قومی ائیرلائن تاریخی مالی بحران سے کیسے دوچار ہوئی؟

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز تاریخ کے بدترین بحران سے دوچار ہوگئی ہے، ائیرلائن عرصہ دراز سے مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، لیز اور قرضوں پر سود کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کی قومی ایئرلائن کے ساتھ کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے اب تعاون کرنے سے گریزاں ہیں، دوسری جانب بروقت مرمت نہ ہونے کی وجہ سے 11 جہاز گراونڈ کر دئیے گئے ہیں،31 جہازوں پر مشتمل پی آئی اے کا فلیٹ اب محض 18 طیاروں تک محدود ہو گیا ہے۔پی ایس او کے ساتھ ایندھن مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے ہر روز فلائٹ شیڈول متاثر ہونا معمول بن چکا ہے، پی آئی اے نے سعودی عرب کو 4 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے، 30 لاکھ ڈالر استنبول گراؤنڈ ایئر پورٹ کے واجب الادا ہیں جبکہ اڑھائی کروڑ ڈالر سے زائد رقم لیز پر حاصل کردہ طیاروں کی ادا کرنی ہے، اس کا ماہانہ خسارہ 12 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ مجموعی خسارہ 112 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔خدشہ ہے کہ اسے بند کرنا پڑے گا، علاج تجویز ہوا ہے کہ اس کی نجکاری کر دی جائے، سو آج کل اس کی نجکاری کا منصوبہ زیر غور ہے، یہ مالی بحران چند ہفتوں یا مہینوں کا قصہ نہیں، گزشتہ کئی برسوں سے پی آئی اے قومی خزانے پر بوجھ بنی ہوئی ہے، اس کا وجود برقرار رکھنے کے لئے حکومت کو اربوں روپے مہیا کرنا پڑتے ہیں۔جولائی 2020ء میں قومی ایئر لائن پر یورپ میں پابندی لگنے کی وجہ سے اربوں روپے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، یورپ اور برطانیہ جانے والی پروازوں پر بندش کی وجہ سے 187 ارب کا نقصان ہو چکا ہے جس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب مالی مشکلات کے باعث پی آئی اے کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی نہ ہوسکی، مہنگائی کے باعث تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے پی آئی اے ملازمین سخت پریشانی کا شکار ہیں، ایف بی آر کی طرف سے قومی ایئرلائن کے اکاؤنٹس منجمد کرنے سے پی آئی اے کو الگ مشکلات کا سامنا ہے، پی آئی اے کی تنظیم نو کے منصوبے کا اعلان تو گزشتہ حکومت نے کیا مگر اس منصوبے کو اب تک تکمیل تک نہیں پہنچایا جا سکا۔بین الاقوامی ادائیگیوں میں 720 ارب روپے سے زائد کی رقوم واجب الادا ہیں جس میں جہازوں اور انجن کے لیز کی رقم، انٹرنیشنل ہینڈلنگ، ایئرپورٹ چارجز اور قرضوں پر سود کی ادائیگیاں شامل ہیں، ملائیشیا اور انڈونیشیا سمیت دیگر ممالک میں قومی ایئرلائن کے جہازوں کو عدم ادائیگیوں کی وجہ سے روکا جاتا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تنظیم نو کے منصوبے پر عمل کرتے ہوئے پی آئی اے کو دو کمپنیوں میں تقسیم کرنے کیلئے اقدامات شروع کر دیئے گئے ہیں، پی آئی اے کی نجکاری کیلئے ضروری بیلنس شیٹ ری سٹرکچرنگ کیلئے مالی مشیرکی خدمات بھی طلب کر لی گئیں، پی آئی اے کی مالی تنظیم نو کیلئے مختلف منصوبوں پر مالی مشیر سے تجاویز لی جائیں گی، پی آئی اے کو دو کمپنیوں میں تقسیم کرنے یا پی آئی اے کو ایک ہولڈنگ کمپنی کے ماتحت ادارہ بنانے کی تجاویزشامل ہیں، ذرائع کے مطابق پی آئی اے کے تمام اثاثے بشمول جائیدادیں، تمام قرضہ جات، جہاز اور ملازمین نئی کمپنی کو منتقل کر دئیے جائیں گے۔
