سپریم کورٹ جسٹس شوکت صدیقی کو انصاف کیوں نہیں دے رہی؟


بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ تو سپریم کورٹ میں اپنی پٹیشن لگنے کے انتظار میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کو ایک خط میں یاد دلوایا ہے کہ ان کی اپنی برطرفی کے خلاف پٹیشن پچھلے دو سال سے زیر التوا ہے لہذا اس کا فوری فیصلہ کرنے کے احکامات صادر فرمائے جایئں۔
یاد رہے کہ شوکت عزیز صدیقی نے اپنی اپیل کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کے لیے چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کو یہ تیسرا خط لکھا ہے کیونکہ پہلے دو خطوط کا بھی کوئی جواب نہیں آیا تھا۔ دو صفحات پر مشتمل اپنے تیسرے خط میں شوکت عزیز صدیقی نے لکھا کہ ’ان خاص حالات میں، میں آپ سے عاجزانہ درخواست کرتا ہوں کہ معاملے پر جلد سماعت کے لیے عدالتی دفتر کو ضروری ہدایات جاری کریں‘۔ اس سے قبل 24 ستمبر کو سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے شوکت عزیز صدیقی کی بطور جج برطرفی کے 11 اکتوبر 2018 کے نوٹیفکیشن کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران سابق جج کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل حامد خان سے کہا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے حتمی فیصلہ کا انتظار کریں جو جلد ہی آنے والا ہوگا۔ بعد ازاں 23 اکتوبر کو جسٹس عیسیٰ کیس میں اکثریتی فیصلہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ جاری کیا گیا جبکہ 4 نومبر کو جسٹس مقبول باقر اور جسٹس سید منصور علی شاہ کے اختلافی نوٹس جاری ہوئے۔ عدالت عظمیٰ کے اس 5 رکنی بینچ نے سماعت کو ایک ماہ کے لیے ملتوی کردیا تھا۔ چیف جسٹس کے نام اپنے تازہ خط میں سابق جج نے لکھا کہ ایک عام شہری/قانونی چارہ جوئی کرنے والے کے لیے موجود حقوق کا ان کے لیے انکار نہیں کیا جائے گا اور ان کے ساتھ شخصی نقطہ نظر کے ذریعے عدالتی دفتر کی جانب سے امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔
یہ خط شوکت عزیز صدیقی بمقابلہ فیڈریشن آف پاکستان کے عنوان سے آئینی درخواست 2018/76 کے نمٹانے میں غیر ضروری طویل تاخیر سے متعلق ہے۔ خط میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ وہ 11 اکتوبر 2018 سے دفتر سے نکالے گئے اور انہیں دوبارہ ملازمت بھی نہیں دی گئی۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ یہ عالمی سطح پر قانون کا تسلیم شدہ اصول ہے کہ ’انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہوتی ہے‘۔ سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے لکھا کہ ’میرے کیس میں اس کی خاص مثال ملتی ہے جہاں بینچ کے واضح احکامات کے باوجود درخواست کو کبھی خود سے مقرر نہیں کیا گیا اور ہرمرتبہ میں نے تحریری درخواستوں کے ذریعے آپ تک رسائی حاصل کی‘۔ انہوں نے کہا کہ ’میری حیرانی اور مایوسی کو 2 ماہ سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے لیکن دفتر کی جانب سے درخواست کو مقرر کرنے سے متعلق کوئی کارروائی نہیں کی گئی‘۔
خیال رہے کہ شوکت عزیز صدیق کو 21 جولائی 2018 کو ڈسٹرک بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں ایک تقریر کے دوران آئی ایس آئی کے سیاسی کردار پر تنقید کرنے کے باعث آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارشات پر جوڈیشل آفس سے ہٹانے کی سفارش کی گئی تھی جسکے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان کو عہدے سے ہٹانے کی منظوری دی تھی۔
جولائی 2018 میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے آئی ایس آئی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں جبر اور خوف کی فضا قائم کرنے میں عدلیہ کا بھی کردار ہے۔ اس وقت میڈیا والے بھی گھٹنے ٹیک چکے ہیں اور سچ نہیں بتا سکتے۔ انہوں نے کہا تھا کہ میڈیا کی آزادی بھی بندوق کی نوک پر سلب ہوچکی ہے۔ عہدے سے جبری طور پر ہٹائے جانے کے بعد شوکت عزیز صدیقی نے کہا تھا کہ میرے لئے یہ فیصلہ غیر متوقع نہیں۔ میرا کیس کھلی عدالت میں چلانے کی استدعا نہیں مانی گئی، نہ ہی اس معاملے پر چھان بین کے لیے کوئی کمیشن تشکیل دیا گیا۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ اپنا تفصیلی مؤقف عوام کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔ جسٹس صدیقی کا کہنا تھا کہ تین سال پہلے سرکاری رہائش گاہ کی مبینہ تزئین و آرائش کے الزام میں چھان بین کی گئی تو کچھ نہ ملا۔ اب بار ایسوسی ایشن سے خطاب کو جواز بنا کر میرے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ میرے خلاف ریفرنس کا ایک بھی لفظ سچ نہیں۔ میں اللہ کے فضل و کرم سے اپنے ضمیر، اپنی قوم اور اپنے منصب کے تقاضوں کے سامنے پوری طرح مطمئن اور سرخرو ہوں۔
