تاجروں کی ٹیکس وصولی کی نئی سکیم کامیاب ہو پائے گی یا نہیں؟

ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کے لئے ایف بی آر نے ’’تاجر دوست اسکیم‘‘ متعارف کروائی ہے جس کے تحت تاجروں اور چھوٹے دکانداروں کو یکم اپریل سے 30 اپریل تک رضاکارانہ طور پر رجسٹریشن کروانے کو کہا گیا ہے۔ مگر تاجروں کی طرف سے ابھی تو یہ دہائی بھی دی جائے گی کہ لٹ گئے، کاروبار ہے نہیں، حکومت نے یہ ظالمانہ اسکیم متعارف کروا دی، بچوں کی روزی روٹی کیسے کمائیں۔ مگر کاروبار نہ ہونے کا عذر پیش کرنے والوں کے اثاثہ جات دیکھ لیں، ایک دکان سے چار دکانیں ہو جاتی ہیں، اندرون شہر سے پوش علاقے میں کوٹھی خرید لی جاتی ہے، ہر سال عمرہ کرنے کیلئے پیسے نکل آتے ہیں مگر برائے نام ٹیکس کی بات ہو تو رونے دھونے ختم نہیں ہوتے۔ اگر حکومت اس ڈھکوسلے میں آگئی یا دباؤ کا شکار ہوگئی تو پھر سمجھیں گئی بھینس پانی میں۔ اپنی ایک تحریر میں سینئر صحافی محمد بلال غوری بتاتے ہیں کہ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لئے اسی نوعیت کی کوشش 2006ءمیں جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہوئی۔ مسلم لیگ نے 2015ء جبکہ تحریک انصاف کی حکومت نے 2019ء میں ایسی ہی ایک اسکیم متعارف کروائی لیکن ہر بار ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ تاجروں اور دکانداروں کا ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں 18فیصد حصہ تو ہے لیکن ٹیکس وصولی کی شرح تقریباً زیرو ہے۔ جب بھی انہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے تو زبردست مزاحمت ہوتی ہے۔ تاجر رہنما اپنی سیاست چمکانے کیلئے کود پڑتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ دنیا بھر میں برضا و رغبت ٹیکس دینے کا رجحان نہیں ہے۔ جو ٹیکس دینا ہی نہیں چاہتا، اس سے کیسی مشاورت؟

بلال غوری کہتے ہیں کہ دکانداروں کی رجسٹریشن کیلئے ’’تاجر دوست اسکیم‘‘ کو کامیاب بنانا ہے تو اس میں ایک اور اضافہ ناگزیر ہے۔ پوری دنیا میں آن لائن پیمنٹ کارجحان اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اب تو آٹو رکشہ والے اور بھکاری بھی کیو آر کوڈ کے ذریعے آن لائن پیمنٹ وصول کرتے ہیں مگر ہمارے ہاں چھوٹے شہر تو کیا لاہور، اسلام آباد راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، کراچی جیسے بڑے شہروں میں یومیہ لاکھوں روپوں کا کاروبار کرنے والوں نے جلی حروف میں لکھ کر لگایا ہوتا ہے ،ہم صرف کیش وصول کرتے ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ اکائونٹ میں پیسے آئیں گے تو حکومت کو پتہ چل جائے گا کتنی آمدنی ہے۔ اگر ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنا ہے، تاجروں اور دکانداروں کی رجسٹریشن کرنی ہے تو سب کو ایک ماہ کا نوٹس دیں، اس کے بعد دکان چھوٹی ہو یا بڑی، جس کے پاس آن لائن پیمنٹ کیلئے مشین دستیاب نہ ہو، اس کا شٹر ڈائون کر دیں۔ ہم جن دائمی معاشی امراض کا شکار ہیں، ان کا علاج معمول کی دوائیوں سے نہیں ہو سکتا، بڑے پیمانے پر آپریشن سے ہی بہتری لائی جا سکتی ہے اور یہ تو پہلا قدم ہے، اس کے بعد ڈاکٹروں، وکیلوں، پراپرٹی کا کاروبار کرنے والوں اور دیگر شعبہ جات کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔

