شیخ مجیب کی بیٹی نے جرنیل کی بیوہ کو کیسے آؤٹ کیا؟

بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کی بیٹی شیخ حسینہ واجد اور سابق آرمی چیف جنرل ضیاء الرحمان کی بیوہ بیگم خالدہ ضیا کی جماعتوں کے مابین دہائیوں سے جاری دو جماعتی سیاسی جنگ میں بظاہر خالدہ ضیاء کو شکست ہو چکی ہے اور وہ کرپشن کیسز میں سزاوں کے بعد اب میدان سیاست سے آوٹ ہو چکی ہیں۔
خالدہ ضیا کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور حسینہ واجد کی حکمران جماعت عوامی لیگ ماضی میں یکے بعد دیگرے اقتدار میں آتی رہی ہیں۔ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء اور موجودہ وزیر اعظم حسینہ واجد دونوں دہائیون سے بنگلا دیشی سیاست پر چھائی رہی ہیں لیکن گذشتہ ایک دہائی سے خالدہ ضیا کی سیاسی طاقت کمزور پڑ گئی ہے۔ بی این پی کا یہ نعرہ ہے کہ خالدہ ضیا ہماری سربراہ ہیں، ضیا الرحمن ہمارا نظریہ ہے، طارق رحمن ہمارا مستقبل ہے۔ لیکن اب جبکہ خالدہ ضیا کی عمر 76 سال ہو چکی اور ان کی صحت بھی خراب ہے، انکا بیٹا طارق پارٹی کے نعرے کے مطابق انکا موثر سیاسی جانشین بنتا نظر نہیں آتا۔ اپنے خلاف کرپشن کیسز میں عدالتی سزاوں کے بعد خالدہ آئندہ انتخابات میں بھی حصہ نہیں لے سکیں گی۔ ان کے بیٹے اور سیاسی وارث طارق رحمن کو بھی مختلف مقدمات کا سامنا ہے اور وہ اس وقت لندن میں جلاوطن ہیں اور واپسی کے موڈ میں نہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اب خالدہ ضیا اور ان کے خاندان کا بنگلہ دیشی سیاست سے ناطہ ٹوٹ گیا ہے۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم خالدہ ضیا اور پچھلے سات برس سے برسرِ اقتدار شیخ حسینہ واجد دونوں سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کی باہمی چپقلش بیگمات کی جنگ کے نام سے مشہور ہے۔ ان دونوں خواتین کے باپ اور شوہر یعنی شیخ مجیب اور جنرل ضیا قتل ہونے کے بعد گویا انہیں باری باری وراثت میں وزارتِ عظمیٰ ملی۔ خالدہ ضیا سیاست میں آنے والے ایک فوجی جرنیل ضیا الرحمان کی اہلیہ ہیں، جنہیں 1981ء میں قتل کر دیا گیا تھا۔ حسینہ واجد، شیخ مجیب الرحمان کی بیٹی ہیں، جو ملک کے پہلے صدر تھے۔ شیخ مجب الرحمان کو 1975ء میں فوژ نے قتل کر دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش نے 1971 میں مشرقی پاکستان میں جنرل نیازی کی زیر قیادت پاکستانی فوجی آپریشن کے بعد بھارت کی مدد سے آزادی حاصل کی تھی۔ خالدہ ضیاء پہلے 1991ء سے 1996ء تک اور پھر 2001ء سے 2006ء تک بنگلہ دیش کی وزیر اعظم رہیں۔ وہ بنگلہ دیش کی پہلی اور بینظیر بھٹو کے بعد عالم اسلام کی دوسری خاتون وزیر اعظم رہیں۔ اپنے شوہر ضیاء الرحمٰن کے دور صدارت میں خاتون اول بنگلہ دیش بھی رہیں۔ وہ 1970ء کی دہائی میں قائم کردہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی یا بی این پی کی موجودہ سربراہ ہیں۔
خالدہ ضیا کا دعوی یے کہ انہیں حریف جماعت بھارت نواز بنگلہ دیش عوامی لیگ کی سربراہ اور وزیراعظم شیخ حسینہ کی جانب سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ خالدہ نے 2014ء کے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا جس کے باعث شیخ حسینہ ملک میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی تھیں اور مسلسل سات برس سے اقتدار میں ہیں۔ خالدہ کے خلاف عدالتوں میں بدعنوانی کے الزام میں 37 سے زائد کیسز درج ہیں جنہیں انکی جماعت سیاسی بنیادوں پر قائم کئے گئے مقدمات قرار دیتی ہے، خاکدہ کا کہنا یے کہ ان کیسز اور سزائوں کا مقصد حسینہ کا اقتدار مسلسل تیسری بار قائم کرنا ہے۔ یاد رہے کہ 2018 میں خالدہ ضیا کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت پانچ سال کی سزا سنائے جانے کے بعد مظاہرین اور پولیس میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ خالدہ گزشتہ ایک دہائی سے عدالتوں کا سامنا کرر ہی ہیں۔ ان کے خلاف ایک اہم مقدمہ بحیثیت وزیراعظم اختیارات کے غلط استعمال اور بد عنوانی کے الزام کے حوالے سے ہے۔ فروری 2018 میں اپنے مرحوم شوہر کی کی یاد میں قائم یتیموں کے ایک ٹرسٹ سے رقم خوردبردکرنے کے الزام میں انہیں 5 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، خالدہ ضیاء کے پاس ابھی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کا حق ہے، لیکن لگتا ایسا ہے کہ وقت ان کا ساتھ نہیں دے گا۔ان کے بیٹے طارق الرحمن کو بھی 10 سال قید کی سزا سنائی گئی جو اس وقت لندن میں ہیں۔ اس سزا کے باعث خالدہ ضیا 2018 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کا حصہ نہیں بن سکیں تھیں۔ یہ مقدمہ خالدہ ضیا کے خلاف قائم درجنوں مقدموں میں سے ایک تھا جو ان کے خلاف ان کی حریف موجودہ وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے قائم کیے۔
25 مارچ 2020 کو بنگلہ دیش کی حکومت نےجیل میں بند اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کو چھ ماہ کے لیے مشروط رہائی دینے کا اعلان کیا تھا، بشرطیکہ وہ گھر پر رہیں اور ملک چھوڑ کر نہیں جائیں۔خالدہ گزشتہ دو سال سے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں قائم بنگلہ بندُھو شیخ مجیب الرحمان میڈیکل یونیورسٹی کے جیل سیل میں قید تھیں۔ بڑھتی ہوئی عمر، فالج کا عارضہ اور حال ہی میں کرونا وائرس کا شکار ہونے والی خالدہ ضیا کو مستقبل کے سیاسی منظر نامے میں کوئی کردار نظر نہیں آتا۔ یوں ضیا الرحمن کا فوجی خاندان شیخ۔مجیب کی بیٹیمکے ہاتھوں بنگلہ دیش کی سیاست سے عملاً آوٹ ہونے جا رہا ہے۔
