حمزہ شہبازنے پیرول میں توسیع کیلئے درخواست دینے کی تردید کر دی

کوٹ لکھپت جیل سے پیرول پر رہا پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز نے پیرول میں توسیع سےمتعلق درخواست دینے کے امکان کو مسترد کردیا۔
لاہور میں جاتی امرا میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ پتھر دل والوں کو کون پیرول میں توسیع کی درخواست کون دے گا۔حمزہ شہباز نے حکومت کو مخاطب کرکے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی والدہ کلثوم بیگم کے انتقال پر سیاست کی گئی۔انہوں نے کہا کہ یہ وقت گزر جانا ہے جیسا کریں گے ویسا بڑھیں گے.حمزہ شہباز نے کہا کہ انتقام کی وجہ سے ملک کی سیاست تباہ ہو چکی ہے.
ایک مرتبہ پھر انہوں نے زور دیا کہ میرے خلاف ایک پائی بھی بتادیں جو ثابت ہو، ایسا ہرگز اس لیے نہیں ہوگا کہ یہ سب انتقامی کارروائیاں ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اللہ نے 22 برس بعد بیٹی سے نوازا تب میں باہر گیا اس پر بھی سیاست کی گئی اور میری دادی کی وفات پر بھی سیاست کی گئی۔حمزہ شہباز نے حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو عوامی غصہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی ریلی کو محض ریلی نہ سمجھا جائے بلکہ غربت اور مہنگائی کے مرے لوگوں کا غصہ ہے.
حمزہ شہباز نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی سونامی نے ہر گھر کو غربت اور بےر وزگاری میں ڈبو دیا ہے، پاکستانی عوام کو موجودہ حکومت کی صورت میں جو صدمہ ملا ہے وہ اس کو روک نہیں سکتے۔رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ یہ حکومت گرانے یا جانے کی بات نہیں ہے بلکہ پی ڈی ایم ایک نہ تھمنے والا طوفان ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی قیادت میں یہ ملک تباہ ہو رہا ہے اور مستقبل تاریخ ہے۔علاوہ ازیں حمزہ شہباز نے کہا کہ سعودی عرب جیسا برادر ملک پاکستان سے خفا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس دور میں اسٹیل ملز کے ساڑھے چار ہزار ملازمین فارغ کردیے گئے۔
خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو ان کی والدہ کے انتقال پر 5 دن کے لیے کوٹ لکھپت جیل سے پیرول پر رہا کر دیا گیا تھا۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور صوبائی کابینہ نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو 5 روز کے لیے پیرول پر رہا کرنے کی منظوری دی تھی جس کے بعد جیل حکام نے انہیں رہا کردیا۔
یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے 29 ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ میں آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد شہباز شریف کو گرفتار کیا تھا جبکہ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو بھی اسی کیس میں 11 جون 2019 کو گرفتار کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button