حکومت کو اوورسیز ووٹرز کی حمایت کا یقین کیوں ہے؟

عمران خان حکومت کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو الیکشن میں ووٹنگ کا حق دلوانے کی کوشش کے پیچھے بنیادی وجہ اسکا یہ یقین ہے کہ بیرون ملک بسنے والے زیادہ تر پاکستانی اسی کے ووٹرز ہیں۔
سرکاری اعدادو شمار کے عمیق تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ سخت مقابلے والے 20 قومی اسمبلی کے حلقوں میں اوورسیز ووٹرز فیصلہ کن کردرا ادا کرسکتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے ان 20 حلقوں میں تقریباً 7 لاکھ اوورسیز ووٹرز رجسٹرد ہیں، ان 20 اضلاع میں کل 10 ملین غیر ملکی ووٹرز میں سے 2.7 ملین سے زائد رجسٹرڈ ہیں۔ آئندہ الیکشن میں اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹوں کے اثرات کے بارے میں الجھن پائی جاتی ہے لیکن تجزیے بتاتے ہیں کہ تقریباً 7 لاکھ اوورسیز ووٹرز 20 گرما گرم مقابلے والے قومی اسمبلی کے حلقوں میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ 2018 کے الیکشن میں ان حلقوں میں جیتنے والوں کی فتح کا مارجن کافی کم تھا۔ سینئر صحافی زاہد گشکوری کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے 20 اضلاع میں مجموعی طور پر 2.7 اوور سیز ووٹرز درج ہیں جو ووٹ کا حق مل جانے کی صورت میں تحریک انصاف کے حق میں الیکشن نتائج پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
تقریباً دس ملین پاکستانی شہریوں کے پاس قومی شناختی کارڈ برائے اوورسیز پاکستانی ہیں جو 200 سے زائد ممالک میں آئندہ انتخابات میں انہیں اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔ اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں گشکوری نے صوبہ پنجاب کے چار اضلاع راولپنڈی، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور سیالکوٹ کے اہم حلقوں کو ایک نمونے کے طور پر لیا ہے جہاں اوورسیز ووٹرز کی بڑی تعداد موجود ہے۔ راولپنڈی ضلع میں قومی اسمبلی کے سات حلقوں میں مجموعی طور پر 406843 اوورسیز ووٹرز ہیں۔ تحریک انصاف اور اس کی اتحادی عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد نے 2018 میں ان سات میں سے چھ نشستیں جیتی تھیں جبکہ ایک نشست پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف کے حصے میں آئی تھی۔ ان میں سے کوئی بھی مقابلہ کانٹے کا نہیں تھا اور جیتنے والوں اور رنر اپ کے درمیان ووٹوں کا فرق 10 فیصد یا اس سے زیادہ کا تھا، سوائے این اے 57 کے جہاں مسلم لیگ (ن) کے شاہد خاقان عباس پی ٹی آئی کے امیدوار سے صرف 5 فیصد ووٹوں کے فرق سے ہارے۔
اگر بیرون ملک مقیم ووٹرز کو کپتان حکومت کی مجوزہ انتخابی اصلاحات کے نتیجے میں ووٹ ڈالنے کا حق مل جاتا ہے تو پی ٹی آئی ضلع راولپنڈی میں اوورسیز کے 28 ہزار سے 71 ہزار تک ووٹ حاصل کر کے اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر سکتی ہے تاہم اس کا انحصار اس امیدوار پر ہوگا جو میدان میں اترے گا۔