فیض آباد دھرنے سے متعلق نوٹس کی سماعت کرنے والے جسٹس شوکت عزیز صدیقی گذشتہ کئی سال سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جج کی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔ اُنھیں 21 نومبر2011 کو پنجاب کے کوٹے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پہلے ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا اور پھر اُنھیں مستقل جج مقرر کردیا گیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی اس وقت میڈیا میں خبروں کی زینت بننا شروع ہوئے جب اُنھوں نے وفاقی دارالحکومت میں قائم افغان بستیوں کو گرانے میں ناکامی اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر وفاقی ترقیاتی ادارے یعنی سی ڈی اے کے حکام کو جیل بھجوایا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف 3نومبر2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے بعد ججز کو نظر بند کرنے کے مقدمے میں پولیس حکام کو انسداد دہشت گردی کی دفعات کا اضافہ کرنے کا بھی حکم دیا جب پرویز مشرف ضمانت کے لیے ان کی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ عدالتی احکامات کے بعد سابق فوجی صدر کمرہ عدالت سے فرار ہو گئے تھے، بعدازاں پولیس نے اُنھیں حراست میں لے کر متعلقہ عدالت میں پیش کیا تھا۔ سابق فوجی صدر کی طرف سے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وکلا کی عدلیہ بحالی تحریک میں بھی شوکت عزیز صدیقی پیش پیش تھے۔ راولپنڈی پولیس کے مطابق اُنھیں اس وقت کی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے پر گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ شوکت عزیز صدیقی ان چند وکلا رہنماؤں میں سے تھے جنہیں اس وقت کے پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی قربت حاصل تھی۔
شوکت عزیز صدیقی جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بعد سنیئر ترین جج تھے، نے سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ مواد کا نوٹس بھی لیا تھا۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایف آئی اے کو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔ عدالتی حکم کے بعد ہی فیس بک کی انتظامیہ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور یقین دہانی کروائی تھی کہ آئندہ فیس بک پر پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ مواد نہیں لگایا جائے گا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ہی تحریک انصاف کو 2014 میں اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہویے اُنھیں دھرنا دینے سے روک دیا تھا۔ ان کا نام اس وقت بھی میڈیا میں آیا تھا جب انھوں نے ویلنٹائنز ڈے کے موقعے پر ہونے والی تقریبات پر پابندی عائد کر دی تھی۔ شوکت عزیز صدیقی کو جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں جج تعینات کیا گیا تو اس وقت افتخار محمد چوہدری پاکستان کے چیف جسٹس تھے۔ نومبر 2017 میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا تھا کہ ملک کے ادارے ہی ریاست کے خلاف کام کر رہے ہیں اور اگر فوجیوں کو سیاست کرنے کا شوق ہے تو وہ نوکری سے مستعفی ہو کر سیاست میں آئیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس دو رکنی بینچ کا بھی حصہ تھے جس نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے ممتاز قادری کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کو ختم کر دیا تھا تاہم انسداد دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے مجرم کو موت کی سزا دینے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔ جسٹس شوکت صدیقی عملی سیاست میں حصہ لے چکے ہیں اور انھوں نے جماعتِ اسلامی کے ٹکٹ پر راولپنڈی سے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button