کیا پارلیمنٹ اور عدلیہ میں کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہے؟

پاکستان میں سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کے درمیان ملک میں انتخابات کی تاریخ اور عدالتی اصلاحات بل کے معاملے پر کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں جہاں پارلیمان پر تنقید ہو رہی ہے تو وہیں پارلیمنٹ سے بھی اس پر سخت ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔عدالت عظمیٰ میں ججز نے اپنے ریمارکس میں سیاست دانوں کو موجودہ سیاسی بحران کا ذمے دار ٹھہرایا تو پارلیمان میں حکومتی رہنماؤں نے ادارے کو اپنی حدود میں رہنے کا مشورہ دیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ادارے اپنی حدود سے تجاوز کر رہے ہیں اور ایک دوسرے سے اختلاف کررہے ہیں۔ ایسے میں اداروں کو اپنی حدود کا خیال رکھنا ہوگا وگرنہ دونوں اداروں کے ٹکراؤ سے جمہوریت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

موجودہ صورتِ حال میں عدلیہ اور پارلیمان کے درمیان تعلقات اس قدر کشیدہ ہوتے جارہے ہیں کہ دونوں ایک دوسرے کو براہ راست مخاطب کرکے ایک دوسرے پر الزامات عائد کررہے ہیں۔

منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیردفاع خواجہ آصف نے تقریر کرتے ہوئے سپریم کورٹ پر تنقید کی اور کہا کہ عدلیہ اپنی تاریخ کا حساب دے اور ججز اپنی حدود میں رہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ہتھیار نہیں ڈالے گی، وہ وقت گیا جب وزیراعظم کو بلی چڑھایا جاتا تھا، آئین شکنی پر انگوٹھے لگانے والوں کی باقیادت کو یہاں بلائیں۔
خواجہ آصف نے مطالبہ کیا کہ اسپیکر ایوان کی کمیٹی بنائیں اور عدلیہ کے تمام فیصلوں کا ٹرائل کیاجائے ،اگر عدالتِ عظمیٰ پارلیمنٹ سے پروسیڈنگ مانگتی ہے تو پھر ہمیں بھی اپنی پروسیڈنگ دیں۔

آزادررکن اسمبلی اسلم بھوتانی کا کہنا تھاکہ جب عدالت نے کارروائی مانگی تو مجھے تکلیف ہوئی ،وہ کون ہوتے ہیں ہمیں بلانے والے، پارلیمان کو چاہیے کہ وہ ان کو کورا کورا جواب دے دیں کہ ہم کارروائی نہیں دیں گے، آپ کو جو کرنا ہے کرلو۔

بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے چیف جسٹس کی طرف سے قانون سازی سے متعلق ریکارڈ مانگے جانے پر کہا کہ اسپیکر ہم سے پوچھے بغیر کوئی بھی فیصلہ نہیں کر سکتے، معاملہ ہمارے سامنے رکھا جائے، پھر ہم فیصلہ کریں گے۔شاہد خاقان عباسی نے مطالبہ کیا کہ اس ایوان کی کمیٹی بنائی جائےاور اس میں چیف جسٹس کو بلا کر پوچھا جائے کہ کیوں انہوں نے ریکارڈ مانگا ہے۔

سیاست دانوں کی طرف سے یہ بیانات ایسے وقت پر آئے جب اس سے قبل چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے عدالتی اصلاحات ایکٹ 2023 کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ سیاسی لوگوں کی جانب سے عدالت کا ماحول آلودہ کر دیا گیاہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سیاست دان من پسند فیصلے چاہتے ہیں جس کی وجہ سے ماحول خراب ہو رہاہے۔ عدالت نے تمام فریقوں سے جواب اور پارلیمانی کارروائی کار یکارڈ بھی طلب کر لیاہے جس پر ارکان پارلیمان کو اعتراض ہے۔

عدلیہ اور پارلیمان کے درمیان موجود تناؤ کے بارے میں پاکستان میں جمہوری اور پارلیمانی اُمور پر نظر رکھنے والے ادارے ‘ پلڈاٹ’ کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ عدلیہ اور پارلیمان کا ٹکراؤ زیادہ دیر تک جاری نہیں رہے گا۔اُن کا کہنا تھا کہ موجودہ چیف جسٹس ستمبر میں اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں اور اسی وجہ سے یہ تناؤ بڑھ رہا ہے۔احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پارلیمنٹ کی طرف سے ردِعمل آ رہا ہے۔ ماضی میں کبھی بھی پارلیمنٹ مزاحمت نہیں کرتی تھی لیکن اس بار پہلی مرتبہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ پارلیمنٹ باقاعدہ ردِعمل دے رہی ہے۔

پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین عابد ساقی کہتے ہیں کہ "ہمارے ہاں ہمیشہ سے” کنٹرولڈ جمہوریت” رہی ہے ، ماضی میں اسٹیبلشمنٹ نے عدلیہ کے ذریعے سیاسی قوتوں کو کنٹرول کیا، اب اسٹیبلشمنٹ, پارلیمنٹ کے ذریعے سپریم کورٹ کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔”اُن کا کہنا تھا کہ یہ صرف طاقت کا کھیل ہے جس کا جمہوریت اور آئین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ، یہ لڑائی اچھی ہے کیوں کہ اس کے ذریعے کسی نا کسی مقام پر پہنچ کر مثبت نتائج حاصل ہوتے تھے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ موجودہ وقت میں جو کچھ ہورہا ہے وہ درست نہیں ہے کیوں کہ اس سے اداروں کے درمیان تصادم بڑھ رہا ہے، تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے۔اُن کا کہنا تھا کہ "ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ الیکشن والے کیس میں فل کورٹ بنا دیا جاتا یا پھر پارلیمان کی تمام جماعتیں ایک نکتے پر متفق ہو جاتیں، لیکن ایسا نہیں ہوا، مجھے امید ہے کہ ایسا ہوجائے گا بصورت دیگر تصادم بڑھے گا۔”

دوسری جانب احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ ماضی میں ہمیشہ عدلیہ کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کھڑی نظر آتی تھی لیکن اس بار ایسا نظر نہیں آرہا اور اسی وجہ سے پارلیمان سے بھی عدلیہ مخالف ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ ماضی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ فوج پارلیمانی معاملات میں مداخلت کرتی تھی اور عدلیہ فوج کا ساتھ دیتی تھی جو غلط تھا۔ لہذٰا اب اداروں کو اس بات کا احساس کرنا ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کی حدود میں داخل نہ ہوں اور کوئی بڑا نقصان کرنے سے پہلے ہی کوئی مفاہمت کر لیں۔

عابد ساقی نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ عدلیہ کے ساتھ ہوتی تھی، حقیقت یہ ہے کہ عدلیہ اسٹیبلشمنٹ کا حصہ ہوتی تھی، ملک آزاد ہونے کے بعد بھی عدلیہ اسٹیبلشمنٹ کا حصہ رہی۔ اس دفعہ عدلیہ میں باقاعدہ تقسیم ہے جس کی وجہ سے 8 جج ایک طرف اور 7 ججز ایک طرف ہیں، اسی وجہ سے پارلیمنٹ کو اہمیت ملی اور انہوں نے اپنا اختیار منوایا۔

سہیل وڑائچ نے کہا کہ اس وقت عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر نہیں ہیں اس وقت چیف جسٹس اور کچھ ججز اسٹیبلشمنٹ سے دور نظر آرہے ہیں اور ان کی بات کو نہیں سن رہے اور ان کا جھکاؤ پاکستان تحریک انصاف کی طرف نظر آرہا ہے۔

احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ یہ پارلیمان کا موجودہ ردعمل اچھا بھی ہے اور برا بھی ہے، اس لحاظ سے اچھا ہے کہ عدلیہ اگر اپنی حد سے باہر نکلے تو اسے چیک کرنے والا کوئی ادارہ تو ہو، برا اس لحاظ سے کہ پارلیمنٹ میں جس طرح سے گفتگو ہورہی ہے وہ آئندہ کے لیے ایک مثال بن جاتی ہے۔

عابدساقی کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے کردار پر تو اُنگلیاں اُٹھائی جا رہی ہیں، لیکن پارلیمنٹ کا ماضی میں کردار قابلِ تعریف نہیں رہا، کیوں کہ پارلیمان نے بھی ایسی قانون سازی کی راہ ہموار ہوئی جس سے جمہوریت کمزور ہوئی۔اُن کے بقول سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں سترہویں ترمیم کا معاملہ ہو یا 2019 میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی یہ وہ معاملات ہیں جس پر پارلیمان کو کردار کچھ اچھا نہیں رہا۔

عابد ساقی کہتے ہیں کہ ـ "اس تناؤ کا اختتام نزدیک نظر آرہا ہے جس کے بعد سب اداروں کو اپنی حدود کا علم ہوجائے گا، ہر ادارے کو اپنی حد کا پتا چل جائے گا لہذا طاقت کے اس کھیل کو موجودہ وقت میں برا نہیں سمجھتا۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پارلیمان میں جوسخت تقاریر ہوئیں وہ اس لحاظ سے خطرناک ہیں کہ اگر ایسے ہی جھگڑا جاری رہا تو ایسا نہ ہو کہ تمام بساط لپیٹ دی جائے۔اُن کے بقول آنے والے دنوں میں امکان ہے کہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد دونوں اداروں کے درمیان موجود تناؤ کم ہوجائے گا۔

Related Articles

Back to top button