مریم اور آصفہ نے نواز اور زرداری کی پریشانی دور کر دی

بے نظیر بھٹو شہید کی چھوٹی صاحبزادی آصفہ بھٹو زردسری کی سیاست میں انٹری کے بعد اب نواز شریف اور شہباز کی طرح آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی یہ پریشانی بھی ختم ہو گئی ہے کہ اگر ان دونوں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا جائے تو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کون کرے گا؟
ماضی میں نواز شریف کی نااہلی اور پھر علاج کی غرض سے لندن روانگی کے بعد کسی حد تک پارٹی صدر شہباز شریف نے معاملات سنبھالے لیکن جب انہیں بھی گرفتار کرلیا گیا تو نواز شریف کی بیٹی مریم نواز میدان میں اتریں اور اس خلا کو بہترین انداز میں پُر کیا۔ انہوں نے ایک خاتون یونے کے باوجود پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اپنے والد نواز شریف کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ جس دلیری سے آگے بڑھایا ہے اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال ملک کی دوسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی کی ہے جہاں سابق صدر آصف زرداری بیماری کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہیں تو بلاول کو کرونا وائرس سے لڑنا پڑ گیا ہے۔ ایسے میں بھٹو خاندان کی سب سے چھوٹی بیٹی مظلوم عوام کی آواز بننے کے لیے خم ٹھونک کر سیاست کی پرخار وادی میں اتر گئی ہے۔ 30 نومبر کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا ملتان میں ہونے والا حکومت مخالف جلسہ اس لحاظ سے تاریخی اہمیت اختیار کر گی کہ اس میں دو سابق وزرائے اعظم کی بیٹیوں نے اپنی پارٹی کی قیادت کی۔سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز تو نائب صدر کی حیثیت سے اکثر و بیشتر مسلم لیگ ن کی قیادت کرتی نظر آتی ہیں لیکن سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی چھوٹی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری کے سیاسی کیریئر کے پہلے بڑے جلسہ میں پارٹی کی قیادت کو غیر معمولی اہمیت ملی۔ آصفہ بھٹو نے اردو زبان میں نہایت شاندار تقریر کی اور بے نظیر بھٹو کی یادوں کو تازہ کر دیا۔
ماضی میں آصفہ بھٹو نے 2018 کے انتخابات میں اپنے والد اور بھائی کی انتخابی مہم میں حصہ لیا تھا لیکن وہ عملی سیاست سے دور رہیں۔ یہ آصفہ بھٹو کا باضابطہ طور پر کسی سیاسی جلسے سے پہلا خطاب تھا۔ اس سے قبل وہ 2018 کے عام انتخابات میں ہولوگرام کے ذریعے لیاری کے عوام سے خطاب کرچکی ہیں۔ وہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں ملک میں انسداد پولیو مہم کا حصہ بھی رہی ہیں۔ 30 نومبر پاکستان پیپلز پارٹی کا یومِ تاسیس ہے اور اس موقع پر آصفہ کا سیاست میں آنا کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ پی ڈی ایم نے اپنے جلسے کا اعلان تو قاسم باغ سٹیڈیم میں کیا تھا، لیکن انتظامیہ کی جانب سے سٹیڈیم میں جلسے کی اجازت نہ دینے، کنٹینرز لگا کر راستے سیل کرنے، موبائل سروس بند کرنے اور گرفتاریوں کے باعث گھنٹہ گھر چوک میں ہی جلسہ کرنا پڑا۔
اپنے دبنگ خطاب میں آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے خاندان اور پارٹی کی جانب سے دی گئی قربانیوں کا ذکر کرتے کہا کہ سلکیٹڈ حکومت کے ظلم و جبر کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔ آج عوام نے حکومت کے خلاف فیصلہ دے دیا، اب حکومت کو جانا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا میں ایک ایسے وقت پر آپ کے سامنے آئی ہوں جب پارٹی چیئرمین اور میرے بھائی بلاول کرونا وائرس میں مبتلا ہیں آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اس پارٹی کی بنیاد عوامی جمہوری اور فلاحی ریاست کے لیے رکھی تھی اور وہ اس مقصد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔
آصفہ نے خطاب کے دوران بھی وہی انداز اپنایا جس طرح محترمہ بے نظیر بھٹو کا ابتدائی ایام میں تھا۔پہلے خطاب کے باوجود بھی آصفہ کافی پر اعتماد دکھائی دیں اور انہوں نے آخر میں نعرے لگوا کر کارکنوں میں مزید جوش پیدا کیا۔ بلاول کی طرح آصفہ کا لہجہ بھی اردو زبان میں بی بی جیسا ہی ہے، اس لیے ان میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی جھلک زیادہ نظر آئی۔ وہ شکل وصورت کے لحاظ سے بھی بے نظیر بھٹو سے مشابہت رکھتی ہیں اس لیے کارکن بھی انہیں اپنی حقیقی لیڈر ماننے کو تیار نظر آتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ابھی آصفہ کو جماعت کے اندر اپنی جگہ بنانے میں وقت لگے گا، تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بھی مخصوص حالات میں پارٹی قیادت سنبھال سکتی ہیں۔ان کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ کارکنوں کو ان میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی جھلک دکھائی دینا ہوسکتی ہے۔آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے پہلے بڑے جلسے سے خطاب میں بھرپور خود اعتمادی سے خطاب کیا اور نعروں کے ذریعے کارکنوں میں جوش و ولولہ پیدا کردیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ محترمہ کے تینوں بچوں میں سے آصف علی زرداری کے سب سے قریب آصفہ رہیں اور ان کی سیاسی تربیت بھی مفاہمت کے بادشاہ سمجھے جانے والے آصف علی زرداری نے خود کی ہے، لہذا بلاول کے ساتھ آصفہ کو بھی مستقبل میں پارٹی قیادت کی ذمہ داریاں سونپے جانے کا قوی امکان ہے۔ پی ڈی ایم کی قیادت کی موجودگی کے موقع پر آصفہ بھٹو زرداری کو متعارف کرانا بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی کہ سیاسی شخصیات میں وہ اپنا مقام بنا سکیں۔
سینیئر صحافی حامد میر کے بقول آصف زرداری پیپلز پارٹی کو بلاول کے حوالے کر چکے ہیں اور بلاول نے پچھلے کچھ عرصے میں مفاہمت کا تجربہ کرکے دیکھ لیا ہے۔ آصفہ کو اپنی معاونت کے لیے سیاست میں لانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جارحانہ سیاست کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ آصف علی زرداری نے طبی وجوہات کی بنا پر پچھلے برس درخواست ضمانت دائر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بلاول سمیت پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنماﺅں نے بہت منت سماجت کی لیکن آصف زرداری آمادہ نہ ہوئے ۔بلآخر بلاول نے آصفہ سے مدد حاصل کی اور آصفہ نے اپنے والد کو درخواست ضمانت پر دستخط کے لیے راضی کیا۔
مریم نواز کے بعد آصفہ بھٹو کے میدان سیاست میں متحرک ہونے کو ملکی سیاست میں تازہ ہوا کا جھونکا اور نیگ شگون قرار دیا جا رہا ہے۔ اس طرح نواز شریف اور آصف زرداری کو بھی اپنی اپنی جماعتوں کے مسقبل کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں رہی۔
