سعودی اور ایرانی حکام کے پاکستانی دوروں کے پیچھے کیا چھپا ہے؟

عمران خان کے دور اقتدار میں عالمی تنہائی کا سامنا کرنے والا ملک خداداد پاکستان اس وقت سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے، رواں ہفتے سعودی عرب کا سب سے بڑااعلیٰ سطحی وفد مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرواتے ہوئے دورہ مکمل کر کے واپس جا چکا ہے جبکہ اب 22 اپریل کو ایرانی صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی 3 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں، ایرانی صدر کی آمد سے قبل ایرانی نائب وزرا پر مشتمل ایک بہت بڑا ایرانی وفد بھی پاکستان کا دورہ کر چکا ہے، جس نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور سرمایہ کاری بارے پاکستانی حکام سے مذاکرات کئے ہیں۔

دوسری جانب حالیہ دنوں میں ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد بھی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کر چکا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی چین کے ساتھ پروان چڑھتی ہوئی شراکت داری بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، چین پاکستان میں روڈ اینڈ بیلٹ انیشیٹو کے تحت اقتصادی راہداری کے کئی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔

پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی حیثیت کے بارے میں گفتگوکرتے ہوئے پاکستان کے سابق سفیر مسعود خالد کا کہنا ہے کہ جب بھی تزویراتی تناظر میں جنوبی ایشیاء کی جیو اکنامک صورت حال کے بارے میں بات ہو گی تو اس میں پاکستان بطور ایک اہم ملک کے سامنے آئے گا۔جنوبی ایشیاء کے دوسرے ممالک جن میں نیپال، بھوٹان، سری لنکا اور مالدیپ وغیرہ شامل ہیں وہ اپنے جغرافیے کی وجہ سے اہم ہیں جبکہ پاکستان ان سب ممالک کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فرض کیجیے 10 سال بعد پاکستان کے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر ہو جاتے ہیں اور پاکستان بھارت کو وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کے لیے راہداری مہیا کرتا ہے تو بھارت سمیت تمام وسط ایشیائی ریاستوں کی تجارت کا انحصار پاکستان پر ہو گا اور پاکستان صرف راہداری مہیا کرنے کی مد میں ہی اربوں ڈالر کما سکتا ہے۔سابق سفیر مسعود خالد نے کہا کہ خلیجی ممالک ہوں، چین یا امریکا سب کو پتا ہے کہ پاکستان کو ساتھ لے کر چلنا ہے، پاکستان میں ابھی خلیجی ممالک بھی آئیں گے اور خلیجی ممالک ہمارے لیے اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کیونکہ ہماری بہت ساری ورک فورس وہاں کام کرتی ہے جو ملک میں کثیر زرمبادلہ لے کر آتی ہے۔

سابق سفیر کا کہنا ہے کہ پاکستان کو امریکا سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہییں، امریکیوں کو پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مائل کیا جانا چاہیے۔ پاکستان ایک طرف ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے پر پیش رفت کر رہا ہے تو دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بڑھ رہے ہیں مبصرین کے مطابق یہ حقیقت ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے امریکا کے تعلقات قدرے متاثر ہو سکتے ہیں جس کی وجہ سے آئی ایم ایف پروگرام خطرات کی زد میں آ سکتا ہے۔

ڈاکٹر ابراہیم رئیسی کے منصب صدارت سنبھالنے کے بعد پہلے دورہ پاکستان بارے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین، امریکا، سعودی عرب، ایران کے وفود کا پاکستان آنا، اپنے وفود کو بھیجنا ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔اگر مختلف ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری اور مشاورت کے لیے آ رہے ہیں تو یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ایرانی صدر کے دورے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سید محمد علی نے کہا کہ ڈاکٹر ابراہیم رئیسی منصب صدارت سنبھالنے کے بعد کسی ملک کا جو پہلا دورہ کر رہے ہیں وہ پاکستان ہے جس سے پاکستان کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

Related Articles

Back to top button