بلال غوری کہتے ہیں کہ اسے الیکشن کہیں یا پھر سلیکشن، لیکن جمہوری تماشا ختم ہوچکا ۔ اب گھمبیر معاشی مسائل حل کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ تمام سیاسی رہنمائوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھا کر میثاق معیشت پر اتفاق رائے ہو اور سب کو بتا دیا جائے کہ یہ ملک بچے گا تو سب کی سیاست اور چوہدراہٹ کا جواز باقی رہے گا۔ پے درپے غلطیوں کی وجہ سے دیرینہ معاشی امراض اب لاعلاج ہونے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ مزید تاخیر کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ پانچ سال میں محاصلات کو مجموعی قومی پیداوار کے 11فیصد سے 18فیصد تک لیکر جانا ہے۔ رواں مالی سال ایف بی آر کو 9400ارب روپے ٹیکس وصولی کا جو ہدف دیا گیا ہے، اگر وہ پورا بھی ہوجائے تو قومی پیداوار کا محض 8.5فیصد بنتا ہے جبکہ اس سال محض قرضوں پر سود کی ادائیگی کا تخمینہ 9 سے 9.5فیصد لگایا گیا ہے۔ ادائیگیوں کیلئے ہمیں سالانہ 150ارب ڈالر درکار ہیں۔ غیر ملکی ترسیلات زر اور برآمدات میں بہتری کے باوجود زیادہ سے زیادہ 75ارب ڈالر حاصل کئے جا سکتے ہیں، باقی کے 75ارب ڈالر کہاں سے آئیں گے؟ یہ وہ سوال ہے جس پر سر جوڑ کر بیٹھنے اور پھر یکسو ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔اگر آپ نے کوئی تحریک برپا کرنی ہے تو ان مسائل کے حل کیلئے جدوجہد کریں۔ یہ ملک اب سیاست چمکانے، حکومتیں گرانے اور اس طرز کے دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جب گھر میں آگ لگی ہو تو ذاتی رنجشوں، تلخیوں اور ناراضیوں کو بالائے طاق رکھ کر اسے مل کر بجھانے اور اپنا آشیانہ بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

بلال غوری کا کہنا ھے کہ میثاق معیشت کے بنیادی نکات یہ ہیں کہ بھارت، افغانستان، بنگلہ دیش اور ایران کے ساتھ تعلقات معمول پر لاکر باہمی تجارت کو فروغ دیا جائے۔ اتنا تو ہم سب جانتے ہیں کہ آمدنی بڑھانے کیلئے ہمیں ٹیکس کا نظام بہتر کرنا ہے لیکن کیسے؟ ٹیکس کے نظام میں کچھ خرابیاں پالیسی کی سطح پر ہیں ،ٹیکسوں کا غیر منصفانہ نفاذ دوسرا بڑا مسئلہ ہے جبکہ عمل داری سب سے زیادہ سنگین اور اہم ترین پہلو ہے۔ پالیسی کے حوالے سے محض چند مثالیں پیش ہیں۔ 60ہزار ماہانہ تنخواہ لینے والے کو تو انکم ٹیکس دینا پڑتا ہے لیکن پنشنر خواہ اس کی پنشن 4 لاکھ روپے ہی کیوں نہ ہو، اس پر کوئی ٹیکس نہیں۔ ملک مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے، پسماندہ طبقے سے قربانی اور ایثار کا تقاضا کیا جا رہا ہے۔ بجلی، گیس اور پیٹرول کے نرخ بڑھائے جا رہے ہیں، سبسڈی کے نام پر دی جا رہی بھیک واپس لے لی گئی ہے، کوئی بات نہیں، سب کو ترقی و خوشحالی کے اس سفر میں حصہ دار بننا ہو گا مگر کیا یہ بھونڈا مذاق نہیں کہ ایک طرف غریب کے منہ سے نوالہ چھین لیا گیا ہے اور دوسری طرف اشرافیہ کو سالانہ 17.4ارب ڈالر کی مراعات دی جا رہی ہیں۔ صنعتکاروں کو بیل آئوٹ پیکیج مل رہے ہیں، گیس اور بجلی پر سبسڈی دی جا رہی ہے؟ پالیسی میں اس تضاد کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ آخری بات یہ کہ میثاق معیشت میں عدلیہ، فوج اور میڈیا کو بھی اعتماد میں لینا پڑے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ ملک اب کسی قسم کی مہم جوئی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

Related Articles

Back to top button