اسی طرح ضلع سیالکوٹ میں قومی اسمبلی کی پانچ نشستوں والے حلقوں میں کُل 357 700 ممکنہ بیرون ملک مقیم ووٹرز موجود ہیں۔ سیالکوٹ کے این اے 73‘ میں 2018 کے انتخابات میں پی ایم ایل این کے خواجہ آصف نے 4061 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ اس حلقے میں بھی 93, 372 اوورسیز ووٹرز موجود ہیں اور مختلف منظرنامے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس حلقے میں پی ٹی آئی کا۔امیدوار 6, 535 سے 16, 340 تک ووٹ حاصل کر سکتا ہے۔ اگر یہ منظرنامے سامنے آتے ہیں تو یہ نشست پی ٹی آئی کی طرف جھک سکتی ہے۔ سیالکوٹ کا ایک اور انتخابی حلقہ جو اوور سیز کے ووترز سے متاثر ہو سکتا ہے وہ این اے 74 ہے جہاں ووٹ کا تناسب صرف 2 فیصد ہے۔
ضلع گوجرانوالہ میں قومی اسمبلی کی چھ نشستیں ہیں اور یہ مسلم لیگ ن کا مرکز ۔انا جاتا ہے۔ ن لیگ نے 2013 اور 2018 میں یہاں کی تمام نشستیں آرام سے جیتیں اور ایسا لگتا ہے کہ اوورسیز ووٹروں کے اضافے کے ساتھ اس میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ضلع گوجرانوالہ میں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے درمیان ووٹوں کا فرق اڑھائی لاکھ سے اوپر کا ہے جو اوورسیز ووٹرز کی جانب سے ختم کیے جانے کا زیادہ امکان نہیں ہے۔
اسی طرح مسلم لیگ (ن) نے 2013 میں فیصل آباد سے مجموعی ووٹوں کے 57 فیصد ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم پی ٹی آئی نے 2018 میں ن لیگ کے ووٹ کو 2013 کے مقابلے میں 23 فیصد کم کیا۔ پی ٹی آئی نے 2018 کے الیکشن میں فیصل آباد کی دس میں سے چھ نشستیں جیتیں جبکہ مسلم لیگ ن صرف دو جیت سکی۔ 2013 کے کلین سوئپ کے باوجود فیصل آباد کو مسلم لیگ ن کا مرکز نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ اس نے وہاں سے 2008 میں بھی صرف تین نشستیں حاصل کیں۔ چنانچہ یہ ضلع نواز۔لیگ کے لیے آن اور آف رہا ہے اور اوورسیز منظرنامے کا اس ضلع میں نتائج پر خاص اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے ذوالفقار بھٹی نے این اے 91 سرگودھا میں پچھلے الیکشن میں صرف 78 ووٹوں کے فرق سے اپنی نشست جیتی تھی۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس حلقے کے کُل 511 807 ووٹوں میں سے 28879 (5.6%) اوورسیز ووٹ ہیں۔پی ٹی آئی کے ایم این اے خیال زمان نے ہنگو میں 728 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی جس میں 77563 تارکین وطن کے ووٹ ہیں جو کُل 305209 ووٹوں کا 25.4 فیصد ہے۔
اسی طرح وزیراعظم عمران خان نے این اے 131 لاہور میں مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق کو 756 ووٹوں کے فرق سے شکست دی جہاں اس حلقے کے کُل 409 541 رجسٹعڈ ووٹوں کے ساتھ 45074 یعنی 11 فی صد اوور سیز ووٹرز ہیں۔ وفاقی وزیر فہمیدہ مرزا نے اپنے حلقہ این اے 230 میں صرف 997 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ انکے حلقے بدین میں 1365 اوورسیز ووٹرز ہیں۔ پی ٹی آئی کے فیصل واوڈا نے این اے 249 کراچی میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو 723 ووٹوں کے فرق سے شکست دی جہاں 15 025 یعنی 4.4 فی صد اوورسیز ووٹرز 2018 میں رجسٹرڈ تھے۔
اس حلقے میں کُل 341, 394 ووٹ ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف کے حلقے این اے 73 سیالکوٹ میں 93, 371 یعنی 17.3 فی صد سے زائد تارکین وطن ہیں جن میں 538,482 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔2018 کے انتخابات میں اس حلقے میں فتح کا مارجن 4061 ووٹ رہا۔ وزیر مملکت فرخ حبیب نے این اے 108 فیصل آباد کی سیٹ 1, 275 ووٹوں کی برتری سے جیتی جبکہ فیصل آباد میں کُل 481462 ووٹوں میں سے 29, 469 یعنی 6.1 فیصد اوورسیز ووٹ تھے۔
