاہئے اور ہمیں اپنی پالیسیاں نئے زمانے اور نئے تقاضوں کے مطابق بدلنی چاہئیں۔ نواز شریف، آصف زرداری اور عمران خان تینوں بھارت سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں گویا عوامی رائے تو یہی ہے، اس رائے کے بعد کسی اور فیصلے کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے، فیصلے جلدی کریں زمانہ قیامت کی چال چل رہا ہے مگر ہمارے اندر تبدیلیاں بہت کم رفتار سے آ رہی ہیں جس طرح سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے تیزی سے سعودی عر ب کو بدلا ہے پاکستان کو بھی ایسے ہی بدلنے کی ضرورت ہے

Related Articles

Back to top button