سوشل میڈیا پر مفتاح اسماعیل کی دھلائی کیوں ہونے لگی؟

شاہد خاقان عباسی، مصطفی نواز کھوکھر، اسلم رئیسانی اور مفتاح اسماعیل کی نئی جماعت کی تشکیل کی خبروں بارے سوشل میڈیا پر بھی گرما گرم بحث جاری ہے۔ نون لیگ سے بغاوت کرنے والے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ’نئی وفاقی پارٹی‘ کے حوالے سے ٹوئٹ کرنے پر سوشل میڈیا صارفین کے نشانے پر ہیں اور لیگی کارکنوں کی طرف سے ان کی بھرپور دھلائی جاری ہے۔ مفتاح اسماعیل کی ’نئی وفاقی پارٹی‘ کے حوالے سے ایک ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کالم نویس نیاز مرتضیٰ نے لکھا کہ ’یہ پارٹی بہت دور تک نہیں جائے اگر اسے پنڈی یعنی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل نہ ہو۔انہوں نے مزید لکھا کہ ’شاہد خاقان عباسی اور مفتاح دونوں ن لیگ میں اصلاح پسند ہیں اور اچھا ہوگا کہ یہ وہیں رہیں اور پارٹی ان کے خیالات کو جگہ دے۔‘’
حال ہی میں پاکستان میں دو نئی جماعتوں کا ظہور ہوا ہے جس میں جہانگیر ترین کی استحکام پاکستان پارٹی اور پرویز خٹک کی پاکستان تحریکِ انصاف پارلیمینٹیرینز شامل ہیں۔جہانگیر ترین کی جماعت نے منسلک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فرحان ورک نے مفتاح اسماعیل کو مشورہ دیا کہ ’اگر مسلم لیگ نواز چھوڑ گئے ہیں تو ہماری استحکامِ پاکستانی پارٹی میں آجائیں۔ ہمیں آپ جیسے بھائیوں کی ضرورت ہے۔ بعد میں آپ کی مسلم لیگ نواز سے بھی صلح کروا دیں گے۔‘ایک صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کو چاہیے کہ نئی پارٹی بنانے کے بجائے پاکستان تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کر لینی چاہیے۔‘انہوں نے مزید لکھا کہ ’پی ٹی آئی کو وزیراعظم اور وزیرِ خزانہ کے امیدواروں کی ضرورت ہے۔ اس طرح پی ٹی آئی کے جیتنے کا دُکھ بھی کم ہوگا۔‘
مفتاح اسماعیل کے نئی پارٹی بنانے کے حوالے سے اشارے پر ن لیگ کے حامی غصے میں نظر آئے۔
خالد حسین تاج نے لکھا کہ ’جتنی عزت مسلم لیگ ن کی لیڈرشپ اور کارکنوں نے شاہد خاقان عباسی کو دی، چودھری نثار کے ہوتے ہوئے بھی عباسی کو وزیراعظم بنایا، 2018 کے الیکشن میں جب اپنے گھر کی سیٹ مری سے ہارے تو نواز شریف نے اپنے گھر کی سیٹ لاہور سے ایم این اے بنوایا۔‘انہوں نے مزید لکھا کہ ’مفتاح اسماعیل کی محبت میں مفتاح اسماعیل سب کچھ بھول گئے۔‘
ایک اور صارف نے لکھا کہ ’ایک وقت تھا جب مسلم لیگ نواز کے کارکنان کی اکثریت شاہد خاقان عباسی کو میاں نواز شریف کے بعد دوسری چوائس سمجھتے تھے مگر عباسی صاحب اب وہ مقام کھو چکے ہیں۔‘انہوں نے مزید لکھا کہ ’چودھری نثار کے بعد عباسی صاحب نے بھی مایوس کیا ہے۔ انہیں نئی جماعت کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے تو شوق پورا کرلیں۔‘دوسری جانب سینئر تجزیہ کار مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ شاہد خاقان عباسی، مصطفی نواز کھوکھر، اسلم رئیسانی اور مفتاح اسماعیل کا پی ٹی آئی میں شمولیت کا پکا ارادہ تھا تاہم 9 مئی کے واقعے کے بعد انہوں نے پی ٹی آئی میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا اور اب یہ ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیںمزمل سہروردی کا مزید کہنا ہے کہ یہ تمام سیاستدان اسٹیبلشمنٹ کے گھوڑے ہیں۔ ایک وقت تھا جب مصطفی نواز کھوکھر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بہت قریب تھے۔ بلاول سے قریبی تعلقات کی وجہ سے پنجاب سے ہونے کے باوجود سندھ سے سینیٹر بنے۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں کھوکھر نے بلاول سے اختلافات کی وجہ سے پیپلز پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی۔
مزمل سہروردی کا مزید کہنا تھا کہ عباسی وزارت عظمیٰ کے امیدوار تھے، اس حوالے سے ان کی اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان ملاقات بھی ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد عباسی نے شہباز شریف سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ فوج انہیں وزیراعظم دیکھنا چاہتی ہے۔تاہم شہباز شریف نے جواب دیا کہ فوج مجھ سے رابطہ کرے اور مجھے بتائے کہ کیا وہ وزیراعظم کے طور پر آپ کی نامزدگی چاہتی ہے۔مزمل سہروردی کے مطابق مفتاح اسماعیل نے مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر مریم نواز اور سابق وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف بھی بیانات دیے ہیں، اس لیے ان کے لیے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
دوسری طرف بعض دیگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور دیگر لوگ مختلف پارٹیوں سے تھے، انہیں ایک جگہ بٹھانے میں کہیں نہ کہیں بااثر لوگوں کا ہاتھ ہے۔ ریاست کے بزرگ یعنی شیشہ گر شاہد خاقان عباسی کے پیچھے کھڑے ہیں۔ چوہدری نثار کو بھی اسی طرح کا سبز باغ دکھایا گیا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ اگر چاہے تو مستقبل میں قرعہ شاہد خاقان عباسی کے نام کا بھی نکل سکتا ہے۔ تاہم بعض دوسرے تجزیہ کاروں کے مطابق جب سیمینارز میں مفتاح اسماعیل، مصطفیٰ نواز کھوکھر کے ساتھ مل کر شاہد خاقان عباسی نے آواز اٹھائی تو انہیں شاید احساس نہیں تھا کہ جس ناکامی کی وہ بات کر رہے ہیں وہ ان کی اپنی بھی ناکامی تھی۔ جب آپ نے اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا تو پھر آپ کو دوبارہ کیوں چانس دیا جائے؟
