خدارا فوج سیاست میں مداخلت سے باز آجائے

سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ پاکستان میں واقعات کچھ ہوتے ہیں اورنتائج کچھ نکلتے ہیں،اور ان کو ہر شخص اور جماعت اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہے،صحافی ارشد شریف کو میں شہید ہی کہوں گا، جس طرح فوج کی ٹرینگ اور جنگ لڑنے اور دیگر محاذوں پرڈاکیومنٹریز بنانے ، گولیوں کے سامنے کھڑے ہو کر جو محنت کی اس لحاظ سے تو وہ قوم کے ایک ہیرو ہیں،جس نے فوج کے وقار اورکارکردگی کوختم کرنے والوں کو کرارا جواب دیا ۔
فیس بک پر ایک ویڈیو پیغام میں انکا کہنا تھا یہی کہانی پاکستان کے ان نوجوانوں ، سیاسی جماعتوں اور تحریکوں کی ہے جو پاکستان کیلئے مر مٹے تھے،عسکری قیادتوں نے شروع دن سے پاکستان کو ایک وار کیمپ کا ملک بنادیا، یہ اسلامی جمہویہ پاکستان سب فضول باتیں تھیں،پاکستان کو شروع سے ہی ایک وار کیمپ میں تبدیل کر دیا گیا،وہاں محب وطن بھی ہونگے اور ہم سے زیادہ محب وطن ہونگے لیکن وہ اس بات کے ٹھیکیدار بن گئے،انہوں نے کہا یہ ملک ہمارا ہے اور ہمارے لئے ہی بنا ہے، اورتم اس ملک کی رعایا ہو، تم جو بات کرتے ہوئے غلط کرتے ہو۔
انہوں نے کہا آج کے دور میں ایک بہت بڑا بیانیہ ہے کہ اگر ملک فوج کے پاس نہ ہو تو یہ محفوظ نہیں رہ سکتا،وہ جو مرضی کریں اگر پاکستان کو رکھنا ہے تو اس کو فوج کے پاس ہی رکھنا پڑے گا، کیوں کہ فوج ہی پاکستان کے وجود کی سب سے بڑی امین ہے،قوم اور اسٹیلشمنٹ کا پہلے دن سے شروع ہونے والا اختلاف یہی ہے ۔
جاوید ہاشمی نے کہا میں آج مسلم لیگی یا پی ٹی آئی رہنما کے طور پر نہیں بلکہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے بات کر رہا ہوں،ارشد شریف کی کینیا میں شہادت پر مختلف قسم کی بحث تو چل رہی کہ کیوں ہوا ، کیسے ہوا، میں خود پوری زندگی اس عذاب سے گزرا ہوں اور میرے اندر وہ تڑپ رہی ہے ، وہ سزا میں آج تک برداشت کررہا ہوں اور اپنے بچوں کو بھی دے رہا ہوں،نظام وہی ہے جو ہوتا تھا وہ ہوتا آ رہا ہے،بھارت ہمارے ساتھ آزاد ہوا اور وہاں آج جمہوریت چل رہی ہے ، انہوں نے وہ حالات دیکھے ہی نہیں،جموریت کیلئے پاکستانی قوم نے اتنی لمبی لڑائی لڑی ہے اگر ہندوئوں کویہ سب کرنا پڑتا تو وہ ایک ہزار سال کی اور غلامی لے لیتے لیکن جمہوریت کی بات بھی نہ کرتے۔
جاوید ہاشمی نے کہامیں فوج میں اس کلچر کی بات کررہا ہوں، ہر حکومت نے مجھے باغی بنایا اور جیلوں میں ڈالا، موجودہ وزیر اعظم کےوزارت اعلیٰ کے دور میں میں ہمارے گھروں کے باہر لوگ کلاشنکوف لے کر کھڑے رہے، ہم کلاشنکوفوں کے سائے میں 5 سال سوتے رہے ہیں، مجھ پر بارہا جسمانی تشدد کیا گیا، میں بتانا یہ چاہتا ہوں کہ وہ کسی کا خیال نہیں کرتے،اب ان کے بچےسامنے کھڑے ہوگئے ہیں ، ارشد شریف کا کرنل بھائی اور والدشہید ہوگئے، تو وہ انقلاب بچوں کو کھا رہا ہے، ارشد شریف تمام سیاسی جماعتوں پرتنقید کرتے تھے اور تنقید کے بغیر کوئی معاشرہ زندہ نہیں رہ سکتا، جو اختلاف کی آواز بلند کرتا ہے ، ایشوز کو سامنے لاتا ہے،وہی تو ہیرو ہے، وہی شہید ہے۔
انہوں نے کہامیں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے جا کر ارشد شریف کو مارا ہے، میں یہ کہہ رہا ہوں کہ وہ مشین موجود ہے اور وقت کے لحاظ سے آج زیادہ لیس ہے، ارشد شریف اسی راستے کا مسافر تھا جس میں آخری سانس شہادت کی ہوتی ہے، پہلے آپ نے بچہ بنا کر وہ تمام راز بتائے، اسٹیبلشمنٹ نے آج تک پاکستان کی جنگ نہیں لڑی ،اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ پہلے سیاست دانوں کو بنایا پھر انہیں مارا۔
انکا کہنا تھا میں نہیں سمجھتا کہ نواز شریف سیاستدان بعد میں بنے، عمران خان نے 40 سال کرکٹ کو دیئے، پھر آپ نے اس کو سیاستدان بنا کر ملک پر مسلط کر دیا ،اب بھگتو،حالات کا سامنا کرو، ہمارا سیاست میں کوئی کردار نہیں ،یہ سب اوپر کی باتیں ہیں، تاکہ پھر آکر ہماری گردن پر بیٹھ جائیں۔عمران خان اپنے ساتھ بیٹھے لٹیروں کی بجائے نواز شریف اور زرداری کی کرپشن بتا رہا ہے، اگر وہ کرپٹ ہیں تو سامنا کریں،جاوید ہاشمی تو ذمہ دار نہیں، وہ احتساب کیلئے سامنے کھڑے ہوں، نواز شریف جواب دیں ، وہ کیا آسمان سے اترے ہیں، زرداری صاحب کیا ساتویں آسمان سے آئے ہیں وہ بھی جواب دیں ، لیکن آپ بھی تو جواب دیں ، میرے ساتھ جو کچھ ہوا حیران ہوں کہ تمام مراحل سے نکل آج زندہ کیسے ہوں۔
جاوید ہاشمی نے کہا فوج کو نہیں کہہ رہا لیکن آج جو ہر کسی کو ننگا کر دیتا ہے ،جو یہ کرتا ہے کیا وہ ٹھیک کر رہا ہے،اگر یہ باتیں ہو رہی ہیں تو آپ سیاست سے نکل جائیں، کیا آپ نے ملک کو اس قابل چھوڑا کہ ارشد شریف یہاں رہتا، جب ارشد نے آپ کی طرف رخ کیا تو اس کی سٹیزن شپ تب ہی ختم ہوگئی تھی ،خدارا فوج سیاست میں مداخلت سے باز آجائے۔
