عمران خان کا شیخ مجیب الرحمن والی ڈاکومنٹری بھگتنے کا امکان

سابق وزیر اعظم عمران خان کی 1971 کے سانحے کو آئیڈیل قرار دیتے ہوئے شیخ مجیب بننے کی خواہش ان کے گلے پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر حمود الرحمن کمیشن رپورٹ سے متعلق شیئر کی جانے والی ویڈیو پر نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ایف آئی اے اس سلسلے میں سابق وزیراعظم عمران خان، چئیرمین بیرسٹر گوہر، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن سے تحقیقات کرے گی۔تحقیقات میں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ پر مبنی ویڈیو شیئر کرنے کے ذمہ داران کون ہیں۔ ایف آئی اے سابق وزیر اعظم کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کے حوالے سے امور کا بھی جائزہ لے گی۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے اس امر کی تحقیق کرے گی کہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ سے ویڈیو کس نے، کیوں اور کیسے شیئر کی۔ذرائع کے مطابق ایف آئی ٹیم اِس بات کا تعین بھی کرے گی کہ ویڈیو ٹویٹ عمران خان نے خود کیا یا اُن کی اجازت سے کیا گیا۔ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ پاکستان مخالف پروپیگنڈا کس نے تیار کیا اور کس نے چلایا۔اگر اکاؤنٹ ہولڈر کی طرف سے ایسا کیا گیا تو اُن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ اگر ان کی طرف سے ایسا نہیں ہوا تو انہیں اپنا ایکس اکاؤنٹ غیر قانونی طور پر استعمال ہونے پر اپنا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کے لیے تحریری درخواست دینا پڑے گی۔ دوسری جانب عمران خان اس حوالے سے ہونے والی تحقیقات میں ایف آئی اے سے تعاون کرنے سے انکاری ہو گئے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ٹوئٹ کے معاملہ پر تفتیش کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی ایف آئی اے سائبر کرائم ٹیم رات گئے اڈیالہ جیل پہنچی تاہم جیل ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے ایف آئی اے کی ٹیم سے ملنے اور شامل تفتیش ہونے اور ٹیم کے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا۔بانی پی ٹی آئی نے ایف آئی اے ٹیم کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سوال کا جواب صرف وکلاء کی موجودگی میں دوں گا۔ ایف آئی اے ٹیم نے بانی پی ٹی آئی کا موقف تحریری طور پر حاصل کرلیاہے۔
تاہم اس صورتحال میں اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جیل میں موجود عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ کیسے آپریٹ کیا جاتا ہے؟ اور اس کے آپریٹنگ اختیارات کون، کس کے حکم پر استعمال کرتا ہے؟پاکستان تحریک انصاف کے ایک رکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ 9 مئی کے بعد پارٹی کی دیگر لوگوں کی طرح سوشل میڈیا ٹیم بھی روپوشی اختیار کیے ہوئے ہے تاہم وہ عمران خان سے بالواسطہ جبکہ پارٹی کے دیگر اہم رہنماؤں سے بلاواسطہ رابطے میں ہے۔ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا ٹیم عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں پارٹی بیانیہ تشکیل دیتی ہے اور اس حوالے سے عمران خان کے ساتھ ساتھ مختلف رہنماؤں کے ذریعے مشاورت بھی کی جاتی ہے۔
عمران خان کے اکاؤنٹ سے کون سا مواد شیئر ہوگا اس کا فیصلہ کون کرتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں پارٹی کے اہم رکن نے بتایا کہ عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے جو بھی مواد شیئر کیا جاتا ہے اس کی منظوری عمران خان سے لی جاتی ہے۔عمران خان وہ مواد تو نہیں دیکھ سکتے لیکن کس نوعیت کا مواد بنانا ہے اس حوالے سے ہدایات جاری کردیتے ہیں جن پر عمل ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ عمران خان اپنے اکاؤنٹ سے قوم کے نام جاری ہونے والا پیغام ملاقات کے لیے آنے والے رہنماؤں اور وکلا کے ذریعے سوشل میڈیا ٹیم تک پہنچاتے ہیں جبکہ واقعات اور اہم دنوں سے متعلق معمول کے پیغامات سوشل میڈیا ٹیم مشاورت کے بعد جاری کرتی ہے۔
تاہم یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت حمود الرحمن کمیشن پر ڈاکیومینٹری بنانے کا مقصد کیا تھا؟پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق حمود الرحمن کمیشن رپورٹ پر ڈاکیومینٹری بنانے کا فیصلہ عمران خان پر پنجاب حکومت کی جانب سے غداری کا مقدمہ بنانے کے بعد کیا گیا۔ذرائع بتاتے ہیں کہ جب پنجاب حکومت نے عمران خان پر غداری کا مقدمہ بنانے کے لیے کارروائی کی تو عمران خان کی ہدایت پر مذکورہ ڈاکیومینٹری بنائی گئی اور ان کے ایکس اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی۔
