ریاست کے ہاتھوں صحافیوں کا اغواء کب ختم ہو گا؟

حال ہی میں لاہور سے دو صحافیوں کے دن دیہاڑے ایف آئی اے کے ہاتھوں اغواء کے بعد اب کراچی سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی وارث رضا کو ان کے گھر سے اغوا کے بعد رہا کر دیا گیا ہے ، وہ کئی گھنٹے تک غائب رہے ، اغوا کی ذمہ داری نہ تو پولیس اور نہ ہی کسی خفیہ ادارے نے اب تک قبول کی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ انہیں کسی خفیہ ادارے نے اغوا کیا تھا۔ دوسری جانب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے ان کی گرفتاری کے خلاف 23 ستمبر کو ملک گیر احتجاج کی کال دے دی ہے ، وارث رضا کے خاندان کا دعویٰ ہے کہ انھیں ’جمہوریت کی حمایت اور ہائبرڈ نظام کی مخالفت‘ کرنے پر حراست میں لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 62 سالہ وارث رضا ان دنوں اردو روزنامہ ایکسپریس سے وابستہ ہیں۔ وہ ماضی میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے سرگرم رکن اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے مرکزی سیکریٹری جنرل کے منصب پر فائز بھی رہ چکے ہیں۔ وارث رضا کی بیٹی اور عوامی ورکرز پارٹی کراچی کی سیکریٹری اطلاعات ام لیلیٰ رضا نے بتایا کہ یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب گلشن اقبال کے بلاک فور اے میں پیش آیا جب ان کے والد اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ رات پونے تین بجے کے قریب ایک سفید کرولا کار اور دو رینجرز کی گاڑیوں میں درجن بھر مسلح افراد آئے جن میں سول ڈریس والے نقاب پوش انکے والد سے مخاطب ہوئے۔ انھوں نے ان کا نام کی تصدیق کی۔ اس کے بعد ان کا موبائل فون اور بٹوا چھین لیا اور کہا کہ تفتیش کے بعد انھیں چھوڑ دیں گے۔‘ لیلیٰ رضا کے مطابق ان کے والد کو زبردستی اپنے ساتھ لے جانے والے افراد نے انھیں یہ نہیں بتایا کہ وہ کون ہیں اور ان کے والد کو کیوں حراست میں لیا گیا ہے۔ وارث کئی گھنٹے لاپتہ رہنے کے بعد گھر واپس آ گئے۔
سینیئر صحافی مظہر عباس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وراث رضا کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق انھیں پولیس نے گرفتار نہیں کیا۔ وارث رضا کے خاندان کا بھی یہی خیال ہے کہ انہیں خفیہ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے لوگ لے کر گئے ہیں۔ اسی لیے ان کے اہلخانہ کی جانب سے تاحال پولیس سے رابطہ نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے میں لیلیٰ رضا کا کہنا تھا کہ وہ اپنے وکیل سے رابطہ کر رہی ہیں۔ کراچی میں مبینہ ٹاؤن پولیس نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے جبکہ سندھ رینجرز کے ترجمان سے موقف جاننے کی کوشش کی گئی لیکن ان کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
وارث رضا کی پانچ بیٹیاں ہیں اور وہ گردے کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ لیلیٰ رضا کے مطابق گردے کی تکلیف کی وجہ سے وہ حال ہی میں پندرہ روز ہسپتال میں زیر علاج بھی رہے ہیں۔ لیلیٰ نے بتایا کہ ان کے والد پاکستان میں مستحکم جمہوری نظام کے حمایتی ہیں۔ وہ موجودہ نظام کو ’ہائبرڈ‘ سمجھتے ہیں اور اس کے ناقد ہیں اور موجودہ نظام کے خلاف فیس بک پر پوسٹس لکھتے رہتے تھے۔ پچھلے دنوں بھی انھوں نے ایکسپریس میں ایک سخت کالم لکھا تھا اور شاید اسی پاداش میں انہیں حراست میں لیا گیا تھا۔
وارث رضا نے 19 ستمبر کو روزنامہ ایکسپریس کے لیے جو تنقیدی مضمون لکھا تھا اس کا عنوان ’جمہوریت دشمن اقدامات‘ تھا۔ اس میں انہوں نے یہ تجویز دی تھی کہ ’صحافی، وکلا، انسانی حقوق کی تنظیمیں، طلبہ، ٹریڈ یونین اور سیاسی جماعتوں کو ایک مشترکہ تحریک جوڑنا ہوگی تاکہ جمہوریت کو تلپٹ کرنے والے ’ہائیبرڈ نظام‘ کا مکمل صفایا کیا جاسکے۔‘ پی ایف یو جے نے وارث رضا کو ’حراست میں لیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی‘ کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر حکومت سمجھتی ہے کہ چند لوگوں کی گرفتاری یا ان کے خلاف مقدمات سے سیاہ قوانین کے لیے راہ ہموار ہو گی تو یہ ان خام خیالی ہے۔‘
کراچی یونین آف جرنلسٹس نے بھی سینئر صحافی وارث رضا کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ کے یو جے کے صدر نظام الدین صدیقی اور جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وارث رضا ایک سینیئر صحافی ہیں جو پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا میں مختلف اداروں سے وابستہ رہے ہیں۔ ’انھوں نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی ملک میں آزادی صحافت کی 70 سالہ جدوجہد کو کتابی شکل میں لانے کا اہم کام بطور مدیر انجام دیا ہے۔ وہ آزادی صحافت اور اظہار رائے کے لیے اٹھنے والی ہر تحریک میں ہر اوّل دستے کا حصہ رہے ہیں۔ ان کی گرفتاری انتہائی تشویشناک ہے۔‘ کے یو جی کے مطابق وہ اس مبینہ گرفتاری کو آزادی صحافت پر حملہ تصور کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ملک میں اس وقت ہر اس توانا آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے جو آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتا ہے۔
اینکر پرسن حامد میر نے بھی وارث رضا کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انکی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے. وارث رضا سندھ کے ترقی پسند حلقوں میں بطور ایک اپ رائٹ صحافی پہچان رکھتے ہیں تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انہیں کس جرم میں اور کس نے گرفتار کیا ہے۔دوسری جانب وارث رضا کو جبری حراست میں لئے جانے کے خلاف صحافی تنظیموں نے ملک گیر احتجاج کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے 23 ستمبر سے ملک بھر کے صحافیوں کو احتجاج کی کال دے دی ہے۔
