پنجاب کے شہری ایئرایمبولینس کیسے بلواسکتے ہیں؟

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے شہریوں کی سہولت کے لیے مفت ائیرایمبولینس سروس متعارف کروائی ہے جس میں دو سیسنا جہاز اور دو ہیلی کاپٹر شامل ہوں گے، ائیر ایمبولینس کے اخراجات 44 کروڑ کے قریب ہوں گے، جبکہ ہیلی کاپٹرز کا خرچہ اس کے علاوہ ہوگا۔ ریسکیو 1122 اور سول ایوی ایشن عملے کے تعاون سے تربیتی مشقوں کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔اس حوالے سے صوبائی حکومت کے مطابق تین چھوٹے جہاز اور دو ہیلی کاپٹر پنجاب میں ایمرجنسی ریسکیو کے لیے استعمال کیے جائیں گے جبکہ ریسکیو 1122 اور سول ایوی ایشن عملے کے تعاون سے تربیتی مشقوں کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ عوام کے لیے یہ سہولت مفت فراہم کی جا رہی ہے کیونکہ تمام اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ترجمان پنجاب حکومت عظمیٰ بخاری کے مطابق ’ماضی میں صرف اعلانات ہوتے رہے ہیں مگر وزیر اعلیٰ مریم نواز نے عہدہ سنبھالتے ہی پہلی تقریر میں ایئر ایمبولینس کی سہولت کا اعلان کیا اور ایک ماہ بعد ہی اس منصوبے کو عملی شکل دے دی گئی ہے۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن رہنما رانا آفتاب احمد کے مطابق ’ایئر ایمبولینس کی سہولت تو دی جا رہی ہے لیکن ہسپتالوں میں تو ادویات بھی موجود نہیں ہیں۔ دوسری جانب ترجمان ریسکیو 1122 پنجاب فاروق احمد کے بقول ’صوبے میں ایئرایمبولینس ایمرجنسی میں استعمال کے لیے عملے کی تربیت شروع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب کی جانب سے اس سروس کے لیے استعمال ہونے والی دو ایئر ایمبولینس کا ٹھیکہ نیلامی کے ذریعے 18 کروڑ روپے سالانہ میں سکائی ونگز نامی کمپنی کو دیا گیا ہے۔سابق ڈائریکٹر سول ایوی ایشن لاہور ذکاوت حسن نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی پہلا تجربہ نہیں۔ اس سے قبل ایدھی ویلفیئر کی جانب سے بھی یہ سہولت فراہم کی جاتی رہی ہے، لیکن ان کا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔’ایئر ایمبولینس کے جہازوں کی سول ایوی ایشن پارکنگ فیس وصول نہیں کرتا۔ البتہ عملے کی تنخواہیں، جہازوں میں استعمال ہونے والا پیٹرول (ہائی آکٹین) جو چار پانچ سو روپے لیٹر ہوتا ہے اس کے اخراجات ضرور ادا کرنا پڑتے ہیں۔اس بارے میں عظمیٰ بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایئر ایمبولینس چھوٹی جگہ پر لینڈ کر سکتا ہے۔ تین ایئر ایمبولینس اور دو ہیلی کاپٹر ریسکیو کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ پنجاب حکومت جون کے مہینے سے بلا معاوضہ ایئر ایمبولینس کو آپریشنل کر دے گی۔ترجمان ایمرجنسی سروسز ریسکیو 1122 پنجاب فاروق احمد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’پنجاب میں ایمرجنسی سروسز کے لیے ایئر ایمبولینسز کی ضرورت تھی۔ موجودہ حکومت نے اس منصوبے کو پہلی بار عملی شکل دے کر تربیتی سیشن بھی شروع کروا دیئے ہیں۔فاروق احمد کے بقول ’کئی اضلاع اور تحصیلوں میں چھوٹے ہسپتال موجود ہیں جہاں مریضوں کو ایک حد تک صحت کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ لہذا حادثات یا آفات میں شدید زخمی ہونے والے مریضوں کو بڑے شہروں کے بڑے ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس میں کم از کم چار گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ اس دوران کئی مریض حالت خراب ہونے پر راستے میں ہی دم توڑ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’سال 2023 میں 15 سے 40 مریضوں کو حالت زیادہ خراب ہونے پر بھکر، میانوالی اور بہاولنگر کے ضلعی ہسپتالوں سے بڑے ہسپتالوں میں منتقل کرنا پڑا جس میں سفر چار گھنٹے میں طے ہوا۔ اس لیے ایئر ایمبولینس یا ہیلی کاپٹر کی کمی محسوس کی گئی۔ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق ’ایک ایئر ایمبولینس میں دو پائلٹ، ایک مریض، ایک نرس اور ایک مریض کا رشتہ دار سفر کر سکے گا۔ چھوٹے جہاز اتارنے یا ہیلی کاپٹر اترنے کی جگہ کا تعین کرنے کے بعد آپریشن شروع ہوگا۔ چھوٹا جہاز موٹر وے، ہائی وے یا کسی کھلی جگہ اتارا جاسکے گا۔

Related Articles

Back to top button