دو کرکٹ سیریز کی منسوخی سے پی سی بی کو 40 کروڑ کا نقصان

نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیموں کی جانب سے پاکستان کے دورے منسوخ کرنے کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو 40 کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے جس کا ازالہ ممکن نظر نہیں آتا۔ پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ٹیموں کے دورے نہ ہونے سے نقصان کی مالیت تقریباً 40 کروڑ روپے ہے، چونکہ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے ساتھ ہونے والی سیریز کے تمام مالی معاہدے ُبک ہو چکے تھے جو اب کینسل ہو گے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان ٹیلی ویژن کے درمیان 2020 سے 2023 تک کا معاہدہ ہے جس کی آمدنی ریوینیو شیئر ماڈل کے تحت ان دونوں اداروں میں تقسیم ہوتی ہے۔

پی سی بی کے نئے چئیرمین رمیز راجہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ مالی نقصان کے ازالے کے لیے آئی سی سی میں ایک پلیٹ فارم موجود ہے لہازا پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی کی ذیلی کمیٹی میں جائے گا جیسا کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ مانچسٹر ٹیسٹ نہ کھیلنے پر انڈین کرکٹ بورڈ کے خلاف اس کمیٹی میں گیا تھا۔ رمیز راجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ وائٹ کے اس بیان سے سب نے یہ اندازہ لگا لیا ہوگا جس میں اُنھوں نے کہا کہ ایک حد تک وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہونے والے مالی نقصان کو دیکھیں گے کیونکہ ’اُنھیں بھی پتہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ اُنھوں نے زیادتی کی اور یہ رقم اچھی خاصی ہوتی ہے‘۔ رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ جو پروٹوکول ہوگا وہ اس کی پیروی کریں گے اور اس کے لیے خوب لڑیں گے۔

رمیز راجہ نے واضح طور پر بتایا ہے کہ وہ کرکٹ بورڈ کو ہونے والے مالی نقصان کے ازالے کے لیے آئی سی سی کا راستہ ہی اختیار کریں گے جو ایک رکن کرکٹ بورڈ کر سکتا ہے۔ لیکن دوسری جانب وفاقی وزیر فواد چوہدری کی قانونی چارہ جوئی سے متعلق بات کا تعلق ہے تو یہ فی الحال پہلے قدم کے طور پر ایک سیاسی بیان معلوم ہوتا ہے جیسا کہ گذشتہ چند روز کے دوران متعدد وفاقی وزرا اور سیاست دانوں کی طرف سے سامنے آتے رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ قانونی چارہ جوئی کون کرے گا؟ پاکستان ٹیلی ویژن، پاکستان کرکٹ بورڈ یا خود حکومت؟ فواد چوہدری کی ٹویٹ سے فی الحال کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

رمیز راجہ اور فواد چوہدری نے اگرچہ مالی نقصان کے ازالے کے لیے اپنے اپنے طور پر جو طریقہ کار اختیار کرنے کی بات کی ہے اس میں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اگر کوئی کرکٹ بورڈ اپنی حکومت کی ہدایت پر کوئی سیریز کھیلنے سے انکار کرتا ہے تو پھر اس میں آئی سی سی بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ ہم ماضی میں دیکھ چکے ہیں کہ انڈین کرکٹ بورڈ پاکستان کے ساتھ نہ کھیلنے کا ہمیشہ ایک ہی جواز پیش کرتا رہا ہے کہ اسے اپنی حکومت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے انڈیا کے ساتھ آئی سی سی فیوچر ٹور پروگرام کے تحت ہونے والی چھ سیریز نہ ہونے پر ہونے والے چھ کروڑ 30 لاکھ ڈالرز کے مالی نقصان کے ازالے کے لیے آئی سی سی کی تنازعات سے متعلق کمیٹی سے رجوع کیا تھا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس کیس میں شکست ہو گئی تھی اور ایک بھی پیسہ ملنے کے بجائے وکیلوں کی فیس کی مد میں اسے 20 لاکھ ڈالر ادا کرنے پڑے تھے۔

موجودہ حالات میں پاکستان کرکٹ بورڈ مالی نقصان کے ازالے کے لیے یقینی طور پر نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ پر بھرپور دباؤ ڈال رہا ہے اور اس ضمن میں رمیز راجہ نے پہلے ہی دن ٹویٹ کی تھی کہ نیوزی لینڈ اب ہمیں آئی سی سی میں سنے گا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ اس مسئلے کا غیر جذباتی حل بھی چاہتا ہے۔ اسے یہ معلوم ہے کہ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کو آئندہ سال بھی پاکستان کا دورہ کرنا ہے لہٰذا وہ یہی چاہے گا کہ نیوزی لینڈ ٹیم اگلے سال پاکستان آئے اور اس منسوخ شدہ دورے کے میچز کو بھی ایڈجسٹ کیا جائے۔ تاہم رمیز راجہ اب انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی کسی بات کا اعتبار کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دے رہے اور یہ بات بظاہر اُنھوں نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ پر بھی واضح کر دی ہے۔

Back to top button